کوالالمپور: عالمی توانائی بحران اور بڑھتی ہوئی اقتصادی دباؤ کے پیش نظر گھر سے کام کرنے (ورک فرام ہوم) کے ماڈل کو موجودہ دور میں ایک مؤثر اور...
کوالالمپور: عالمی توانائی بحران اور بڑھتی ہوئی اقتصادی دباؤ کے پیش نظر گھر سے کام کرنے (ورک فرام ہوم) کے ماڈل کو موجودہ دور میں ایک مؤثر اور قابلِ عمل حکمتِ عملی قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین اور کاروباری رہنما اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اداروں کو لچکدار پالیسیوں کے تحت اپنے کام کے طریقہ کار خود طے کرنے کی آزادی دی جانی چاہیے۔
ملائیشیا میں ملائشین ایمپلائرز فیڈریشن (ایم ای ایف) کے صدر داتوک ڈاکٹر سید حسین نے کہا ہے کہ ہر کاروباری ادارے کو اپنی نوعیت، ضروریات اور کام کی نوعیت کے مطابق گھر سے کام کرنے کا طریقہ اختیار کرنے کی آزادی ہونی چاہیے۔ انہوں نے واضح کیا کہ مختلف صنعتوں کے ڈھانچے ایک دوسرے سے مختلف ہوتے ہیں، اس لیے ایک ہی پالیسی کو تمام شعبوں پر لاگو کرنا عملی طور پر مؤثر نہیں ہو سکتا۔
ان کا کہنا تھا، “ہماری تجویز یہ ہے کہ ہر ادارہ خود فیصلہ کرے کہ اس کے لیے کون سا طریقہ بہترین ہے۔ ہر صنعت اور کاروبار کی نوعیت مختلف ہوتی ہے، اس لیے ایک ہی حل سب کے لیے مناسب نہیں ہو سکتا۔”
مزید برآں، انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ہر قسم کا کام گھر سے انجام نہیں دیا جا سکتا، خاص طور پر وہ شعبے جہاں فزیکل موجودگی ضروری ہوتی ہے۔ تاہم، انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ جہاں ممکن ہو، وہاں ورک فرام ہوم کو اپنانا چاہیے تاکہ توانائی کے استعمال میں کمی اور اخراجات میں توازن پیدا کیا جا سکے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ملائیشیا کی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سرکاری ملازمین کے لیے 15 اپریل سے گھر سے کام کرنے کی پالیسی نافذ کی جائے گی، جس کی تفصیلات جلد جاری کی جائیں گی۔ اس اقدام کا مقصد نہ صرف توانائی کے استعمال کو کم کرنا ہے بلکہ عالمی سطح پر جاری معاشی دباؤ کا مقابلہ بھی کرنا ہے۔
علاقائی سطح پر بھی متعدد ممالک اسی طرز کی پالیسیوں پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔ انڈونیشیا نے حال ہی میں سرکاری ملازمین کے لیے ہفتے میں ایک دن گھر سے کام کرنے کی پالیسی نافذ کی ہے تاکہ کارکردگی بہتر بنائی جا سکے اور توانائی کی بچت ہو۔
اسی طرح تھائی لینڈ کے وزیر اعظم نے 10 مارچ کو حکومتی اداروں کو فوری طور پر ورک فرام ہوم اپنانے کی ہدایت جاری کی تھی تاکہ توانائی کے استعمال میں کمی لائی جا سکے۔
میانمر نے ہر بدھ کو ورک فرام ہوم لازمی قرار دیا ہے، جبکہ ویتنام نے کاروباری اداروں کو ملازمین کو گھر سے کام کرنے کی ترغیب دینے کا مشورہ دیا ہے، خاص طور پر اس لیے کہ ملک توانائی کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتا ہے۔
اسی طرح پاکستان نے ایندھن کی قلت کے باعث تعلیمی ادارے عارضی طور پر بند کیے ہیں اور دفتری ملازمین کو زیادہ تر گھر سے کام کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔ سری لنکا میں حکومت نے ہر بدھ کو عام تعطیل کا اعلان کیا ہے تاکہ ایندھن کی بچت ممکن بنائی جا سکے، جبکہ بنگلہ دیش بھی آن لائن کلاسز متعارف کرانے پر غور کر رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق، ورک فرام ہوم نہ صرف توانائی کی بچت میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے بلکہ ٹریفک کے دباؤ، ماحولیاتی آلودگی اور آپریشنل اخراجات میں بھی نمایاں کمی لا سکتا ہے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ انفراسٹرکچر، ڈیجیٹل سہولیات اور کارکنوں کی کارکردگی کو برقرار رکھنے جیسے چیلنجز بھی درپیش ہیں۔
حالیہ عالمی حالات، خاص طور پر مشرق وسطیٰ میں جاری کشیدگی، نے توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین میں خلل پیدا کیا ہے، جس کے باعث دنیا بھر میں حکومتیں اور ادارے متبادل حکمت عملیوں کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔

COMMENTS