کوالالمپور: ایک غیر ملکی مزدور کی عمارت کی سیڑھیوں میں سونے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہا...
کوالالمپور: ایک غیر ملکی مزدور کی عمارت کی سیڑھیوں میں سونے کی تصویر سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ملک بھر میں ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے، جہاں مقامی شہریوں نے اس عمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کے ممکنہ اثرات پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔
تفصیلات کے مطابق ایک مقامی وکیل، اعظم عزیز نے اپنے فیس بک اکاؤنٹ پر ایک تصویر شیئر کی جس میں ایک غیر ملکی مزدور کو عمارت کی سیڑھیوں میں فرش پر سوتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے اپنی پوسٹ میں دعویٰ کیا کہ مذکورہ مزدور ماہانہ تقریباً 1500 ملائیشین رنگٹ کماتا ہے، جس میں سے تقریباً 1000 رنگٹ وہ ہر ماہ اپنے اہل خانہ کو اپنے ملک بھیج دیتا ہے۔
وکیل کے مطابق یہ مزدور کرایہ بچانے کے لیے عمارت کی سیڑھیوں میں رہائش اختیار کیے ہوئے ہے اور اس نے عمارت کے سیکیورٹی گارڈ کے ساتھ ایک غیر رسمی معاہدہ بھی کر رکھا ہے تاکہ اسے وہاں سے نہ نکالا جائے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ مزدور اپنی روزمرہ ضروریات نہایت سادہ طریقے سے پوری کرتا ہے، جس میں کھانا قریبی کھانے کے اسٹال پر کام کرنے والے ساتھی مزدوروں سے حاصل کرتا ہے، جبکہ نہانے اور دیگر ضروریات کے لیے عمارت کے عوامی بیت الخلاء استعمال کرتا ہے۔
اعظم عزیز نے اپنی پوسٹ میں لکھا کہ اس مزدور کی زندگی انتہائی سادگی اور کفایت شعاری کی مثال ہے، تاہم یہ صورتحال کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔ انہوں نے کہا، “ہم میں سے اکثر لوگ اس طرح کی زندگی گزارنے کا تصور بھی نہیں کر سکتے، مگر بیرون ملک کام کرنے والے مزدور اکثر ایسے حالات کا سامنا کرتے ہیں۔”
یہ پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد ہزاروں صارفین نے اس پر اپنی رائے کا اظہار کیا۔ کئی افراد نے اس عمل کو مجبوری قرار دیا، جبکہ دیگر نے خدشہ ظاہر کیا کہ اگر مزید مزدور اسی طرز زندگی کو اپنانے لگے تو یہ ایک بڑا سماجی مسئلہ بن سکتا ہے۔
ایک صارف نے لکھا، “اگر یہ صرف ایک شخص تک محدود رہے تو شاید مسئلہ نہ ہو، لیکن اگر 200، 500 یا 1000 افراد اسی طرح رہنے لگیں تو یہ انتظامی اور سیکیورٹی مسائل پیدا کر سکتا ہے۔” ایک اور صارف نے کہا کہ “اگر کمپنیاں اپنے ملازمین کو مناسب رہائش فراہم نہیں کر سکتیں تو انہیں ایسے مزدوروں کو واپس بھیج دینا چاہیے۔”
کچھ شہریوں نے اس معاملے کو ملک کی ساکھ سے بھی جوڑا اور کہا کہ اگر غیر ملکی مزدور اس طرح عوامی مقامات پر رہائش اختیار کریں گے تو اس سے ملائیشیا کی بین الاقوامی شہرت متاثر ہو سکتی ہے۔ مزید برآں، بعض افراد نے یہ بھی نشاندہی کی کہ ایسے مزدور ٹیکس ادا کیے بغیر سرکاری سہولیات استعمال کرتے ہیں، جس سے ملکی معیشت پر بھی اثر پڑ سکتا ہے۔
دوسری جانب کچھ صارفین نے انسانی ہمدردی کے تحت اس مزدور کے حالات پر افسوس کا اظہار کیا اور حکومت و متعلقہ اداروں سے مطالبہ کیا کہ غیر ملکی مزدوروں کے لیے بہتر رہائشی سہولیات فراہم کی جائیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ ملائیشیا میں غیر ملکی مزدوروں کی بڑی تعداد کم اجرت اور محدود سہولیات کے ساتھ کام کرتی ہے، جس کے باعث وہ اخراجات کم کرنے کے لیے ایسے اقدامات پر مجبور ہو جاتے ہیں۔
یہ واقعہ ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ملائیشیا میں غیر ملکی مزدوروں کے حقوق، رہائش اور فلاح و بہبود کے حوالے سے پہلے ہی بحث جاری ہے۔ حکومتی سطح پر بھی اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے مختلف اقدامات زیر غور ہیں، تاہم زمینی حقائق اب بھی کئی چیلنجز کی نشاندہی کرتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق اگر اس مسئلے پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو مستقبل میں شہری نظم و نسق، سیکیورٹی اور سماجی ہم آہنگی کے مسائل مزید بڑھ سکتے ہیں۔

COMMENTS