کوالالمپور: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ملک بھر میں جاری آپریشن “اوپ پنتاؤ” کے تحت 3,826 غیر ملکی شہریوں کی جانچ پڑتال کی ہے، جس کا مقصد ا...
کوالالمپور: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے ملک بھر میں جاری آپریشن “اوپ پنتاؤ” کے تحت 3,826 غیر ملکی شہریوں کی جانچ پڑتال کی ہے، جس کا مقصد ان کے سفری دستاویزات اور قانونی حیثیت کی تصدیق کرنا تھا۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل، داتوک زکریا شعبان کے مطابق اس کارروائی دوران مجموعی طور پر 45 مختلف مقامات پر نگرانی اور چیکنگ کی گئی۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ یہ آپریشن ایک منظم حکمت عملی کے تحت انجام دیا گیا تاکہ قانون نافذ کرنے والے اقدامات مؤثر، منظم اور شفاف انداز میں مکمل کیے جا سکیں۔
انہوں نے مزید بتایا کہ اس مہم کا بنیادی مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ ملک میں مقیم تمام غیر ملکی شہری قانونی دستاویزات کے حامل ہوں اور امیگریشن قوانین کی مکمل پاسداری کریں۔ حکام کے مطابق اس طرح کی کارروائیاں غیر قانونی قیام، جعلی دستاویزات اور دیگر خلاف ورزیوں کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
داتوک زکریا شعبان کا کہنا تھا کہ محکمہ امیگریشن نہ صرف سختی سے قوانین پر عملدرآمد کو یقینی بناتا ہے بلکہ اس دوران انسانی پہلوؤں کو بھی مدنظر رکھتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر تہواروں کے دوران غیر ملکی شہری اپنے اہل خانہ سے دور ہوتے ہیں، اس لیے چیکنگ کے عمل کو حساسیت، پیشہ ورانہ مہارت اور احترام کے ساتھ انجام دیا جاتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ تمام کارروائیاں اس انداز میں کی جاتی ہیں کہ مقامی آبادی یا غیر ملکی شہریوں میں کسی قسم کی بے چینی یا خوف پیدا نہ ہو۔ “ہماری کوشش ہے کہ قانون کا نفاذ برقرار رکھتے ہوئے معاشرتی ہم آہنگی کو بھی قائم رکھا جائے،” انہوں نے کہا۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق “اوپ پنتاؤ” جیسے آپریشنز کا انعقاد وقتاً فوقتاً کیا جاتا ہے تاکہ ملک میں غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کی جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ عوامی مقامات، کاروباری مراکز اور رہائشی علاقوں میں غیر قانونی افراد کی موجودگی کو مؤثر طریقے سے کنٹرول کیا جا سکے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ملائیشیا جیسے ترقی پذیر ملک میں غیر ملکی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جس کے باعث امیگریشن قوانین پر سختی سے عملدرآمد نہایت ضروری ہے۔ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف قومی سلامتی کو مضبوط بناتی ہیں بلکہ معیشت اور لیبر مارکیٹ میں شفافیت کو بھی فروغ دیتی ہیں۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو حالیہ برسوں میں ملائیشیا نے غیر قانونی امیگریشن کے خلاف اپنی مہمات میں تیزی لائی ہے، خصوصاً تہواروں اور عوامی اجتماعات کے دوران نگرانی مزید سخت کر دی جاتی ہے۔ “اوپ پنتاؤ” بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کے ذریعے حکام مسلسل صورت حال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

COMMENTS