پاسیر ماس: ملائیشیا کے ضلع پاسیر ماس میں چار غیر ملکی شہریوں کو عدالت نے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کی سزا سنا دی۔ ملزمان میں تی...
پاسیر ماس: ملائیشیا کے ضلع پاسیر ماس میں چار غیر ملکی شہریوں کو عدالت نے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانے کی سزا سنا دی۔ ملزمان میں تین بنگلہ دیشی اور ایک تھائی شہری شامل ہیں، جنہوں نے ملک میں زائد قیام اور غیر قانونی داخلے کے الزامات کو عدالت میں تسلیم کر لیا۔
عدالتی کارروائی کے مطابق، چاروں ملزمان کو سیشن کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں ان کی عمریں 25 سے 49 سال کے درمیان بتائی گئیں۔ سماعت کے دوران جب الزامات پڑھ کر سنائے گئے تو تمام ملزمان نے جرم کا اعتراف کر لیا، جس کے بعد عدالت نے فوری فیصلہ سنایا۔
استغاثہ کے مطابق، تین بنگلہ دیشی شہریوں پر ملائیشیا کے امیگریشن ایکٹ کی دفعہ 15(1)(سی) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا، جو غیر قانونی طور پر مقررہ مدت سے زائد قیام سے متعلق ہے۔ جبکہ ایک تھائی شہری پر اسی قانون کی دفعہ 6(1)(سی) کے تحت بغیر درست سفری دستاویزات ملک میں داخل ہونے کا الزام عائد کیا گیا۔
یہ کیس اس وقت سامنے آیا جب محکمہ امیگریشن ملائیشیا نے 29 مارچ 2026 کو ایک خصوصی آپریشن کے دوران ان افراد کو حراست میں لیا۔ حکام کے مطابق، ایسے آپریشنز ملک میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہیں، جن کا مقصد قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا اور ملکی سکیورٹی کو مضبوط بنانا ہے۔
عدالت نے تینوں بنگلہ دیشی ملزمان کو فی کس 10 ہزار رنگٹ جرمانہ ادا کرنے کا حکم دیا۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگر جرمانہ ادا نہ کیا گیا تو انہیں چار ماہ قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔ اسی طرح تھائی شہری پر 4 ہزار رنگٹ جرمانہ عائد کیا گیا، جس کی عدم ادائیگی کی صورت میں اسے دو ماہ قید کا سامنا کرنا پڑے گا۔
استغاثہ کی نمائندگی ڈپٹی پبلک پراسیکیوٹر سیتی خدیجہ خیرالدین نے کی، جبکہ تمام ملزمان عدالت میں بغیر وکیل کے پیش ہوئے۔ عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کسی صورت برداشت نہیں کی جائے گی اور ایسے عناصر کے خلاف سخت کارروائی جاری رہے گی۔
ملائیشیا میں گزشتہ چند برسوں سے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کریک ڈاؤن میں تیزی آئی ہے۔ حکومت نے بارہا واضح کیا ہے کہ جو افراد بغیر دستاویزات یا مقررہ مدت سے زائد قیام کرتے ہیں، ان کے خلاف قانونی کارروائی ناگزیر ہے۔ اس سلسلے میں مختلف ریاستوں میں آپریشنز کیے جا رہے ہیں، جن کے ذریعے ہزاروں افراد کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات نہ صرف ملکی سلامتی کے لیے ضروری ہیں بلکہ لیبر مارکیٹ کو منظم رکھنے میں بھی اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تاہم، بعض حلقے اس بات پر زور دیتے ہیں کہ غیر ملکی کارکنوں کے لیے قانونی راستے کو مزید آسان بنایا جائے تاکہ وہ غیر قانونی طریقوں کا سہارا نہ لیں۔
حکام نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو غیر قانونی سرگرمیوں کے بارے میں معلومات ہوں تو وہ فوری طور پر متعلقہ اداروں کو آگاہ کریں تاکہ بروقت کارروائی ممکن ہو سکے۔

COMMENTS