کوالالمپور: ملائیشیا میں حکومت کے سبسڈی پروگرام بودی 95 (رون 95) کے تحت سستے پیٹرول کے حصول کے لیے بعض افراد کی جانب سے مختلف غیر قانونی ہتھ...
کوالالمپور: ملائیشیا میں حکومت کے سبسڈی پروگرام بودی 95 (رون 95) کے تحت سستے پیٹرول کے حصول کے لیے بعض افراد کی جانب سے مختلف غیر قانونی ہتھکنڈے استعمال کیے جانے کا انکشاف ہوا ہے، جس پر حکام اور پٹرول اسٹیشن انتظامیہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔
مقامی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شاہ عالم اور کوالالمپور کے مختلف پٹرول اسٹیشنز پر کیے گئے سروے میں سامنے آیا کہ کچھ افراد سبسڈی حاصل کرنے کے لیے ایک سے زائد شناختی کارڈز (آئی سی) استعمال کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ بعض افراد اپنے اہل خانہ، دوستوں اور رشتہ داروں کے شناختی کارڈز لا کر پیٹرول بھرواتے ہیں تاکہ زیادہ مقدار میں سبسڈی حاصل کی جا سکے۔
پیتالنگ جایا کے ایک پٹرول اسٹیشن کی سپروائزر، سیتی فاطمہ نورالدین (31 سال) نے بتایا کہ متعدد صارفین مختلف افراد کے شناختی کارڈز کے ساتھ آتے ہیں۔
انہوں نے کہا، “کچھ لوگ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اپنا شناختی کارڈ بھول گئے ہیں اور پھر اسٹیشن کے عملے سے ان کا کارڈ استعمال کرنے کی درخواست کرتے ہیں، جو قواعد کے خلاف ہے۔”
انہوں نے مزید انکشاف کیا کہ بعض غیر ملکی شہری بھی اس سبسڈی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں۔
“ہم نے ایسے کیسز بھی دیکھے ہیں جہاں غیر ملکی افراد مقامی خواتین کے شناختی کارڈ استعمال کر کے سبسڈی والا پیٹرول حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں،” انہوں نے کہا۔
رپورٹ کے مطابق، بعض صارفین اس پروگرام کے قواعد سے لاعلم بھی ہیں۔ کچھ افراد کا خیال ہے کہ شناختی کارڈ کے بغیر بھی قیمت یکساں رہتی ہے، جبکہ دیگر صارفین سبسڈی ختم ہونے پر پٹرول اسٹیشن عملے کو ذمہ دار ٹھہراتے ہیں۔
سیتی فاطمہ کے مطابق، ان غلط فہمیوں کو دور کرنے کے لیے پٹرول اسٹیشنز نے اضافی اقدامات کیے ہیں۔
انہوں نے بتایا، “ہم صارفین کو رسید پر درج تفصیلات، باقی ماندہ سبسڈی اور لیٹر کے حساب سے قیمت کا فرق سمجھاتے ہیں۔ اگر کوئی صارف مطمئن نہ ہو تو ہم اسے ایک ہی رقم کے ساتھ شناختی کارڈ کے ساتھ اور بغیر پیٹرول بھروا کر فرق دکھاتے ہیں۔”
دوسری جانب، شاہ عالم کے سیکشن 22 میں واقع ایک پٹرول اسٹیشن کے ملازم، ایمن (30 سالہ)، نے کہا کہ ان کے اسٹیشن پر اب تک اس قسم کی خلاف ورزی دیکھنے میں نہیں آئی، تاہم انتظامیہ کی جانب سے عملے کو سختی سے ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ حکومتی قواعد پر مکمل عمل درآمد یقینی بنائیں۔
اسی طرح ہائیکوم، شاہ عالم کے ایک اور ملازم علی (20 سالہ) نے بتایا کہ زیادہ تر صارفین قواعد پر عمل کرتے ہیں، تاہم بعض افراد سبسڈی کی مقدار اور قیمت کے تعین کے طریقہ کار کے بارے میں سوالات کرتے ہیں۔
انہوں نے کہا، “اگر کسی کے پاس شناختی کارڈ نہ ہو تو اسے موجودہ مارکیٹ ریٹ کے مطابق پیٹرول خریدنا پڑتا ہے، اور اب تک زیادہ تر صارفین اسی اصول پر عمل کر رہے ہیں۔”
یہ امر قابل ذکر ہے کہ ملائیشیا کی حکومت نے عوامی ریلیف کے لیے بودی مدانی رون95 پروگرام متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد صرف مستحق شہریوں کو کم قیمت پر ایندھن فراہم کرنا ہے۔ اس پروگرام کے تحت ہر اہل فرد کو مخصوص کوٹہ دیا جاتا ہے، جس کے بعد عام مارکیٹ ریٹ لاگو ہوتا ہے۔
پٹرول اسٹیشن مالکان کا کہنا ہے کہ سبسڈی کے غلط استعمال سے نہ صرف حکومتی وسائل پر دباؤ بڑھتا ہے بلکہ اصل مستحق افراد بھی متاثر ہوتے ہیں۔ اسی لیے حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ قواعد کی پابندی کریں اور کسی بھی غیر قانونی سرگرمی سے گریز کریں۔
حکام کے مطابق، اگر اس طرح کی خلاف ورزیاں جاری رہیں تو مستقبل میں نگرانی مزید سخت کی جا سکتی ہے، جس میں شناختی تصدیق کے جدید نظام بھی شامل ہو سکتے ہیں۔

COMMENTS