ملائیشیا کے سابق رکن پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کے سرگرم رہنما چارلس سینٹیاگو نے غیر ملکی کارکنوں کے مرکزی انتظامی نظام کے حوالے سے بیسٹینیٹ ک...
ملائیشیا کے سابق رکن پارلیمنٹ اور انسانی حقوق کے سرگرم رہنما چارلس سینٹیاگو نے غیر ملکی کارکنوں کے مرکزی انتظامی نظام کے حوالے سے بیسٹینیٹ کمپنی کو دی گئی حکومتی رعایت پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے نے مالی شفافیت اور عوامی جوابدہی سے متعلق سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
دی وائبس میں شائع ہونے والی اپنی تین حصوں پر مشتمل خصوصی سیریز کے آخری حصے میں سینٹیاگو نے مطالبہ کیا کہ فارین ورکرز سینٹرلائزڈ منیجمنٹ سسٹم معاہدے کو فوری طور پر معطل کرکے اس کا آزادانہ جائزہ لیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ اصل سوال یہ نہیں کہ بین الاقوامی اداروں کی توثیق کے دعوے درست ہیں یا نہیں، بلکہ اہم بات یہ ہے کہ “اس نظام سے فائدہ کس کو ہو رہا ہے اور قیمت کون ادا کر رہا ہے؟”
سینٹیاگو نے الزام لگایا کہ نظام پر تنقید کرنے والوں کو ذاتی مفادات رکھنے والا قرار دینا دراصل اصل مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔
انہوں نے کہا:
“پیغام پہنچانے والے پر حملہ کرو، نیت پر سوال اٹھاؤ اور اصل معاملے سے بچ جاؤ۔”
منافع بخش نظام پر سوالات
چارلس سینٹیاگو کے مطابق فارین ورکرز سینٹرلائزڈ منیجمنٹ سسٹم ایک نجی اور منافع بخش نظام ہے جسے 2024 میں باضابطہ طور پر حکومتی رعایت دی گئی تاکہ وہ ملائیشیا میں لاکھوں غیر ملکی کارکنوں کے انتظام کا نظام سنبھال سکے۔
انہوں نے کہا کہ اس سسٹم کے تحت ہر کارکن کی پراسیسنگ پر فیس وصول کی جاتی ہے، جس کا بوجھ بالآخر آجروں، غیر ملکی کارکنوں اور مزدور بھیجنے والے ممالک پر پڑتا ہے، جبکہ ان میں سے بیشتر پہلے ہی معاشی طور پر کمزور ہوتے ہیں۔
سینٹیاگو کا کہنا تھا کہ چونکہ یہ نظام عوامی فنڈنگ سے تیار نہیں کیا گیا، اس لیے اس سے حاصل ہونے والا مالی منافع عوام کے بجائے رعایت یافتہ کمپنی کو جاتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مئی 2024 میں آئی ایل او، انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن اور اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم کے مشترکہ بیان میں ایسے بنگلہ دیشی کارکنوں کے کیسز سامنے آئے تھے جو درست ورک پرمٹ کے باوجود ملائیشیا پہنچے لیکن ان کے لیے وعدہ شدہ ملازمتیں موجود نہیں تھیں۔
ان کے مطابق یہ واقعات اسی دور میں پیش آئے جب فارین ورکرز سینٹرلائزڈ منیجمنٹ سسٹم فعال تھا، جس سے اس دعوے پر سوال اٹھتا ہے کہ آیا یہ نظام واقعی استحصال روکنے میں کامیاب رہا۔
شفافیت نہ ہونے پر تنقید
چارلس سینٹیاگو نے معاہدے کی خفیہ نوعیت پر بھی تنقید کی اور کہا کہ:
- معاہدے کی مالی تفصیلات عوام کے سامنے نہیں لائی گئیں
- پارلیمنٹ نے اس کا کوئی باقاعدہ جائزہ نہیں لیا
- نہ ہی کوئی آزاد آڈٹ جاری کیا گیا جس سے معلوم ہو سکے کہ آیا یہ نظام انسانی اسمگلنگ اور مزدوروں کے استحصال کو روکنے میں کامیاب رہا یا نہیں
انہوں نے کہا:
“عوام نے کبھی اس معاہدے کی مالی شرائط نہیں دیکھیں، اور پارلیمنٹ نے بھی اس کا جائزہ نہیں لیا۔”
معاہدہ معطل کرنے کا مطالبہ
اپنی رپورٹ کے اختتام پر سینٹیاگو نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ:
- سال 2024 کے رعایتی معاہدے کی مکمل مالی تفصیلات منظر عام پر لائی جائیں
- سال 2012 سے اب تک کیے گئے تمام فیصلوں کو پارلیمانی جانچ کے لیے پیش کیا جائے
- یہ واضح کیا جائے کہ بین الاقوامی اداروں سے متعلق دعوؤں کی تصدیق معاہدہ سائن ہونے سے پہلے کی گئی تھی یا نہیں
- اسپیشل برانچ کے مبینہ کردار سے متعلق وضاحت دی جائے
- اور نظام کی کارکردگی کا آزادانہ آڈٹ کرایا جائے
انہوں نے کہا کہ ملائیشیا کو ایسے نظام کی ضرورت نہیں جس کی ساکھ “غلط انداز میں پیش کی گئی بین الاقوامی توثیق، غیر تصدیق شدہ سکیورٹی سفارشات اور خفیہ معاہدوں” پر قائم ہو۔
سینٹیاگو نے مزید کہا کہ اگر یہ نظام واقعی شفاف اور مؤثر ہے تو اس کے حامیوں کو آزادانہ جانچ پڑتال کا خیر مقدم کرنا چاہیے، نہ کہ قانونی دھمکیوں کا سہارا لینا چاہیے۔

COMMENTS