کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے نظام کو جدید بنانے کے لیے ایک نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی تجویز سامنے آئی ہے، جس نے صنعتی ...
کوالالمپور: ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے نظام کو جدید بنانے کے لیے ایک نئے ڈیجیٹل پلیٹ فارم کی تجویز سامنے آئی ہے، جس نے صنعتی حلقوں میں کئی سوالات اور خدشات کو جنم دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت ایک نئے نظام پر غور کر رہی ہے جسے یونیورسل ریکروٹمنٹ ایڈوانس پلیٹ فارم کا نام دیا جا سکتا ہے۔
اس مجوزہ نظام کا مقصد غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی کے موجودہ نظام کو بہتر بنانا ہے، جو ماضی میں زیادہ اخراجات، پیچیدہ طریقہ کار اور کارکنوں کی فلاح و بہبود سے متعلق مسائل کی وجہ سے تنقید کا نشانہ بنتا رہا ہے۔ تاہم، صنعت سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ یہ نیا نظام حقیقی اصلاحات لانے کے بجائے بیوروکریسی میں مزید اضافہ بھی کر سکتا ہے۔
ملائیشین ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ ایمپلائمنٹ ایجنسیز، جو 700 سے زائد نجی ایجنسیوں کی نمائندگی کرتی ہے، نے اس تجویز پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ تنظیم کے نائب صدر سریش تان کے مطابق غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی ایک پیچیدہ عمل ہے جس میں دستاویزات، طبی معائنہ، ویزا، اور تربیت جیسے مراحل شامل ہوتے ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ اگر ایجنسیوں کا کردار کم کر دیا گیا تو ان تمام مراحل کی ذمہ داری کون اٹھائے گا۔ ان کے مطابق، "اگر کوئی کارکن ناموزوں ثابت ہو جائے یا فرار ہو جائے تو اس کا مالی بوجھ کون برداشت کرے گا اور متبادل کارکن کی فراہمی کیسے ممکن ہوگی؟"
سریش تان نے بین الاقوامی اداروں جیسے انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن اور انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن کی سفارشات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کا مقصد براہ راست بھرتی نہیں بلکہ نگرانی اور شفافیت کو بہتر بنانا ہوتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان اداروں کے اصولوں کے مطابق بھرتی کے اخراجات کارکنوں پر نہیں ڈالے جانے چاہئیں تاکہ استحصال سے بچا جا سکے۔
ملائیشیا میں اس وقت غیر ملکی کارکنوں کے انتظام کے لیے مختلف نظام پہلے سے موجود ہیں، جن میں فارن ورکر سنٹرلائزڈ مینجمنٹ سسٹم شامل ہے، جسے ایک نجی کمپنی چلاتی ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 31 دسمبر 2025 تک حکومت اس نظام کے تحت 2.35 ملین ورک پاسز کے اجرا پر 381 ملین رنگٹ سے زائد خرچ کر چکی ہے۔
اس کے علاوہ حکومت ایک بڑے پیمانے پر نیشنل انٹیگریٹڈ امیگریشن سسٹم بھی تیار کر رہی ہے، جس کی لاگت تقریباً 1.01 ارب رنگٹ بتائی جاتی ہے۔ یہ نظام بائیومیٹرک اور چہرہ شناختی ٹیکنالوجی کے ذریعے امیگریشن کنٹرول کو مضبوط بنانے کے لیے بنایا جا رہا ہے اور پرانے مائی آئی ایم ایم ایس سسٹم کی جگہ لے گا۔
ایسے میں صنعتی حلقوں نے سوال اٹھایا ہے کہ جب پہلے ہی اربوں رنگٹ کے دو بڑے نظام موجود ہیں تو ایک نئے پلیٹ فارم کی ضرورت کیوں پیش آ رہی ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ، "جب ورکر کی بھرتی کے لیے جدید سسٹمز پہلے سے موجود ہیں، تو ایک اور نظام متعارف کرانے کا مقصد کیا ہے؟ کیا اسے موجودہ نظام میں ضم نہیں کیا جا سکتا؟"
مزید برآں، محکمہ امیگریشن کے ذرائع کے مطابق نئے نظام کے تحت ایک غیر ملکی کارکن کو لانے کی لاگت 1,000 امریکی ڈالر (تقریباً 4,000 رنگٹ) تک ہو سکتی ہے، جس میں فضائی ٹکٹ سمیت دیگر اخراجات شامل ہوں گے۔ بعض اطلاعات کے مطابق سروس فیس ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر بھی ہو سکتی ہے، جس پر صنعت نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔
مقامی بھرتی ایجنسیوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ نظام لازمی قرار دیا گیا تو چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار پر مالی دباؤ بڑھے گا اور ان کے لیے متبادل کم لاگت والے ذرائع محدود ہو جائیں گے۔ ایک ایجنسی کے مطابق، "اگر ایک کارکن پر ابتدائی لاگت 6,000 رنگٹ تک پہنچ جائے تو یہ بہت سے کاروباروں کے لیے ناقابل برداشت ہو سکتی ہے۔"
سریش تان نے اس کے متبادل کے طور پر ایک "دو طرفہ ڈیجیٹل نظام" تجویز کیا، جو ملائیشیا اور کارکن فراہم کرنے والے ممالک کے درمیان لائسنس یافتہ ایجنسیوں کو جوڑے۔ ان کے مطابق، شفاف اور مسابقتی نظام ہی ملائیشیا کو انسانی اسمگلنگ کے خلاف عالمی درجہ بندی میں بہتر مقام دلانے میں مدد دے سکتا ہے۔
تاہم، اب تک وزارتِ انسانی وسائل کی جانب سے اس مجوزہ نظام، اس کی لاگت یا نفاذ کے ٹائم لائن کے حوالے سے کوئی باضابطہ اعلان نہیں کیا گیا، جس کے باعث غیر یقینی صورتحال برقرار ہے۔

COMMENTS