کوالالمپور: حکومت نے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق ایک اہم پالیسی فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 2026 کے وسط تک صارفین کی عمر کی تصدیق کیل...
کوالالمپور: حکومت نے سوشل میڈیا کے استعمال سے متعلق ایک اہم پالیسی فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ 2026 کے وسط تک صارفین کی عمر کی تصدیق کیلئے قومی شناختی کارڈ (آئی ڈی کارڈ) کا نظام متعارف کرایا جائے گا، جبکہ 16 سال سے کم عمر افراد پر سوشل میڈیا کے استعمال پر پابندی عائد کرنے کی بھی تیاری کی جا رہی ہے۔
ملائیشیا کے وزیر مواصلات فہمی فاضل نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ حکومت بچوں کے تحفظ اور آن لائن خطرات کو کم کرنے کیلئے سخت قوانین متعارف کرانے پر کام کر رہی ہے۔ ان کے مطابق نیا نظام سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر صارفین کی عمر کی تصدیق کو یقینی بنائے گا تاکہ کم عمر افراد کو غیر مناسب مواد اور سائبر خطرات سے بچایا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ “حکومت کا مقصد ایک محفوظ ڈیجیٹل ماحول فراہم کرنا ہے، خاص طور پر بچوں اور نوجوانوں کیلئے۔ اسی لئے ہم ایسے اقدامات کر رہے ہیں جن سے سوشل میڈیا کے استعمال کو ذمہ دارانہ بنایا جا سکے۔”
حکومتی منصوبے کے تحت، سوشل میڈیا اکاؤنٹ بنانے یا استعمال کرنے کیلئے صارفین کو اپنی شناخت کی تصدیق قومی شناختی کارڈ کے ذریعے کرنا ہوگی۔ اس اقدام کے ذریعے 16 سال سے کم عمر بچوں کی رسائی کو محدود کیا جائے گا، جو کہ خطے میں ایک بڑا اور نمایاں قدم سمجھا جا رہا ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب جنوب مشرقی ایشیا کے دیگر ممالک بھی سوشل میڈیا کے حوالے سے سخت قوانین متعارف کرانے پر غور کر رہے ہیں۔ مثال کے طور پر انڈونیشیا پہلے ہی 16 سال سے کم عمر افراد کیلئے سوشل میڈیا پر پابندی کا اعلان کر چکا ہے۔
تاہم اس مجوزہ پالیسی پر کچھ حلقوں کی جانب سے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں، خاص طور پر پرائیویسی اور نگرانی کے حوالے سے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شناختی کارڈ کے ذریعے تصدیق کا نظام اگرچہ بچوں کے تحفظ کیلئے مؤثر ہو سکتا ہے، لیکن اس سے شہریوں کے ذاتی ڈیٹا کے تحفظ پر سوالات بھی اٹھ سکتے ہیں۔
دوسری جانب حکومت کا مؤقف ہے کہ اس نظام کو متوازن انداز میں نافذ کیا جائے گا تاکہ سیکیورٹی اور پرائیویسی دونوں کا خیال رکھا جا سکے۔ وزیر مواصلات نے واضح کیا کہ متعلقہ ادارے اس پالیسی کے تمام پہلوؤں پر غور کر رہے ہیں اور اس کے نفاذ سے قبل مکمل فریم ورک تیار کیا جائے گا۔
حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر بچوں کی بڑھتی ہوئی موجودگی، آن لائن ہراسانی، فیک نیوز اور غیر مناسب مواد کے مسائل نے حکومتوں کو سخت اقدامات اٹھانے پر مجبور کیا ہے۔ ملائیشیا کا یہ اقدام بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے، جس کا مقصد ڈیجیٹل دنیا کو محفوظ بنانا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ نظام مؤثر انداز میں نافذ ہو جاتا ہے تو یہ نہ صرف بچوں کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوگا بلکہ دیگر ممالک کیلئے بھی ایک ماڈل بن سکتا ہے۔ تاہم اس کے عملی نفاذ اور عوامی ردعمل پر سب کی نظریں مرکوز ہیں۔

COMMENTS