کوالالمپور: ملائشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے کہا ہے کہ ملائیشیا کی گلوبل پیس انڈیکس میں بہتر درجہ بندی کوئی اتفاق نہیں بلک...
کوالالمپور: ملائشیا کے وزیر داخلہ سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے کہا ہے کہ ملائیشیا کی گلوبل پیس انڈیکس میں بہتر درجہ بندی کوئی اتفاق نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کا نتیجہ ہے، اور حکومت آئندہ برسوں میں ملک کو دنیا کے ٹاپ 10 پرامن ممالک میں شامل کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے بتایا کہ ملائیشیا اس وقت گلوبل پیس انڈیکس میں 13ویں نمبر پر ہے اور 13ویں ملائیشیا پلان کے تحت اسے مزید بہتر بنا کر نویں پوزیشن تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس مقصد کے حصول کے لیے قانون سازی، سکیورٹی اقدامات اور ادارہ جاتی اصلاحات کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے۔
سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے کہا کہ گلوبل پیس انڈیکس میں درجہ بندی کے لیے سینکڑوں عوامل کو مدنظر رکھا جاتا ہے، جن میں جرائم کی شرح، قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی، اور قوانین میں بہتری شامل ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ اگرچہ جرائم کا انڈیکس اہم عنصر ہے، تاہم دیگر کئی عوامل بھی اس درجہ بندی پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ بعض قوانین وزارت داخلہ کے دائرہ اختیار میں آتے ہیں جن پر فوری کام کیا جا سکتا ہے، تاہم ایسے قوانین بھی ہیں جو دیگر اداروں سے متعلق ہوتے ہیں، جن پر نظرثانی میں وقت درکار ہوتا ہے۔ اس کے باوجود حکومت مربوط حکمت عملی کے تحت تمام متعلقہ شعبوں میں بہتری لانے کے لیے کوشاں ہے۔
دریں اثنا، محمد خالد اسماعیل، جو کہ انسپکٹر جنرل آف پولیس ہیں، نے اپنے خطاب میں بتایا کہ ملائیشیا نے 2025 میں گلوبل پیس انڈیکس میں چار درجے بہتری حاصل کی، جس کے بعد ملک 13ویں نمبر پر آ گیا اور آسیان خطے میں دوسرے نمبر پر پہنچ گیا۔
انہوں نے بتایا کہ اس کامیابی کے پیچھے جرائم کی شرح میں 6.4 فیصد کمی اور ملک بھر میں سرحدی و سکیورٹی آپریشنز میں 9 ہزار کا اضافہ شامل ہے۔ ان کے مطابق مارچ 2025 سے مارچ 2026 کے دوران چند واقعات کے باوجود مجموعی سکیورٹی صورتحال مستحکم اور قابو میں رہی۔
ماہرین کے مطابق ملائیشیا کی یہ پیش رفت خطے میں امن و امان کے حوالے سے ایک مثبت اشارہ ہے، تاہم ٹاپ 10 ممالک میں شامل ہونے کے لیے مسلسل اصلاحات اور مؤثر پالیسی اقدامات ناگزیر ہوں گے۔

COMMENTS