کوالالمپور: ملائیشیا میں عوامی مقامات پر کچرا پھینکنے کے خلاف کارروائی مزید سخت کر دی گئی ہے، جہاں وفاقی علاقوں میں 18 افراد کو عوامی صفائی ...
کوالالمپور: ملائیشیا میں عوامی مقامات پر کچرا پھینکنے کے خلاف کارروائی مزید سخت کر دی گئی ہے، جہاں وفاقی علاقوں میں 18 افراد کو عوامی صفائی کے قوانین کی خلاف ورزی پر “پرنتاح خدمہ معاشرہ” یعنی کمیونٹی سروس کی سزا دی گئی۔ یہ اقدام عوامی صفائی کے شعور کو بہتر بنانے اور شہری علاقوں میں نظم و ضبط قائم رکھنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق، سالڈ ویسٹ مینجمنٹ اینڈ پبلک کلیننگ کارپوریشن نے آج اکٹا پنگوروسن سیسا پیجال دان پمبیرسیہن عوام 2007 (ایکٹ 672) کے تحت یہ کارروائی کی۔ سزا پانے والوں میں زیادہ تر افراد عوامی مقامات پر سگریٹ کے ٹکڑے پھینکنے کے جرم میں پکڑے گئے تھے۔
ایس ڈبلیو کارپ کے چیف ایگزیکٹو آفیسر خالد محمد نے کہا کہ کمیونٹی سروس کی یہ نویں مہم عوام کے لیے ایک واضح انتباہ بھی ہے اور شہری ذمہ داری کے احساس کو فروغ دینے کی کوشش بھی۔ ان کے مطابق صرف جرمانہ عائد کرنا کافی نہیں بلکہ لوگوں کو عملی طور پر صفائی کی اہمیت سمجھانا بھی ضروری ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ اس سزا کے دوران تمام قانونی تقاضوں اور اخلاقی اصولوں کا خیال رکھا جاتا ہے تاکہ سزا پانے والوں کی عزت نفس متاثر نہ ہو۔ ان کے بقول، اس اقدام کا مقصد لوگوں کو شرمندہ کرنا نہیں بلکہ شہری ماحول کو صاف اور بہتر بنانے میں اجتماعی ذمہ داری کا احساس پیدا کرنا ہے۔
آج سزا پانے والے 18 افراد کی عمریں 20 سے 45 سال کے درمیان تھیں۔ ان میں 14 مقامی شہری جبکہ 4 غیر ملکی شامل تھے۔ غیر ملکیوں میں دو بنگلہ دیشی، ایک پاکستانی اور ایک میانمار سے تعلق رکھنے والا شخص شامل تھا۔ تمام افراد نے صبح 9 بجے سے چار گھنٹے تک کوالالمپور کے علاقے کیپونگ میں واقع بچوں کے پارک “تامن پرمائنن کناک کناک، جالان میٹرو پردانا تیمور 5” میں صفائی کا کام انجام دیا۔
اس دوران مجرموں نے سڑکوں کی صفائی، کوڑا اٹھانے، نالیوں کی صفائی اور دیگر عوامی مقامات کی صفائی میں حصہ لیا۔ پورے عمل کی نگرانی محکمے کے انفورسمنٹ افسران نے کی تاکہ سزا منظم اور قانون کے مطابق مکمل ہو۔
حکام کے مطابق یہ مہم صرف وفاقی علاقوں تک محدود نہیں رہی بلکہ بیک وقت چھ ریاستوں میں بھی نافذ کی گئی۔ ان میں قدح، پہانگ، جوہر، نگری سمبیلان، وفاقی علاقہ اور پرلس شامل ہیں۔ مجموعی طور پر 76 افراد نے مختلف ریاستوں میں کمیونٹی سروس کی سزا مکمل کی۔
حکام کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ کمیونٹی سروس دراصل ایک “سوشل ایجوکیشن ٹول” ہے، جس کا مقصد لوگوں کو عملی تجربے کے ذریعے یہ سمجھانا ہے کہ عوامی صفائی کو برقرار رکھنا کتنا مشکل اور اہم کام ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ چھوٹے کچرے جیسے سگریٹ کے ٹکڑے، پلاسٹک یا خوراک کے پیکٹ بھی شہری ماحول کو متاثر کرتے ہیں اور صفائی کے نظام پر اضافی بوجھ ڈالتے ہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق، وفاقی علاقوں میں ایکٹ 672 کے تحت اب تک 1,292 نوٹس جاری کیے جا چکے ہیں۔ ان میں 695 مقامی شہری جبکہ 587 غیر ملکی شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت عوامی صفائی کے قوانین پر سختی سے عملدرآمد کر رہی ہے اور معمولی نوعیت کی گندگی کو بھی نظر انداز نہیں کیا جائے گا۔
ملائیشیا میں یکم جنوری 2026 سے کمیونٹی سروس کے اس نظام کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ قانون کے مطابق عوامی مقامات پر کچرا پھینکنے والے افراد کو دو ہزار رنگٹ تک جرمانہ یا زیادہ سے زیادہ 12 گھنٹے کی کمیونٹی سروس کی سزا دی جا سکتی ہے۔ حکام کا ماننا ہے کہ اس طرح کی سزائیں صرف سزا نہیں بلکہ شہری تربیت کا حصہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق جنوبی ایشیا اور جنوب مشرقی ایشیا کے کئی ممالک اس وقت شہری صفائی کے مسائل سے نمٹنے کے لیے ایسے متبادل اقدامات اختیار کر رہے ہیں جن میں مالی جرمانوں کے ساتھ سماجی خدمات کو بھی شامل کیا جا رہا ہے۔ ملائیشیا کی حالیہ مہم کو بھی اسی حکمت عملی کا حصہ قرار دیا جا رہا ہے، جس کا مقصد شہری رویوں میں مستقل تبدیلی لانا ہے۔
حکومت کی جانب سے یہ پیغام بھی دیا جا رہا ہے کہ عوامی مقامات کی صفائی صرف سرکاری اداروں کی ذمہ داری نہیں بلکہ ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔ اسی لیے قوانین پر عمل درآمد کے ساتھ ساتھ آگاہی مہمات کو بھی تیز کیا جا رہا ہے تاکہ عوام میں صفائی کے حوالے سے بہتر رویے فروغ پا سکیں۔

COMMENTS