کوالالمپور: ملائشیا اس وقت شدید گرمی کی غیر معمولی لہر کی زد میں ہے، جس نے نہ صرف انسانی صحت بلکہ زراعت اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کو بھی م...
کوالالمپور: ملائشیا اس وقت شدید گرمی کی غیر معمولی لہر کی زد میں ہے، جس نے نہ صرف انسانی صحت بلکہ زراعت اور روزمرہ استعمال کی اشیاء کو بھی متاثر کرنا شروع کر دیا ہے۔ درجہ حرارت میں خطرناک حد تک اضافے کے باعث ایسے واقعات بھی سامنے آئے ہیں جہاں گاڑیوں میں رکھے پلاسٹک کارڈز تک مڑ گئے۔
رپورٹس کے مطابق جزیرہ نما ملائیشیا کے شمالی علاقے، خاص طور پر کداح اور پرلس شدید ہیٹ ویو کی لپیٹ میں ہیں۔ حکام کے مطابق ان علاقوں میں درجہ حرارت مسلسل 37 سے 40 ڈگری سینٹی گریڈ کے درمیان ریکارڈ کیا جا رہا ہے، جبکہ کئی اضلاع میں درجہ حرارت تین دن یا اس سے زائد عرصے تک مسلسل بلند رہنے پر لیول 2 ہیٹ ویو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
محکمہ موسمیات کے اعداد و شمار کے مطابق کے بعض علاقوں میں 17 دن جبکہ پرلس میں 15 دن تک بارش نہیں ہوئی، جس کے باعث خشک سالی جیسی صورتحال پیدا ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ گرمی کا سلسلہ جنوب مغربی مون سون کے آغاز، یعنی جون تک جاری رہ سکتا ہے۔
یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ کداح کو ملائیشیا کا "رائس باؤل" کہا جاتا ہے، جہاں ملک کی بڑی مقدار میں چاول پیدا ہوتا ہے۔ موجودہ صورتحال میں چاول کے کھیت، جنہیں مقامی طور پر "پیدی" کہا جاتا ہے، تیزی سے خشک ہو رہے ہیں۔ ماہرین زراعت کا کہنا ہے کہ اگر پانی کی فراہمی متاثر رہی تو پیداوار میں نمایاں کمی واقع ہو سکتی ہے، جس سے کسانوں کی آمدنی بھی متاثر ہوگی۔
ملائیشیا پیڈی فارمرز برادرہڈ ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالرشید یوب نے کہا، "جب پیدی خشک ہو جاتی ہے تو پیداوار کم ہو جاتی ہے، اور جب پیداوار کم ہو تو کسانوں کی آمدنی متاثر ہوتی ہے۔" انہوں نے مزید کہا کہ شدید گرمی کے باعث پانی موجود ہونے کے باوجود کھیت تیزی سے خشک ہو رہے ہیں، جس سے فصل کی نشوونما متاثر ہو رہی ہے۔
دوسری جانب، عام شہری بھی اس شدید گرمی سے بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ ایک شہری شاکر سیرواندی نے کہا، "پرلس میں گرمی ناقابلِ برداشت ہو چکی ہے، اس بار صورتحال مختلف ہے، میں تقریباً بے ہوش ہو گیا تھا۔" سوشل میڈیا پر بھی کئی صارفین نے تصاویر شیئر کیں جن میں گاڑیوں کے اندر رکھے پلاسٹک کنٹینرز اور ٹول کارڈز گرمی کی شدت کے باعث مڑتے اور خراب ہوتے دکھائی دیے۔
وزارت صحت کے مطابق یکم جنوری سے 24 مارچ 2026 تک ملک بھر میں گرمی سے متعلق 15 کیسز رپورٹ ہوئے، جن میں 11 ہیٹ ایکزاسشن، ایک ہیٹ کرمپس اور 3 ہیٹ اسٹروک کے کیسز شامل ہیں۔ حکام نے ایک افسوسناک واقعہ بھی رپورٹ کیا جس میں ایک بچہ گاڑی میں چھوڑے جانے کے باعث جاں بحق ہو گیا۔
حکام نے عوام کو ہدایت دی ہے کہ وہ دوپہر 11 بجے سے شام 4 بجے کے درمیان غیر ضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں، زیادہ پانی پئیں اور اگر سر درد، چکر، تھکن یا متلی جیسی علامات ظاہر ہوں تو فوری احتیاطی تدابیر اختیار کریں۔ خاص طور پر بچے، بزرگ، دائمی امراض میں مبتلا افراد اور کھلے ماحول میں کام کرنے والے افراد کو زیادہ محتاط رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
شدید موسمی حالات کے پیش نظر مذہبی حکام نے بھی بارش کے لیے خصوصی نماز (صلوٰۃ الاستسقاء) ادا کرنے کی اپیل کی ہے۔ حکومتی سطح پر بھی اس حوالے سے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ عوام کو اس صورتحال سے محفوظ رکھا جا سکے۔
ماہرین موسمیات کے مطابق شمالی ملائیشیا میں درجہ حرارت نسبتاً زیادہ رہنے کی ایک وجہ انڈوچائنا کے گرم زمینی خطے کے قریب ہونا ہے، جبکہ کم بادل اور خشک موسم بھی اس شدت میں اضافہ کر رہے ہیں۔ آئندہ مہینوں میں خشک حالات کے باعث جنگلاتی آگ لگنے کے خطرات میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔

COMMENTS