ملائیشیا کے صوبے کداح میں محکمہ امیگریشن نے 99 غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک واپس منتقل کرنے کا عمل مکمل کر لیا۔ یہ منتقلی گزشت...
ملائیشیا کے صوبے کداح میں محکمہ امیگریشن نے 99 غیر قانونی تارکین وطن کو ان کے آبائی ممالک واپس منتقل کرنے کا عمل مکمل کر لیا۔ یہ منتقلی گزشتہ روز کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ذریعے انجام دی گئی۔
محکمہ امیگریشن کی جانب سے جاری بیان کے مطابق واپس بھیجے جانے والے افراد مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے، جن میں میانمار، انڈونیشیا، بنگلہ دیش، چین، نیپال، ویتنام، پاکستان اور بھارت شامل ہیں۔ ان تمام افراد کو پہلے بیلانتک امیگریشن ڈپو میں رکھا گیا تھا۔
حکام کے مطابق مجموعی طور پر 99 افراد میں 64 مرد اور 35 خواتین شامل تھیں۔ یہ تمام افراد ملائیشیا کے امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے مقدمات میں زیر حراست تھے۔
بیان میں کہا گیا کہ ان افراد نے مختلف نوعیت کی خلاف ورزیاں کی تھیں، جن میں بغیر قانونی پاس یا پرمٹ ملک میں داخل ہونا اور مقررہ مدت سے زیادہ قیام شامل ہے۔ یہ تمام خلاف ورزیاں امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت آتی ہیں۔
محکمہ امیگریشن نے واضح کیا کہ تمام زیر حراست افراد اپنی قانونی سزا مکمل کر چکے تھے، جس کے بعد ان کی وطن واپسی کا عمل شروع کیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ عمل باقاعدہ قانونی اور سفارتی ضوابط کے مطابق مکمل کیا گیا تاکہ منتقلی میں کسی قسم کی رکاوٹ پیش نہ آئے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ وطن واپس بھیجے جانے والے تمام افراد کے پاس درست سفری دستاویزات موجود تھیں۔ بعض افراد کو ان کے متعلقہ سفارت خانوں کی جانب سے عارضی سفری دستاویزات بھی فراہم کیے گئے تھے تاکہ واپسی کے عمل کو آسان بنایا جا سکے۔
محکمہ امیگریشن کداح نے اس بات پر بھی زور دیا کہ واپس بھیجے گئے تمام افراد کو بلیک لسٹ کر دیا گیا ہے اور انہیں مقررہ مدت تک دوبارہ ملائیشیا میں داخل ہونے کی اجازت نہیں ہوگی۔ حکام کے مطابق یہ اقدام مستقبل میں امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی روکنے کے لیے کیا گیا ہے۔
حکام نے بتایا کہ بیلانتک امیگریشن ڈپو میں ایسے قیدیوں کی منتقلی اور وطن واپسی کا عمل مسلسل جاری رکھا جاتا ہے تاکہ سزا مکمل کرنے والے افراد کو جلد از جلد ان کے ممالک واپس بھیجا جا سکے۔ یہ اقدام ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن کی تعداد کم کرنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
ملائیشیا میں حالیہ مہینوں کے دوران امیگریشن حکام نے مختلف ریاستوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں تیز کی ہیں۔ ان کارروائیوں کے دوران غیر قانونی قیام، جعلی دستاویزات کے استعمال اور ورک پرمٹ کی خلاف ورزیوں پر متعدد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔
محکمہ امیگریشن کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں، حراست اور وطن واپسی کے پروگرام مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ ملک کے امیگریشن نظام اور لیبر قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔

COMMENTS