کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیر اعظم داتوک سری انور ابراہیم نے پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کرانے کی پیشکش کا خیرمقدم ...
کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیر اعظم داتوک سری انور ابراہیم نے پاکستان کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کرانے کی پیشکش کا خیرمقدم کرتے ہوئے اسے بروقت اور تعمیری اقدام قرار دیا ہے، جب کہ خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے تناظر میں اسے ایک مثبت پیش رفت بھی کہا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم انور ابراہیم نے ایک ویڈیو بیان میں کہا کہ پاکستان کی یہ پیشکش عالمی سفارتی کوششوں کو تقویت دے سکتی ہے۔ انہوں نے اپنے ہم منصب شہباز شریف اور دیگر ممالک خصوصاً عمان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ممالک کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کی راہ ہموار کرنے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی عالمی اسلامی دنیا میں ایک معتبر آواز کے طور پر حیثیت اور مختلف فریقین کے ساتھ اس کے تعلقات اسے اس قابل بناتے ہیں کہ وہ ایک مؤثر ثالث کا کردار ادا کر سکے۔ “یہ پیشکش ظاہر کرتی ہے کہ اب بھی سفارتکاری کے لیے جگہ موجود ہے، اور اس موقع کو سنجیدگی سے لینا چاہیے،” انہوں نے کہا۔
انور ابراہیم نے واضح کیا کہ ملائیشیا اس اقدام کی مکمل حمایت کرتا ہے اور امید ظاہر کی کہ امریکہ اور ایران دونوں اس پیشکش کو مثبت انداز میں قبول کریں گے۔ انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی ممکنہ مذاکرات کو خلوص نیت، واضح عزم اور تنازع کے مستقل حل کے مقصد کے ساتھ آگے بڑھایا جانا چاہیے، نہ کہ وقتی فائدے کے لیے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ ماضی کی طرح محض عارضی جنگ بندیوں پر اکتفا نہ کرے بلکہ ایک پائیدار اور دیرپا حل کی طرف پیش رفت کرے۔ “دنیا نے بہت سی ایسی جنگ بندیاں دیکھی ہیں جو صرف وقفہ ثابت ہوئیں، نہ کہ مسئلے کا حل۔ اب وقت ہے کہ ایک مستقل اور منصفانہ حل تلاش کیا جائے،” انہوں نے کہا۔
وزیر اعظم نے ایران کے حق خودمختاری کا بھی اعادہ کیا اور کہا کہ بین الاقوامی قوانین کے تحت ہر ملک کو اپنی خودمختاری کے تحفظ کا حق حاصل ہے، خاص طور پر ایسے حالات میں جب اسے بیرونی حملوں یا دباؤ کا سامنا ہو۔ تاہم، انہوں نے تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور کشیدگی کو مزید بڑھانے سے گریز کرنے کی اپیل بھی کی۔
انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطہ عالمی معیشت، سماجی استحکام اور طویل المدتی امن کے لیے نہایت اہم ہے، لہٰذا وہاں کے عوام کو کسی اور کے فیصلوں کا خمیازہ نہیں بھگتنا چاہیے۔
انور ابراہیم نے بین الاقوامی قوانین کے غیر مساوی اطلاق پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ قوانین کو یکساں طور پر نافذ کیا جانا چاہیے۔ “بین الاقوامی قانون کسی ایک فریق کو احتساب سے بچانے اور دوسرے کے حقوق کو نظر انداز کرنے کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے۔ اس کی ساکھ اس کی مستقل مزاجی پر منحصر ہے،” انہوں نے کہا۔
حالیہ دنوں میں امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جبکہ مختلف علاقائی اور عالمی طاقتیں اس تنازع کو کم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں تیز کر رہی ہیں۔ پاکستان کی جانب سے ثالثی کی پیشکش اسی تناظر میں سامنے آئی ہے، جسے عالمی سطح پر ایک مثبت قدم کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
وزیر اعظم نے بتایا کہ وہ حالیہ دنوں میں خلیجی تعاون کونسل، ترکی، مصر، انڈونیشیا، جاپان اور پاکستان سمیت مختلف ممالک کے رہنماؤں سے رابطے میں رہے ہیں تاکہ صورتحال کو بہتر طور پر سمجھا جا سکے اور کشیدگی کے خاتمے کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ملائیشیا انصاف، امن اور علاقائی استحکام کے لیے ہر ممکن سفارتی کوشش کی حمایت جاری رکھے گا۔

COMMENTS