کوالالمپور: ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن (ایم اے سی سی) نے رشوت لینے کے الزام میں ایک پولیس افسر اور ایک کانسٹیبل کو گرفتار کرکے ریمانڈ پر لے ...
کوالالمپور: ملائیشین اینٹی کرپشن کمیشن (ایم اے سی سی) نے رشوت لینے کے الزام میں ایک پولیس افسر اور ایک کانسٹیبل کو گرفتار کرکے ریمانڈ پر لے لیا ہے۔ دونوں اہلکاروں پر الزام ہے کہ انہوں نے تقریباً 10 ہزار رنگٹ رشوت لے کر چار مساج پارلر ورکرز کو رہا کیا، جو مبینہ طور پر سوشل وزٹ پاس پر کام کر رہے تھے۔
ایم اے سی سی کوالالمپور کے ڈائریکٹر محمد ذکوان طالب نے گرفتاری کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ کیس کی تحقیقات ایم اے سی سی ایکٹ 2009 کی سیکشن 17(اے) کے تحت کی جا رہی ہیں۔ مجسٹریٹ ارون جوتھی ایم سیلوا راجو نے ملزمان کو پانچ روزہ ریمانڈ پر بھیج دیا ہے، جو 17 اپریل 2026 تک جاری رہے گا۔
ذرائع کے مطابق دونوں ملزمان، جن کی عمریں تقریباً 30 سال کے قریب بتائی جاتی ہیں، کو کوالالمپور کے مختلف علاقوں اور ایم اے سی سی دفتر سے دو مختلف اوقات میں گرفتار کیا گیا۔ پہلی گرفتاری رات تقریباً 11 بجے جبکہ دوسری صبح 5 بجے عمل میں آئی۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق دونوں اہلکاروں نے 12 اپریل کو مبینہ طور پر اس جرم کی منصوبہ بندی کی اور اسی دن رشوت وصول کی۔ ذرائع کے مطابق، ملزمان نے صبح کے وقت تقریباً 7 ہزار رنگٹ نقد وصول کیے جبکہ باقی 3 ہزار رنگٹ رات کے وقت لیے گئے، جس کے بعد انہیں ایم اے سی سی نے حراست میں لے لیا۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ بدعنوانی کے خلاف جاری اقدامات کا حصہ ہے اور اس میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔ اس کیس نے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر احتساب کے عمل کی اہمیت کو ایک بار پھر اجاگر کیا ہے۔
واضح رہے کہ ملائیشیا میں سوشل وزٹ پاس پر کام کرنا غیر قانونی ہے، اور اس طرح کے معاملات میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کی جاتی ہے۔ حکام کی جانب سے اس حوالے سے بارہا انتباہ جاری کیا جا چکا ہے۔

COMMENTS