کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیرِاعظم داتوک سری انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ملک اب کم اجرت والے معاشی ماڈل پر مزید انحصار جاری نہیں رکھ سکتا، کیون...
کوالالمپور: ملائیشیا کے وزیرِاعظم داتوک سری انور ابراہیم نے کہا ہے کہ ملک اب کم اجرت والے معاشی ماڈل پر مزید انحصار جاری نہیں رکھ سکتا، کیونکہ سستی غیر ملکی لیبر پر مسلسل انحصار قومی معیشت، مقامی اجرتوں اور پیداواری صلاحیت کے لیے طویل مدت میں نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اب معیشت اور لیبر مارکیٹ میں بڑے پیمانے پر اصلاحات کی طرف بڑھ رہی ہے تاکہ ملک کو زیادہ مہارت رکھنے والی افرادی قوت اور بہتر آمدنی والے معاشی نظام کی طرف منتقل کیا جا سکے۔
انور ابراہیم نے یہ بات “ملائیشیا مدانی اسکالرز فورم سیریز 12” سے خطاب کرتے ہوئے کہی، جو سیکیورٹیز کمیشن ملائیشیا، بکیت کیارا میں منعقد ہوا۔ ان کے مطابق حکومت ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ، اعلیٰ تعلیم اور مقامی ٹیلنٹ کی تربیت پر سرمایہ کاری بڑھا رہی ہے تاکہ مقامی افراد کو بہتر مہارتیں اور زیادہ تنخواہوں والی ملازمتیں مل سکیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ اگر ملائیشیا مسلسل سستے غیر ملکی مزدوروں پر انحصار کرتا رہا تو مقامی اجرتوں میں اضافہ، بہتر معیارِ زندگی اور عالمی سطح پر مسابقتی معیشت کا ہدف حاصل کرنا مشکل ہو جائے گا۔
وزیرِاعظم نے اعتراف کیا کہ اجرتوں میں سست رفتار اضافہ ملائیشیا کی معیشت کا ایک پرانا اور بنیادی مسئلہ رہا ہے۔ ان کے مطابق ماضی کی بعض معاشی پالیسیوں سے عام شہریوں کے بجائے زیادہ فائدہ سیاسی طور پر مضبوط اور اعلیٰ آمدنی والے طبقوں کو پہنچا۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس وقت فرسودہ معاشی پالیسیوں اور بدعنوانی کے اس کلچر کو ختم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو کئی دہائیوں سے نظام میں موجود ہے۔ تاہم انہوں نے یہ بھی تسلیم کیا کہ ان اصلاحات کے راستے میں مزاحمت کا سامنا ہے۔
انور ابراہیم کے مطابق حالیہ عرصے میں معاشی اشاریوں میں بہتری ضرور دیکھی گئی ہے، لیکن صرف مثبت اعداد و شمار پر مطمئن ہو جانا مناسب نہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر حکومت، کاروباری ادارے اور معاشرہ خود اطمینانی کا شکار ہو گئے تو اس سے ترقی کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مدانی حکومت یہ دعویٰ نہیں کرتی کہ اس کے پاس تمام مسائل کے مکمل حل موجود ہیں، اسی لیے حکومت ماہرینِ تعلیم، محققین اور نجی شعبے کے ساتھ کھلے مباحثے اور پالیسی ڈائیلاگ کو فروغ دے رہی ہے تاکہ بہتر اور مؤثر اصلاحات تیار کی جا سکیں۔
وزیرِاعظم نے خزانہ ریسرچ انسٹیٹیوٹ کی ایک حالیہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مائیکرو فنانسنگ پروگرامز کے لیے کروڑوں رنگٹ مختص کیے جانے کے باوجود صرف 6 فیصد کم آمدنی والے افراد کو ان اسکیموں سے فائدہ پہنچا۔ ان کے مطابق یہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ سرکاری اعلانات اور عوامی سطح پر حقیقی فائدے کے درمیان واضح فرق موجود ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ معاشی اصلاحات صرف مجموعی اقتصادی ترقی یا بڑے اعداد و شمار تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ ان کا فائدہ دیہی آبادی، چھوٹے تاجروں، عام ملازمین اور کم آمدنی والے خاندانوں تک بھی پہنچنا چاہیے۔
دوسری جانب وزیرِ خزانہ دوم داتوک سری امیر حمزہ عزیزان نے کہا کہ حکومت ملازمین کی مجموعی آمدنی کو ملک کی مجموعی قومی پیداوار کے 40 سے 45 فیصد تک لے جانا چاہتی ہے، جبکہ 2023 میں یہ شرح تقریباً 33.5 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی۔
انہوں نے بتایا کہ موجودہ اجرتی صورتحال پالیسی سازوں کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملائیشیا میں اوسط ماہانہ تنخواہ تقریباً 3,167 رنگٹ ہے، جبکہ صرف 12 فیصد باضابطہ شعبے کے ملازمین ایسے ہیں جن کی ماہانہ آمدنی 10 ہزار رنگٹ یا اس سے زیادہ ہے۔
امیر حمزہ کے مطابق یہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ عوام کی آمدنی بڑھانے کے لیے مزید مؤثر اقدامات کی ضرورت ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب زندگی گزارنے کے اخراجات میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ملائیشیا اس وقت ایک ایسے مرحلے پر کھڑا ہے جہاں معیشت کو کم لاگت والی لیبر سے ہٹا کر ٹیکنالوجی، مہارت اور زیادہ پیداواری صلاحیت پر مبنی نظام کی طرف منتقل کرنا حکومت کی ترجیح بنتا جا رہا ہے۔ اسی مقصد کے لیے حکومت تعلیم، تربیت اور صنعتی جدیدکاری پر زیادہ توجہ دے رہی ہے۔

COMMENTS