جوہر بہرو میں محکمہ امیگریشن ملائیشیا کی جانب سے کیے گئے ایک خصوصی آپریشن کے دوران 27 غیر قانونی تارکین وطن کو مختلف امیگریشن خلاف ورزیوں پر...
جوہر بہرو میں محکمہ امیگریشن ملائیشیا کی جانب سے کیے گئے ایک خصوصی آپریشن کے دوران 27 غیر قانونی تارکین وطن کو مختلف امیگریشن خلاف ورزیوں پر گرفتار کر لیا گیا۔ یہ کارروائی 8 مئی کو شہر کے مختلف کھانے پینے کے مراکز اور فوڈ پریمسز میں کی گئی جہاں غیر ملکی کارکنوں کے غیر قانونی طور پر کام کرنے کی اطلاعات موصول ہوئی تھیں۔
محکمہ امیگریشن جوہر کے مطابق آپریشن دوپہر تقریباً 3 بجے شروع کیا گیا اور اس میں ریاستی انفورسمنٹ ڈویژن کے افسران نے حصہ لیا۔ کارروائی کا مقصد ایسے کاروباری مراکز کی نگرانی کرنا تھا جہاں مبینہ طور پر بغیر قانونی دستاویزات یا ورک پرمٹ کے غیر ملکی کارکن ملازمت کر رہے تھے۔
حکام نے بتایا کہ یہ آپریشن عوامی شکایات، خفیہ معلومات اور نگرانی کے بعد ترتیب دیا گیا۔ کارروائی کے دوران غیر ملکی کارکنوں اور متعلقہ مالکان کی دستاویزات کی مکمل جانچ کی گئی تاکہ ویزا کی مدت سے زیادہ قیام، پاس کے غلط استعمال اور بغیر اجازت کام کرنے جیسے امیگریشن جرائم کی نشاندہی کی جا سکے۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق گرفتار کیے گئے 27 افراد میں 18 مرد میانمار کے شہری، ایک بنگلہ دیشی، ایک پاکستانی، ایک نیپالی اور چھ خواتین میانمار سے تعلق رکھتی ہیں۔ ان تمام افراد کی عمریں 19 سے 46 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
حکام کے مطابق گرفتار شدگان مبینہ طور پر ریسٹورنٹس اور فوڈ پریمسز میں ویٹر، باورچی اور دیگر خدمات انجام دے رہے تھے۔ بعض افراد کے پاس درست ورک پرمٹ موجود نہیں تھے جبکہ کچھ افراد پر ویزا شرائط کی خلاف ورزی کا شبہ ظاہر کیا گیا۔
محکمہ امیگریشن نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ کاروباری مراکز کو غیر قانونی تارکین وطن کے لیے “محفوظ مقام” بننے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ادارے نے خبردار کیا کہ ایسے مالکان، منیجرز اور دیگر افراد کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی جو غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دیتے یا تحفظ فراہم کرتے پائے جائیں گے۔
ملائیشیا میں حالیہ مہینوں کے دوران امیگریشن حکام نے مختلف ریاستوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں تیز کی ہیں۔ ان کارروائیوں کا مقصد غیر قانونی قیام، جعلی یا غلط استعمال شدہ پاسز، اور غیر مجاز روزگار کے معاملات کو روکنا بتایا جا رہا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ امیگریشن قوانین پر سختی سے عمل درآمد ملکی سلامتی، لیبر مارکیٹ کے نظم اور قانونی نظام کے تحفظ کے لیے ضروری ہے۔
اسی تناظر میں جوہر میں ہونے والا یہ آپریشن بھی وسیع انفورسمنٹ مہم کا حصہ سمجھا جا رہا ہے جس میں فوڈ سیکٹر، تعمیرات، سروس انڈسٹری اور دیگر شعبوں کو خاص طور پر نگرانی میں رکھا گیا ہے کیونکہ ان شعبوں میں غیر ملکی کارکنوں کی بڑی تعداد کام کرتی ہے۔
محکمہ امیگریشن نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی علاقے میں غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں یا مشتبہ سرگرمیوں کی معلومات موجود ہوں تو متعلقہ اداروں کو اطلاع دی جائے تاکہ مزید کارروائی کی جا سکے۔ حکام کے مطابق تمام گرفتار افراد کو مزید قانونی کارروائی کے لیے تحویل میں لے لیا گیا ہے اور ان کے مقدمات امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت دیکھے جائیں گے۔
ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف جاری کارروائیاں نہ صرف امیگریشن قوانین کے نفاذ کا حصہ ہیں بلکہ ان کا مقصد ایسے نیٹ ورکس کو بھی روکنا ہے جو غیر قانونی روزگار اور دستاویزات کے غلط استعمال میں ملوث ہوتے ہیں۔ اسی لیے حکام نے اس بات پر زور دیا ہے کہ صرف کارکن ہی نہیں بلکہ انہیں ملازمت دینے والے افراد بھی قانون کے دائرے میں آئیں گے۔

COMMENTS