ملائیشیا کی ریاست کلانتن کے پولیس چیف داتوک محمد یوسف مامت نے پولیس اہلکاروں کو اسمگلنگ گروہوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی ملی بھگت سے سختی سے خب...
ملائیشیا کی ریاست کلانتن کے پولیس چیف داتوک محمد یوسف مامت نے پولیس اہلکاروں کو اسمگلنگ گروہوں کے ساتھ کسی بھی قسم کی ملی بھگت سے سختی سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرپشن، معلومات لیک کرنے یا جرائم پیشہ نیٹ ورکس کو تحفظ دینے والے اہلکاروں کے خلاف بلا امتیاز کارروائی کی جائے گی۔
کلانتن پولیس ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ماہانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ رائل ملائیشین پولیس کی ساکھ اور عوامی اعتماد کو ہر صورت برقرار رکھنا ضروری ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ملائیشیا اور تھائی لینڈ کی سرحدی علاقوں میں اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حرکت کے واقعات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس فورس کے اندر موجود کسی بھی قسم کی اندرونی غداری کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق کچھ عناصر بظاہر وفادار نظر آتے ہیں لیکن اندرونی طور پر فورس کے وقار اور عوامی اعتماد کو نقصان پہنچاتے ہیں۔
محمد یوسف مامت نے واضح کیا کہ کلانتن پولیس میں اگر کوئی اہلکار رشوت، معلومات کے افشا یا غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف سخت تادیبی اور قانونی کارروائی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ ادارے کی سالمیت، شفافیت اور عوامی اعتماد کا تحفظ پولیس کی اولین ترجیح ہے۔
انہوں نے بتایا کہ سرحد پار اسمگلنگ اور بین الاقوامی جرائم اس وقت کلانتن پولیس کے لیے سب سے بڑے سیکیورٹی چیلنجز میں شامل ہیں، خاص طور پر جنوبی تھائی لینڈ سے ملحق اضلاع میں۔ اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے پولیس دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ مل کر انٹیلی جنس آپریشنز، نگرانی اور سرحدی کنٹرول مزید سخت کر رہی ہے۔
پولیس کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جنوری سے اپریل تک اسمگل شدہ سامان سے متعلق 375 مقدمات درج کیے گئے، جن میں ایک کروڑ رنگٹ سے زائد مالیت کی اشیا ضبط کی گئیں جبکہ 212 افراد کو گرفتار کیا گیا۔
اسی عرصے کے دوران سبسڈی والے سامان کی غیر قانونی نقل و حمل کے 135 کیسز بھی سامنے آئے جن میں دو لاکھ رنگٹ سے زائد مالیت کی اشیا ضبط کی گئیں اور 70 افراد گرفتار ہوئے۔
کلانتن پولیس چیف نے مزید بتایا کہ مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 102 غیر قانونی تارکین وطن اور 47 ٹرانسپورٹرز کو بھی حراست میں لیا گیا، جو سرحد پار غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
انہوں نے انکشاف کیا کہ پولیس انٹیلی جنس رپورٹس سے پتا چلا ہے کہ اسمگلنگ گروہ اب قانون نافذ کرنے والے اداروں سے بچنے کے لیے ساحلی راستے زیادہ استعمال کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اسمگلنگ کی سرگرمیاں اب صرف ٹمپات، پاسر ماس، تاناہ میراہ اور جیلی جیسے روایتی سرحدی علاقوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ دیگر علاقوں کو بھی ٹرانزٹ پوائنٹس کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
ملائیشیا میں حالیہ برسوں کے دوران سرحدی نگرانی کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا جا رہا ہے کیونکہ حکام کے مطابق بدلتے ہوئے اسمگلنگ کے طریقے، اندرونی تعاون اور کھلے ساحلی راستے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سرحدی علاقوں میں اسمگلنگ صرف اقتصادی نقصان کا باعث نہیں بنتی بلکہ اس سے قومی سلامتی، انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی نقل و حرکت جیسے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ اسی وجہ سے ملائیشین حکام مختلف اداروں کے درمیان تعاون بڑھانے اور نگرانی کے نظام کو جدید بنانے پر کام کر رہے ہیں۔

COMMENTS