کوالالمپور: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری ترسیل میں خلل کے باعث ملائیشیا میں پھلوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ...
کوالالمپور: مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور بحری ترسیل میں خلل کے باعث ملائیشیا میں پھلوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے، جہاں ماہرین کے مطابق قیمتیں 20 فیصد یا اس سے بھی زیادہ بڑھ سکتی ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق عالمی سپلائی چین متاثر ہونے کے نتیجے میں کھاد کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے مقامی کسان شدید دباؤ کا شکار ہو گئے ہیں۔ ملائیشین فروٹ گروورز ایسوسی ایشن کے صدر کوہ لائی آن نے بتایا کہ صرف دو ہفتوں کے اندر کھاد کے خام مال کی قیمتوں میں 100 سے 150 فیصد تک اضافہ ہو چکا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار رہی اور سپلائی متاثر ہوتی رہی تو کسانوں کو ایسی صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جہاں ان کے پاس مالی وسائل ہونے کے باوجود کھاد دستیاب نہیں ہوگی۔ اس سے زرعی پیداوار میں کمی کا خدشہ ہے، جو براہ راست مارکیٹ میں پھلوں کی فراہمی اور قیمتوں کو متاثر کرے گا۔
کوہ لائی آن کے مطابق بڑھتی ہوئی پیداواری لاگت کا بوجھ بالآخر صارفین تک منتقل ہوگا، جس کے نتیجے میں پھلوں کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ متوقع ہے۔ خاص طور پر برآمدی نوعیت کے پھل جیسے دوریان اور کٹھل زیادہ متاثر ہو سکتے ہیں کیونکہ ان کی ترسیل بیرون ملک ہوتی ہے اور انہیں شپنگ اور انشورنس کے بڑھتے ہوئے اخراجات کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مشرق وسطیٰ نہ صرف کھاد کے خام مال کی پیداوار کا اہم مرکز ہے بلکہ عالمی ترسیل کا بھی بڑا راستہ ہے۔ موجودہ کشیدگی کے باعث آبنائے ہرمز کے راستوں میں خلل پیدا ہوا ہے، جس سے عالمی تجارت متاثر ہو رہی ہے۔
رپورٹ کے مطابق مارچ کے وسط سے کچھ ملائیشین سپلائرز نے نئی کھاد کے آرڈرز روک دیے ہیں کیونکہ ترسیل میں غیر یقینی صورتحال بڑھ گئی ہے۔ اس صورتحال نے کسانوں کے لیے مستقبل کی منصوبہ بندی کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ بحران طویل عرصے تک جاری رہا تو نہ صرف ملائیشیا بلکہ دیگر خطوں میں بھی زرعی مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ عالمی سطح پر سپلائی چین میں رکاوٹیں خوراک کی قیمتوں میں اضافے کا باعث بن سکتی ہیں، جس کے اثرات عام صارفین تک پہنچیں گے۔
حالیہ مہینوں میں مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی تجارت اور لاجسٹکس کے نظام پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔ آبنائے ہرمز جیسے اہم راستوں میں رکاوٹ عالمی سطح پر اشیاء کی ترسیل کو متاثر کر رہی ہے، جس کے اثرات مختلف شعبوں بشمول زراعت پر بھی پڑ رہے ہیں۔
معاشی ماہرین کے مطابق موجودہ صورتحال اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ عالمی معیشت ایک دوسرے سے کس قدر جڑی ہوئی ہے، جہاں کسی ایک خطے میں پیدا ہونے والا بحران دنیا بھر میں قیمتوں اور سپلائی کو متاثر کر سکتا ہے۔

COMMENTS