لنگکاوی: ملائیشیا کے سیاحتی جزیرے لنگکاوی میں ایک غیر ملکی ٹک ٹاکر کی جانب سے 80 فیصد دکانیں بند ہونے کے دعوے کو مقامی حکام اور سیاحتی صنعت ...
لنگکاوی: ملائیشیا کے سیاحتی جزیرے لنگکاوی میں ایک غیر ملکی ٹک ٹاکر کی جانب سے 80 فیصد دکانیں بند ہونے کے دعوے کو مقامی حکام اور سیاحتی صنعت سے وابستہ افراد نے مسترد کرتے ہوئے اسے گمراہ کن اور حقیقت کے برعکس قرار دے دیا ہے۔
پرساتؤان پینگیت انڈسٹری پیلانکونگان لنگکاوی (پی پی آئی پی ایل) کے چیئرمین راسیلی یحییٰ نے کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو نے جزیرے کے مرکزی تجارتی علاقے کواہ کے بارے میں منفی تاثر پیدا کیا، جو نہ صرف غلط ہے بلکہ سیاحت پر بھی منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ویڈیو میں دکھائی جانے والی کئی دکانیں وقتی طور پر بند تھیں، جس کی وجوہات میں تزئین و آرائش، آپریشنل مسائل یا ہفتہ وار تعطیلات شامل ہیں۔ ان کے مطابق یہ کہنا کہ 80 فیصد دکانیں بند ہیں، حقیقت سے بالکل بعید ہے کیونکہ لنگکاوی میں سیاحتی سرگرمیاں بدستور جاری ہیں۔
راسیلی یحییٰ نے مزید بتایا کہ جس شاپنگ سینٹر کو ویران دکھایا گیا، وہ دراصل پلازہ مارا ہے، جو ماضی میں ایک نمایاں تجارتی مرکز رہا اور اب اسے جدید ہوٹل میں تبدیل کرنے کے لیے اپ گریڈ کیا جا رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ منصوبہ لنگکاوی کی سیاحتی سہولیات کو بہتر بنانے کی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
انہوں نے ویڈیو میں کیے گئے اس دعوے کو بھی مسترد کیا کہ پیدل چلنے والوں کے راستوں پر پائپ لائنز خطرہ بن رہی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام یوٹیلٹی کام مقامی قوانین کے مطابق کیے جا رہے ہیں اور اس میں کسی قسم کی لاپرواہی شامل نہیں۔
اسی دوران مجلس پربندران لنگکاوی بندرایا پیلانکونگان (ایم پی ایل پی بی) کے صدر محمّد حمری عابدین نے بھی وضاحت کی کہ دکانوں کی بندش کا معاملہ بلدیہ سے متعلق نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر کوئی دکاندار اپنا کاروبار بند رکھتا ہے تو اس کی وجہ نجی کاروباری فیصلے ہو سکتے ہیں، نہ کہ حکومتی کارروائی۔
حکام نے اس معاملے پر سروہنجایا کمیونیکیسی دان ملٹی میڈیا ملائشیا (ایم سی ایم سی) سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی غلط معلومات کا جائزہ لے اور ضروری کارروائی کرے تاکہ عوام کو گمراہ ہونے سے بچایا جا سکے۔
واضح رہے کہ یہ ویڈیو تقریباً 2 منٹ 51 سیکنڈ دورانیے پر مشتمل ہے، جسے ایک غیر ملکی سیاح نے اپنے ٹک ٹاک اکاؤنٹ پر اپ لوڈ کیا تھا۔ ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ کواہ کا علاقہ غیر منظم ہے، بیشتر دکانیں بند ہیں اور انفراسٹرکچر ناقص حالت میں ہے۔
تاہم زمینی حقائق اور مقامی حکام کے بیانات اس کے برعکس تصویر پیش کرتے ہیں۔ سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد کا کہنا ہے کہ لنگکاوی بدستور ملکی اور غیر ملکی سیاحوں کے لیے ایک اہم اور متحرک مقام ہے، جہاں کاروباری سرگرمیاں معمول کے مطابق جاری ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا پر غیر مصدقہ معلومات تیزی سے پھیلتی ہیں، جس کے باعث کسی بھی سیاحتی مقام کی ساکھ متاثر ہو سکتی ہے۔ اسی لیے ضروری ہے کہ صارفین ایسی معلومات کو شیئر کرنے سے پہلے تصدیق کریں۔

COMMENTS