ملائیشیا کے صوبہ صباح میں محکمہ امیگریشن نے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے 54 غیر ملکیوں کو حراست میں لے لیا۔ یہ گرفتاریاں آپس ساپو او...
ملائیشیا کے صوبہ صباح میں محکمہ امیگریشن نے مختلف اضلاع میں کارروائیاں کرتے ہوئے 54 غیر ملکیوں کو حراست میں لے لیا۔ یہ گرفتاریاں آپس ساپو اور آپس کیوتپ کے تحت ضلع سپیتانگ اور سمپورنا میں کی گئیں۔
محکمہ امیگریشن صباح کے مطابق سپیتانگ میں کیے گئے آپس ساپو کے دوران مجموعی طور پر 68 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی، جن میں سے 50 غیر ملکیوں کو مختلف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے شبے میں گرفتار کیا گیا۔
حکام کے مطابق گرفتار افراد پر بغیر قانونی دستاویزات کے ملک میں موجود ہونے اور پاس کی شرائط کی خلاف ورزی جیسے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔ یہ تمام خلاف ورزیاں امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت آتی ہیں۔
گرفتار شدگان میں فلپائن کے شہریوں کی بڑی تعداد شامل تھی۔ ان میں 14 مرد، 12 خواتین، 10 لڑکے اور 12 لڑکیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ دو پاکستانی مرد بھی حراست میں لیے گئے۔
دوسری جانب ضلع سمپورنا میں آپس ساپو اور آپس کیوتپ کے تحت کارروائی کی گئی جہاں 6 افراد کی جانچ پڑتال کے بعد 4 پاکستانی شہریوں کو گرفتار کیا گیا۔ تمام گرفتار افراد مرد ہیں۔
محکمہ امیگریشن کا کہنا ہے کہ یہ کارروائیاں غیر قانونی تارکین وطن کی موجودگی روکنے اور ملک کے امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
حکام نے واضح کیا کہ صباح میں وقتاً فوقتاً مزید امیگریشن آپریشنز جاری رکھے جائیں گے تاکہ غیر قانونی قیام، جعلی دستاویزات اور پاس کی خلاف ورزیوں کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔
صباح ملائیشیا کا وہ علاقہ ہے جہاں غیر قانونی تارکین وطن کے مسائل اکثر سامنے آتے رہتے ہیں، خاص طور پر فلپائن اور دیگر ہمسایہ ممالک سے آنے والے افراد کے حوالے سے۔ اسی وجہ سے محکمہ امیگریشن کی جانب سے باقاعدہ نگرانی اور آپریشنز کیے جاتے ہیں تاکہ سرحدی علاقوں میں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکا جا سکے۔
حالیہ مہینوں میں ملائیشیا کے مختلف حصوں میں امیگریشن کارروائیوں میں اضافہ دیکھا گیا ہے، جہاں حکام غیر قانونی طور پر مقیم افراد، زائد المیعاد قیام کرنے والوں اور بغیر ورک پرمٹ کام کرنے والے غیر ملکیوں کے خلاف کارروائیاں کر رہے ہیں۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق گرفتار کیے گئے تمام افراد کے خلاف مزید قانونی کارروائی امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت کی جائے گی، جبکہ ان کی شناخت اور سفری دستاویزات کی جانچ بھی جاری ہے۔

COMMENTS