کوالالمپور: ملائیشیا میں صحافیوں کی گرفتاری کے حالیہ واقعات پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں ملائیشین بار نے کہا ہے کہ میڈیا کو ہر قسم کے خو...
کوالالمپور: ملائیشیا میں صحافیوں کی گرفتاری کے حالیہ واقعات پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے، جہاں ملائیشین بار نے کہا ہے کہ میڈیا کو ہر قسم کے خوف، دباؤ اور جانبداری سے آزاد ہو کر رپورٹنگ کرنی چاہیے، کیونکہ آزاد صحافت جمہوریت کی بنیاد ہے۔
ملائیشین بار کے صدر انند راج نے اپنے بیان میں کہا کہ صحافیوں کو اپنے پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی پر گرفتار کرنا “قانون کی حکمرانی کے اصولوں سے متصادم” ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ میڈیا کو بغیر کسی خوف یا دباؤ کے منصفانہ رپورٹنگ جاری رکھنی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے عالمی اعلامیہ (آرٹیکل 19) اور انٹرنیشنل کوویننٹ آن سول اینڈ پولیٹیکل رائٹس (آئی سی سی پی آر) 1966 ہر فرد کو اظہارِ رائے کی آزادی کا حق دیتے ہیں، اور ملائیشیا کو چاہیے کہ وہ آئی سی سی پی آر کی توثیق کرے تاکہ بنیادی آزادیوں کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
انند راج، جو 14 مارچ 2026 کو 2026/2027 کی مدت کے لیے صدر منتخب ہوئے، نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں ملائیشیا کی درجہ بندی 88ویں نمبر پر ہے، جو آزادیٔ صحافت کے حوالے سے ایک سنجیدہ مسئلہ ہے۔
یہ ردعمل اس وقت سامنے آیا جب دو صحافیوں، کالی داس سبرامانیم اور بی ننتھا کمار کو مختلف الزامات کے تحت گرفتار کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق، کالی داس سبرامانیم کو 26 مارچ کو دوپہر 3 بجے کے قریب کلیم ہائی ٹیک پارک میں بغیر اجازت داخل ہونے پر گرفتار کیا گیا۔ انہیں 24 گھنٹے سے زائد حراست میں رکھنے کے بعد ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔ پولیس ان کے خلاف تعزیراتِ ملائیشیا کی دفعہ 447 کے تحت تحقیقات کر رہی ہے، جس کے تحت جرم ثابت ہونے پر 6 ماہ قید یا 3,000 رنگٹ جرمانہ ہو سکتا ہے۔
رپورٹس کے مطابق، کالی داس ایک ایسے منصوبے پر کام کر رہے تھے جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ایک ریفائنری کے تعمیراتی مقام پر تقریباً 300 غیر دستاویزی غیر ملکی کارکن کام کر رہے ہیں۔ اس واقعے میں 10 این جی او ارکان کو بھی گرفتار کیا گیا، جن پر سیکیورٹی اہلکاروں کی وارننگ نظر انداز کرنے کا الزام ہے۔
دوسری جانب، بی ننتھا کمار پر ایک پاکستانی شہری سے 100,000 رنگٹ طلب کرنے اور بعد ازاں اسے 20,000 رنگٹ تک کم کرنے کا الزام عائد کیا گیا۔ حکام کے مطابق، یہ رقم مبینہ طور پر ایک غیر ملکی ورکرز کے سنڈیکیٹ سے متعلق خبریں شائع نہ کرنے کے بدلے طلب کی گئی تھی۔
بی ننتھا کمار کو 28 فروری کو گرفتار کر کے 4 دن کے ریمانڈ پر رکھا گیا تھا۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ دراصل ریاستی امیگریشن ڈائریکٹر کے ساتھ مل کر ایک ایسے سنڈیکیٹ کو بے نقاب کرنے کی کوشش کر رہے تھے جو غیر ملکی کارکنوں کا استحصال کر رہا تھا۔
ملائیشین بار نے اپنے بیان میں مطالبہ کیا کہ تمام تحقیقات قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے کی جائیں اور اس دوران صحافتی سرگرمیوں میں کسی قسم کی رکاوٹ یا خوف و ہراس پیدا نہ کیا جائے۔ بیان میں کہا گیا کہ “آزاد میڈیا جمہوریت کے لیے ناگزیر ہے اور قانون کی حکمرانی کے لیے بنیادی شرط ہے۔”
ماہرین کے مطابق، حالیہ واقعات نے ملائیشیا میں آزادیٔ صحافت، شفافیت اور حکومتی احتساب کے حوالے سے اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ اگر صحافیوں کو اپنے کام کے دوران قانونی خطرات کا سامنا کرنا پڑے تو اس سے تحقیقاتی صحافت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

COMMENTS