لابوان :ملائیشیا کے وفاقی علاقے لابوان میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی پر عائد پابندی کے خاتمے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، جبکہ محکمہ امیگریشن ...
لابوان :ملائیشیا کے وفاقی علاقے لابوان میں غیر ملکی کارکنوں کی بھرتی پر عائد پابندی کے خاتمے کی امید ظاہر کی جا رہی ہے، جبکہ محکمہ امیگریشن اس معاملے کا دوبارہ جائزہ لے رہا ہے۔ مقامی کاروباری حلقوں کے مطابق حالیہ پیش رفت سے یہ اشارے مل رہے ہیں کہ ایسے آجروں کو نئے غیر ملکی کارکن رکھنے کی اجازت دی جا سکتی ہے جن کے موجودہ ملازمین اپنی ملازمت مکمل کر کے اپنے ممالک واپس جا چکے ہیں۔
یہ معلومات انڈین چیمبر آف کامرس کے چیئرمین داتوک دہلیپ سنگھ نے امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کے ڈائریکٹر جنرل داتوک ذکریا شعبان کے ساتھ ہونے والے ایک مکالماتی اجلاس کے بعد دی۔ ان کے مطابق مقامی تاجروں اور کاروباری اداروں کو اس ملاقات کے دوران اپنی مشکلات براہ راست اعلیٰ حکام کے سامنے رکھنے کا موقع ملا۔
دہلیپ سنگھ نے کہا کہ غیر ملکی کارکنوں کا مسئلہ 2022 سے مسلسل چل رہا ہے اور اس کا اثر مختلف شعبوں پر پڑا ہے۔ ان کے مطابق خاص طور پر پروفیشنل باورچیوں، گھریلو ملازمین، تعمیراتی شعبے اور تفریحی صنعت کو افرادی قوت کی کمی کے باعث مشکلات کا سامنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروباری برادری کو امید ہے کہ حکومت ان مسائل کا کوئی قابل عمل حل نکالے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل نے مقامی کاروباری نمائندوں کی بات براہ راست سنی اور زمینی صورتحال کا جائزہ لیا، جس سے مستقبل میں مثبت پیش رفت کی توقع پیدا ہوئی ہے۔ ان کے مطابق مختلف شعبے کافی عرصے سے افرادی قوت کی قلت کے باعث اپنے معمول کے آپریشنز برقرار رکھنے میں دشواری محسوس کر رہے ہیں۔
ملائیشیا کے کئی علاقوں کی طرح لابوان میں بھی غیر ملکی کارکن معیشت کے مختلف شعبوں میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ تعمیرات، ہوٹلنگ، ریستوران، گھریلو خدمات اور دیگر سروس انڈسٹریز میں غیر ملکی کارکنوں کی تعداد نمایاں رہی ہے۔ تاہم حالیہ برسوں میں حکومتی پالیسیوں، امیگریشن کنٹرول اور لیبر مینجمنٹ کے مسائل کے باعث بعض علاقوں میں غیر ملکی افرادی قوت کی درآمد محدود کر دی گئی تھی۔
کاروباری تنظیموں کا کہنا ہے کہ مقامی سطح پر مطلوبہ تعداد میں کارکن دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ خاص طور پر وہ شعبے جہاں مخصوص مہارت یا مسلسل افرادی قوت کی ضرورت ہوتی ہے، وہاں ملازمین کی کمی سے کاروباری سرگرمیوں کی رفتار متاثر ہوئی۔
رپورٹ کے مطابق امیگریشن حکام اس وقت ایسے نظام پر غور کر رہے ہیں جس کے تحت واپس جانے والے غیر ملکی ملازمین کے متبادل کے طور پر نئے کارکنوں کی منظوری دی جا سکے۔ اس اقدام کا مقصد مکمل نئی بھرتیوں کے بجائے پہلے سے موجود ورک فورس کے خلا کو پر کرنا بتایا جا رہا ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق لابوان جیسے علاقوں میں غیر ملکی کارکنوں کی دستیابی صرف کاروباری سرگرمیوں کے لیے ہی نہیں بلکہ خدمات کے تسلسل کے لیے بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔ کئی صنعتیں طویل عرصے سے اسی افرادی قوت پر انحصار کرتی رہی ہیں، اسی لیے کاروباری ادارے پالیسی میں نرمی کی توقع کر رہے ہیں۔
فی الحال حکومت یا امیگریشن ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے کسی حتمی فیصلے کا باضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا، تاہم کاروباری حلقے حالیہ مذاکرات کو مثبت پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔ آئندہ چند ہفتوں میں اس حوالے سے مزید وضاحت یا نئی پالیسی سامنے آنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

COMMENTS