کوالالمپور: محکمہ امیگریشن نے ایک بڑی کارروائی کے دوران بنگلہ دیشی شہریوں کی اسمگلنگ میں ملوث ایک منظم گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے 30 افراد کو...
کوالالمپور: محکمہ امیگریشن نے ایک بڑی کارروائی کے دوران بنگلہ دیشی شہریوں کی اسمگلنگ میں ملوث ایک منظم گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے 30 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں مبینہ طور پر گروہ کے اہم کارندے بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق یہ کارروائی امپانگ کے علاقے میں واقع ایک گھر پر رات تقریباً 12:40 بجے کی گئی، جسے غیر قانونی تارکین وطن کے لیے عارضی پناہ گاہ اور ٹرانزٹ پوائنٹ کے طور پر استعمال کیا جا رہا تھا۔ چھاپے کے دوران ٹیم کو گھر میں داخل ہونے کے لیے مرکزی دروازہ اور گیٹ توڑنا پڑا، جس کے بعد مکمل تلاشی لی گئی۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتوک زکریا شابان نے بتایا کہ کارروائی کے دوران 27 بنگلہ دیشی شہریوں کو حراست میں لیا گیا، جن کے بارے میں شبہ ہے کہ انہیں حال ہی میں غیر قانونی طریقے سے ملک میں داخل کیا گیا تھا۔ ابتدائی معلومات کے مطابق یہ افراد تقریباً تین روز قبل ایک ہمسایہ ملک کے ذریعے ملائیشیا میں داخل ہوئے تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ تین دیگر بنگلہ دیشی افراد کو بھی گرفتار کیا گیا ہے، جو مبینہ طور پر اس نیٹ ورک کے رکن ہیں اور سہولت کار کے طور پر کام کر رہے تھے۔ یہ افراد نہ صرف تارکین وطن کی رہائش کا انتظام کرتے تھے بلکہ انہیں مختلف مقامات تک منتقل کرنے میں بھی ملوث تھے۔
زکریا شابان کے مطابق یہ گروہ، جسے غیر رسمی طور پر "گینگ اشرف" کے نام سے جانا جاتا ہے، جنوری 2025 سے سرگرم تھا اور غیر قانونی تارکین وطن کو تیسرے ممالک کے راستے ملائیشیا میں داخل کرنے کا کام کر رہا تھا۔ یہ نیٹ ورک خاص طور پر شمالی ریاست کیلانتن کے راستے افراد کو ملک میں داخل کر کے انہیں وادی کلانگ منتقل کرتا تھا۔
انہوں نے بتایا کہ ہر فرد سے تقریباً 8,000 ملائیشین رنگٹ وصول کیے جاتے تھے، جس کے نتیجے میں اس گروہ نے اب تک اندازاً 2.4 ملین رنگٹ سے زائد کی آمدنی حاصل کی۔ گرفتار افراد کی عمریں 20 سے 49 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
تمام گرفتار افراد کو مزید تفتیش کے لیے امیگریشن ڈیپو پتراجایا منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں ان کے خلاف انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حمل کے قوانین کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔ کیس کی تحقیقات انسداد انسانی اسمگلنگ اور مہاجرین کی غیر قانونی نقل و حمل ایکٹ 2007 کے تحت جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس کارروائی کا مقصد نہ صرف غیر قانونی تارکین وطن کے نیٹ ورک کو ختم کرنا ہے بلکہ ان عناصر کے خلاف بھی سخت کارروائی کرنا ہے جو ملک کی سکیورٹی اور قانونی نظام کو نقصان پہنچاتے ہیں۔ زکریا شابان نے واضح کیا کہ محکمہ امیگریشن کسی بھی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث افراد کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی پر عمل پیرا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس طرح کے نیٹ ورکس نہ صرف ملکی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں بلکہ انسانی حقوق کی سنگین پامالی کا باعث بھی بنتے ہیں۔ حکومت اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ایسے جرائم کے خاتمے کے لیے مسلسل کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ اس طرح کی کارروائیاں نہ صرف ملکی سلامتی کے لیے اہم ہیں بلکہ قانونی لیبر مارکیٹ کو بھی تحفظ فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی تعاون بھی ان کارروائیوں کی کامیابی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔

COMMENTS