ملائیشیا کے صوبہ سراواک میں محکمہ امیگریشن نے سیبو اور سیلانگاؤ کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 81 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار ...
ملائیشیا کے صوبہ سراواک میں محکمہ امیگریشن نے سیبو اور سیلانگاؤ کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں کرتے ہوئے 81 غیر قانونی تارکین وطن کو گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاریاں “اوپس ساپو” کے تحت 9 اور 10 مئی 2026 کے دوران کی گئی مختلف چھاپہ مار کارروائیوں میں عمل میں آئیں۔
محکمہ امیگریشن ملائیشیا سیبو ڈویژن کے مطابق آپریشن میں 19 انفورسمنٹ اہلکاروں نے حصہ لیا جن میں اسپیشل ایکشن ٹیم کے افسران بھی شامل تھے۔ کارروائیاں عوامی شکایات اور خفیہ معلومات کی بنیاد پر کی گئیں، جہاں مختلف مقامات اور رہائشی علاقوں کو نشانہ بنایا گیا جن کے بارے میں شبہ تھا کہ وہاں غیر ملکی شہری غیر قانونی طور پر مقیم یا منتقل ہو رہے ہیں۔
حکام کے مطابق مجموعی طور پر نو مختلف مقامات پر چھاپے مارے گئے۔ ان کارروائیوں کے دوران 114 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی، جن میں سے 81 افراد کو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے شبے میں حراست میں لیا گیا۔
گرفتار شدگان میں 50 مرد، 18 خواتین، پانچ لڑکے اور آٹھ لڑکیاں شامل ہیں۔ محکمہ امیگریشن کے مطابق ان تمام افراد میں 80 انڈونیشی شہری جبکہ ایک فلپائنی شہری شامل ہے۔ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ یہ افراد مطلوبہ سفری دستاویزات یا قانونی ورک پرمٹ پیش کرنے میں ناکام رہے۔
حکام نے بتایا کہ گرفتار افراد کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی مختلف دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے، جن میں سیکشن 6(1)(سی)، سیکشن 15(1)(سی) اور سیکشن 55(ای) شامل ہیں۔ ان دفعات کا تعلق غیر قانونی داخلے، ویزا کی مدت سے زیادہ قیام اور غیر قانونی طور پر ملازمت یا پناہ دینے جیسے معاملات سے ہے۔
آپریشن کے دوران ایک مقامی آجر کے خلاف بھی کارروائی کی گئی۔ اس شخص پر شبہ ہے کہ وہ غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کو پناہ یا ملازمت فراہم کر رہا تھا۔ ملائیشیا میں حالیہ عرصے کے دوران حکام نے صرف غیر قانونی تارکین وطن ہی نہیں بلکہ ان کے سہولت کاروں اور آجروں کے خلاف بھی کارروائیاں تیز کی ہیں۔
تمام گرفتار افراد کو مزید تفتیش اور قانونی کارروائی کے لیے امیگریشن انفورسمنٹ آفس سیبو منتقل کر دیا گیا ہے۔ محکمہ امیگریشن سراواک نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ غیر قانونی امیگریشن کے خلاف کارروائیاں مسلسل جاری رکھی جائیں گی تاکہ صرف وہی غیر ملکی شہری ریاست میں رہ سکیں یا کام کر سکیں جو قانونی تقاضے پورے کرتے ہوں۔
ملائیشیا میں مختلف ریاستوں میں جاری امیگریشن آپریشنز کا مقصد غیر قانونی ملازمت، غیر دستاویزی قیام اور انسانی اسمگلنگ جیسے معاملات کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔ حکام کے مطابق ان کارروائیوں سے نہ صرف ملکی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنایا جا رہا ہے بلکہ مقامی لیبر مارکیٹ اور سیکیورٹی نظام کو بھی بہتر بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
محکمہ امیگریشن نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی مقام پر غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں یا مشتبہ سرگرمیوں کی معلومات موجود ہوں تو فوری طور پر متعلقہ اداروں کو اطلاع دی جائے تاکہ بروقت کارروائی ممکن بنائی جا سکے۔

COMMENTS