کوالالمپور: ملائشیا میں انڈین ریسٹورنٹ مالکان کی تنظیم نے حکومت پر غیر ملکی کارکنوں کی منظوری کے عمل میں امتیازی سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئ...
کوالالمپور: ملائشیا میں انڈین ریسٹورنٹ مالکان کی تنظیم نے حکومت پر غیر ملکی کارکنوں کی منظوری کے عمل میں امتیازی سلوک کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس پالیسی سے ملک بھر میں ریسٹورنٹس شدید متاثر ہو رہے ہیں۔
تنظیم کے صدر نے کہا کہ اس وقت انڈین ریسٹورنٹس کے لیے نہ تو نئے غیر ملکی ملازمین کی درخواستیں منظور کی جا رہی ہیں اور نہ ہی موجودہ ملازمین کے متبادل کی اجازت دی جا رہی ہے، جبکہ دیگر ریسٹورنٹ سیکٹرز کو یہ سہولت بدستور حاصل ہے۔
انہوں نے ایک بیان میں کہا، "جبکہ دیگر ریسٹورنٹس کو غیر ملکی ملازمین کی منظوری دی جا رہی ہے، انڈین ریسٹورنٹس کو مسلسل نظر انداز کیا جا رہا ہے، جو کہ واضح طور پر غیر مساوی پالیسی کی عکاسی کرتا ہے۔" ان کا کہنا تھا کہ اس صورتحال نے کاروباری برادری میں شدید تشویش اور سوالات کو جنم دیا ہے۔
تنظیم کو ارکان کی جانب سے بڑی تعداد میں شکایات موصول ہو رہی ہیں جن میں کہا گیا ہے کہ وہ غیر ملکی کارکنوں کے لیے درخواست جمع کروانے کے لیے اپائنٹمنٹ حاصل کرنے میں ناکام ہیں۔ مزید یہ کہ آن لائن پورٹل پر بھی سلاٹس دستیاب نہیں ہوتے، جس کے باعث درخواست کا عمل عملی طور پر رک چکا ہے۔
انہوں نے مزید کہا، "وآک اِن کی کوششیں بھی ناکام ہو رہی ہیں، جس کے باعث آجر کے پاس کوئی واضح راستہ نہیں بچتا کہ وہ اپنی درخواست آگے بڑھا سکے۔" انہوں نے اس صورتحال کو نہایت تشویشناک قرار دیا۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اس پالیسی کے باعث ملک بھر میں انڈین ریسٹورنٹس کو شدید افرادی قوت کی کمی کا سامنا ہے، جس سے نہ صرف روزمرہ آپریشن متاثر ہو رہے ہیں بلکہ صارفین کو فراہم کی جانے والی خدمات کا معیار بھی گر رہا ہے۔
مزید برآں، انہوں نے کہا کہ اگر اس مسئلے کو فوری طور پر حل نہ کیا گیا تو اس کے اثرات صرف ریسٹورنٹ انڈسٹری تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ سپلائی چین، فوڈ سپلائرز اور لاجسٹکس کے شعبوں پر بھی پڑیں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ نوجوانوں کی فوڈ اینڈ بیوریج سیکٹر میں دلچسپی بھی کم ہو سکتی ہے، جس سے کاروباری مواقع محدود ہوں گے۔
تنظیم نے خبردار کیا کہ مسلسل معاشی دباؤ اور روزگار کے مواقع کی کمی سماجی مسائل کو جنم دے سکتی ہے۔ "اگر یہ صورتحال برقرار رہی تو کچھ افراد غیر قانونی سرگرمیوں جیسے غیر قانونی قرض، منشیات یا دیگر غیر قانونی کاروبار کی طرف مائل ہو سکتے ہیں۔"
تنظیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ غیر ملکی کارکنوں کی منظوری کے نظام کا فوری جائزہ لیا جائے تاکہ اس عمل کو شفاف، منصفانہ اور ہر شعبے کے لیے یکساں بنایا جا سکے، اور کسی بھی قسم کے امتیازی سلوک کا خاتمہ ممکن ہو۔

COMMENTS