پوتراجایا: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے رواں سال ملک بھر میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 19 ہزار 7...
پوتراجایا: ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے رواں سال ملک بھر میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری کارروائیوں کے دوران مجموعی طور پر 19 ہزار 700 افراد کو ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دیا ہے۔ حکام کے مطابق یہ کارروائیاں امیگریشن قوانین پر عمل درآمد، غیر قانونی ملازمتوں کی روک تھام اور ملکی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکر جنرل داتک زکریا شعبان نے پوتراجایا میں منعقدہ “انوگراہ پرخدمت چمرلنگ” تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ واپس بھیجے جانے والے افراد میں سب سے زیادہ تعداد انڈونیشیا کے شہریوں کی تھی۔ ان کے مطابق 7 ہزار 936 انڈونیشین شہری اپنے ملک واپس بھیجے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ اس کے بعد میانمار کے 4 ہزار 5، بنگلہ دیش کے 2 ہزار 453، فلپائن کے 1 ہزار 825 جبکہ تھائی لینڈ کے 1 ہزار 8 شہری شامل تھے۔ یہ اعداد و شمار 15 مئی 2026 تک کے ہیں۔
زکریا شعبان کے مطابق محکمہ امیگریشن نے اس سال اب تک ملک بھر میں 4 ہزار 785 نفاذی آپریشنز کیے۔ ان کارروائیوں کے دوران 69 ہزار 406 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی جبکہ 16 ہزار 681 غیر قانونی تارکین وطن اور 737 آجروں کو گرفتار کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیوں میں نہ صرف امیگریشن حکام بلکہ دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے بھی تعاون کر رہے ہیں تاکہ غیر قانونی رہائش، جعلی دستاویزات اور غیر قانونی ملازمتوں جیسے معاملات پر قابو پایا جا سکے۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق اس وقت 20 ہزار 575 افراد مستقل امیگریشن ڈپو میں رکھے گئے ہیں جبکہ ایک ہزار 470 افراد عارضی حراستی مراکز میں موجود ہیں۔ ان افراد کے سفری دستاویزات، قانونی کارروائی اور وطن واپسی کے عمل کو مکمل کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر زکریا شعبان نے “پروگرام ریپیٹریاسی مائیگرن 2.0” (پی آر ایم 2.0) کے نتائج سے متعلق بھی تفصیلات شیئر کیں۔ ان کے مطابق 19 مئی 2025 سے 17 مئی 2026 تک اس پروگرام کے تحت 112 مختلف ممالک کے 257 ہزار 443 غیر قانونی تارکین وطن نے رجسٹریشن کروائی۔
انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کے ذریعے حکومت کو 128 ملین 726 ہزار 940 رنگٹ کی کمپاؤنڈ فیس موصول ہوئی۔ اس پروگرام کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کو رضاکارانہ طور پر اپنے ممالک واپس جانے کا موقع فراہم کرنا ہے تاکہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کو منظم انداز میں کم کیا جا سکے۔
اعداد و شمار کے مطابق پی آر ایم 2.0 کے تحت سب سے زیادہ رجسٹریشن انڈونیشیا کے شہریوں کی رہی، جن کی تعداد 111 ہزار 660 تھی۔ اس کے بعد بنگلہ دیش کے 49 ہزار 481 اور میانمار کے 33 ہزار 858 شہری شامل رہے۔
محکمہ امیگریشن نے پروگرام کی پیش رفت کو مثبت قرار دیتے ہوئے اس کی مدت میں توسیع کا اعلان بھی کیا ہے۔ حکام کے مطابق پی آر ایم 2.0 اب 31 مئی 2027 تک جاری رہے گا۔ حکومت کا کہنا ہے کہ پروگرام کے ذریعے غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد میں کمی، رضاکارانہ وطن واپسی اور حکومتی محصولات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
حالیہ مہینوں میں ملائیشیا کے مختلف علاقوں میں امیگریشن اور پولیس کی مشترکہ کارروائیوں میں متعدد غیر قانونی تارکین وطن گرفتار کیے گئے ہیں۔ ان کارروائیوں میں غیر قانونی کاروبار، اسمگلنگ، جعلی دستاویزات اور غیر قانونی ملازمتوں کے نیٹ ورکس کے خلاف بھی تحقیقات جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ امیگریشن قوانین پر عمل درآمد کو مزید مؤثر بنانے کے لیے نگرانی، انٹیلی جنس شیئرنگ اور سرحدی کنٹرول کو مزید مضبوط کیا جا رہا ہے تاکہ غیر قانونی نقل و حرکت اور غیر رجسٹرڈ غیر ملکی کارکنوں کے مسائل کو کم کیا جا سکے۔

COMMENTS