کوتا کینابالو: ملائیشیا کی ریاست صباح میں مختلف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں پر 21 غیر ملکی شہریوں کو عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد جرمانے...
کوتا کینابالو: ملائیشیا کی ریاست صباح میں مختلف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں پر 21 غیر ملکی شہریوں کو عدالت میں پیش کیے جانے کے بعد جرمانے اور قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں۔ ان افراد میں گیمبیا اور جرمنی کے شہری بھی شامل ہیں، جبکہ دیگر ملزمان مختلف ممالک سے تعلق رکھتے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق تمام ملزمان نے اپنے خلاف عائد الزامات کا اعتراف کیا۔ مقدمات کی سماعت سیشن کورٹ کے جج حرمان حسین کے روبرو ہوئی جہاں عدالت نے ہر کیس کی نوعیت کے مطابق الگ الگ سزائیں سنائیں۔
عدالت میں پیش کیے جانے والے افراد میں 36 سالہ گیمبین شہری لوئس چا بھی شامل تھا۔ اسے زائد المعیاد قیام کے جرم میں 10 ہزار رنگٹ جرمانہ کیا گیا۔ جرمانہ ادا نہ کرنے کی صورت میں اسے چھ ماہ قید کی سزا بھگتنا ہوگی۔ عدالت کو بتایا گیا کہ اس کا اسپیشل پاس 31 جولائی 2025 کو ختم ہو چکا تھا، تاہم وہ اس کے بعد بھی تقریباً آٹھ ماہ اور 23 دن تک صباح میں مقیم رہا۔
امیگریشن حکام کے مطابق لوئس چا کو 23 اپریل کو محکمہ امیگریشن کے انفورسمنٹ ڈویژن میں موجود ریفرل اور کمپاؤنڈ یونٹ کے کاؤنٹر سے گرفتار کیا گیا تھا۔ اس کے خلاف کارروائی امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 15(1)(سی) کے تحت کی گئی، جس کے مطابق غیر قانونی طور پر زائد مدت تک قیام کرنے والوں کو 10 ہزار رنگٹ تک جرمانہ، پانچ سال تک قید یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
اسی مقدمے میں ایک جرمن شہری پر بھی غیر قانونی داخلے کا الزام عائد کیا گیا، تاہم کیس کی آئندہ سماعت 8 جون مقرر کی گئی ہے تاکہ جرمن زبان کے مترجم کا انتظام کیا جا سکے۔ عدالت نے اس ملزم کو اگلی سماعت تک مزید ریمانڈ پر رکھنے کا حکم بھی دیا۔
رپورٹ کے مطابق ایک پاکستانی شہری اور تین انڈونیشی شہریوں کو بھی زائد المعیاد قیام کے جرم میں چھ سے بارہ ماہ تک قید کی سزائیں سنائی گئیں۔ ان افراد کے سفری دستاویزات اور قانونی اجازت نامے ختم ہو چکے تھے لیکن وہ اس کے باوجود ریاست میں موجود رہے۔
عدالت نے ایک اور غیر ملکی شہری کو سفری دستاویزات کی شرائط کی خلاف ورزی کرنے پر چھ ماہ قید اور ایک کوڑے کی سزا بھی سنائی۔ اس کے علاوہ باقی ملزمان کو بغیر درست سفری دستاویزات کے ریاست میں داخل ہونے کے جرم میں چار چار ماہ قید کی سزا دی گئی۔
یہ تمام گرفتاریاں حالیہ دنوں میں محکمہ امیگریشن کی جانب سے مختلف اضلاع میں کیے گئے آپریشنز کے دوران عمل میں آئیں۔ کارروائیاں راناو، سپیتانگ، کودات اور کوتا کینابالو سمیت کئی علاقوں میں کی گئیں جہاں حکام نے غیر قانونی قیام اور دستاویزات کی خلاف ورزیوں کی جانچ کی۔
عدالت نے تمام سزا یافتہ افراد کو مزید کارروائی کے لیے محکمہ امیگریشن کے حوالے کرنے کا حکم بھی جاری کیا۔ جن افراد کو قید کی سزا دی گئی، ان کی سزا کا آغاز گرفتاری کی تاریخ سے شمار کیا جائے گا۔
ملائیشیا میں حالیہ مہینوں کے دوران امیگریشن قوانین پر عملدرآمد مزید سخت کیا گیا ہے۔ حکام مختلف ریاستوں میں مسلسل آپریشنز کر رہے ہیں تاکہ غیر قانونی داخلے، زائد المعیاد قیام اور جعلی یا نامکمل سفری دستاویزات کے استعمال کو روکا جا سکے۔ حکومتی اداروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدامات ملکی قوانین اور سرحدی نظم و نسق کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہیں۔
ماہرین کے مطابق ملائیشیا میں بڑی تعداد میں غیر ملکی کارکن موجود ہیں، اس لیے حکام وقتاً فوقتاً دستاویزات کی جانچ اور امیگریشن قوانین کے نفاذ کے لیے خصوصی مہمات چلاتے رہتے ہیں۔ ایسے کیسز میں عدالتیں عام طور پر جرمانے، قید یا دونوں سزائیں سناتی ہیں تاکہ دیگر افراد کے لیے بھی واضح پیغام دیا جا سکے۔

COMMENTS