کوتا بھارو: ملائیشیا کے شہر کوتا بھارو میں عیدالفطر کے موقع پر پاکستانی اور مقامی کلنتانی ثقافت کا ایک دلکش امتزاج دیکھنے میں آیا، جہاں ایک ...
کوتا بھارو: ملائیشیا کے شہر کوتا بھارو میں عیدالفطر کے موقع پر پاکستانی اور مقامی کلنتانی ثقافت کا ایک دلکش امتزاج دیکھنے میں آیا، جہاں ایک بین الاقوامی خاندان نے دونوں روایات کو یکجا کرتے ہوئے عید کی خوشیاں منائیں۔
تفصیلات کے مطابق 38 سالہ محمد ظاہر محمد قیوم، جو پاکستان کے شہر مردان سے تعلق رکھتے ہیں، گزشتہ 15 برسوں سے ملائیشیا میں عیدالفطر منا رہے ہیں۔ انہوں نے ایک مقامی خاتون نک روزنیدہ نک عبدالرشید سے شادی کے بعد نہ صرف یہاں مستقل سکونت اختیار کی بلکہ مقامی ثقافت کو بھی اپنایا۔
محمد ظاہر کے مطابق عیدالفطر کا موقع ان کے لیے اب صرف ایک مذہبی تہوار نہیں بلکہ دو مختلف ثقافتوں کے ملاپ کا خوبصورت موقع بن چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے گھر میں عید کے دن روایتی پاکستانی کھانے جیسے چپاتی، بریانی اور چائے کے ساتھ ساتھ ملائیشیا کے مقامی پکوان جیسے کیٹوپت، لیمنگ اور ستے بھی خصوصی طور پر تیار کیے جاتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ ابتدا میں ثقافتی فرق کو سمجھنا ایک چیلنج تھا، تاہم وقت کے ساتھ دونوں خاندانوں نے ایک دوسرے کی روایات کو قبول کر لیا۔ اب صورتحال یہ ہے کہ ان کے بچے دونوں ثقافتوں سے یکساں طور پر واقف ہیں اور عید کے موقع پر دونوں طرز زندگی کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔
ان کی اہلیہ نک روزنیدہ نک عبدالرشید کا کہنا ہے کہ بین الثقافتی شادی نے نہ صرف ان کے خاندان کو قریب کیا بلکہ انہیں مختلف روایات کو سیکھنے اور اپنانے کا موقع بھی دیا۔ انہوں نے کہا کہ عید جیسے مواقع پر یہ امتزاج مزید نمایاں ہو جاتا ہے، جہاں کھانے، لباس اور روایات سب ایک ساتھ جلوہ گر ہوتے ہیں۔
ملائیشیا جیسے کثیر الثقافتی معاشرے میں اس قسم کے خاندان معاشرتی ہم آہنگی کی بہترین مثال پیش کرتے ہیں۔ مختلف ثقافتوں کے درمیان روابط نہ صرف سماجی ہم آہنگی کو فروغ دیتے ہیں بلکہ نئی نسل کو برداشت، احترام اور تنوع کی اہمیت بھی سکھاتے ہیں۔
پس منظر کے طور پر دیکھا جائے تو ملائیشیا میں بین الاقوامی شادیاں کوئی نئی بات نہیں، تاہم حالیہ برسوں میں ان میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ خاص طور پر پاکستانی، انڈونیشین اور دیگر ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے افراد مقامی آبادی کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہو کر ایک نیا ثقافتی امتزاج پیدا کر رہے ہیں۔
محمد ظاہر کے خاندان کی مثال اس بات کو واضح کرتی ہے کہ مختلف ثقافتوں کے درمیان فاصلہ صرف روایات تک محدود ہوتا ہے، جبکہ محبت، احترام اور خاندانی اقدار انہیں قریب لے آتی ہیں۔ عیدالفطر جیسے مواقع اس ہم آہنگی کو مزید مضبوط کرتے ہیں اور ایک مثبت پیغام دیتے ہیں کہ تنوع ہی معاشرے کی اصل خوبصورتی ہے۔

COMMENTS