کوالالمپور: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے عید سیزن سے ملک بھر میں غیر ملکی شہریوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے اور قانون نافذ کرنے کے اقداما...
کوالالمپور: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے عید سیزن سے ملک بھر میں غیر ملکی شہریوں کی سرگرمیوں پر کڑی نظر رکھنے اور قانون نافذ کرنے کے اقدامات کو مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے، تاکہ عوامی امن و امان کو یقینی بنایا جا سکے۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل، داتوک زکریا شعبان کے مطابق تعطیلاتی دنوں میں ایسے مقامات پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے جہاں غیر ملکی شہری بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اس لیے ضروری ہے کیونکہ ایسے اجتماعات بعض اوقات مقامی شہریوں کے لیے بے چینی کا باعث بن سکتے ہیں، خاص طور پر جب وہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ تفریحی مقامات کا رخ کرتے ہیں۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا، “ہم اکثر دیکھتے ہیں کہ غیر ملکی شہری مخصوص مقامات پر بڑی تعداد میں جمع ہوتے ہیں، جس سے مقامی افراد میں اضطراب پیدا ہو سکتا ہے۔ اسی لیے ہم نے فیصلہ کیا ہے کہ عید کے دوران ان علاقوں میں نگرانی کو مزید مؤثر بنایا جائے۔”
اس سے قبل محکمہ امیگریشن کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل (آپریشنز)، داتوک لقمان ایفندی راملی نے بھی اس بات پر زور دیا تھا کہ تمام کارروائیاں قانون کے مطابق اور ذمہ داری کے تحت انجام دی جا رہی ہیں تاکہ ملکی سلامتی اور عوامی نظم و ضبط کو برقرار رکھا جا سکے۔
حکام کے مطابق ان کا مقصد صرف ان افراد کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں، جبکہ قانون کی پاسداری کرنے والے غیر ملکی شہریوں کو کسی قسم کی پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب عیدالفطر کے دوران شہریوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد تفریحی مقامات، پارکس اور عوامی جگہوں کا رخ کرتی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے مواقع پر غیر معمولی رش کی وجہ سے سیکیورٹی خدشات بڑھ سکتے ہیں، جس کے پیش نظر پیشگی اقدامات ضروری ہیں۔
زکریا شعبان نے کہا کہ محکمہ کو اپنی کارروائیوں پر تنقید کا بھی سامنا رہا ہے، تاہم ان کا ماننا ہے کہ ملک کی اکثریت ان اقدامات کی حمایت کرتی ہے کیونکہ یہ عوامی تحفظ اور امن کو یقینی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ “ہماری ترجیح یہ ہے کہ شہری اور سیاح خود کو محفوظ محسوس کریں۔ اسی لیے ہم حساس علاقوں میں اپنی موجودگی کو بڑھا رہے ہیں تاکہ کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکے۔”
ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں اور سیاحوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جس کے باعث امیگریشن حکام کو وقتاً فوقتاً نگرانی اور کارروائیوں کو بڑھانا پڑتا ہے۔ خاص طور پر تہواروں کے دوران یہ اقدامات مزید اہمیت اختیار کر جاتے ہیں، جب عوامی مقامات پر رش بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے اقدامات اگرچہ سخت محسوس ہو سکتے ہیں، تاہم یہ عوامی نظم و نسق کو برقرار رکھنے اور ممکنہ خطرات کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

COMMENTS