کوالالمپور: ملائیشیا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس خالد اسماعیل نے کہا ہے کہ ملک کی ویزا فری پالیسی ان عوامل میں شامل ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر کے...
کوالالمپور: ملائیشیا کے انسپکٹر جنرل آف پولیس خالد اسماعیل نے کہا ہے کہ ملک کی ویزا فری پالیسی ان عوامل میں شامل ہے جس کی وجہ سے دنیا بھر کے اسکیمرز اور بین الاقوامی فراڈ گروہ ملائیشیا کو اپنی سرگرمیوں کے لیے پرکشش مقام سمجھتے ہیں۔
انہوں نے آج ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اس پالیسی کی وجہ سے غیر ملکی جرائم پیشہ افراد کے لیے ملک میں داخل ہو کر کارروائیاں کرنا نسبتاً آسان ہو جاتا ہے۔ تاہم انہوں نے اس حوالے سے دیگر عوامل کی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
آئی جی پی کے مطابق پولیس، امیگریشن ڈیپارٹمنٹ اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے غیر ملکی شہریوں اور سیاحوں کی ملک میں آمد کی نگرانی کے لیے باہمی تعاون سے کام کر رہے ہیں تاکہ بین الاقوامی جرائم پیشہ نیٹ ورکس پر قابو پایا جا سکے۔
اس سے قبل خالد اسماعیل نے انکشاف کیا کہ 6 اور 7 مئی کو کیے گئے خصوصی آپریشن کے دوران 187 مقامی اور غیر ملکی افراد کو گرفتار کیا گیا، جن پر بین الاقوامی آن لائن فراڈ نیٹ ورکس سے تعلق رکھنے کا شبہ ہے۔
پولیس کے مطابق کارروائی میں کال سینٹر فراڈ، جعلی اسٹاک سرمایہ کاری اسکیموں، مالیاتی دھوکہ دہی اور سرحد پار تجارتی جرائم میں ملوث گروہوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ان جرائم کا شکار مقامی شہریوں کے ساتھ ساتھ بیرون ملک افراد بھی بنے تھے۔
گرفتار ہونے والوں میں سب سے زیادہ تعداد چینی شہریوں کی تھی، جن کی تعداد 129 بتائی گئی، جبکہ 23 ملائیشین شہری بھی حراست میں لیے گئے۔
گزشتہ سال ملائیشیا کے وزیر سیاحت، فنون و ثقافت تیونگ کنگ سنگ نے چینی شہریوں کے لیے 90 روزہ ویزا فری انٹری پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا تھا کہ پالیسی ختم کرنے کے بجائے مؤثر قانون نافذ کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس سے ملکی معیشت کو فائدہ پہنچتا ہے۔
انہوں نے کہا تھا کہ اگرچہ کچھ افراد ویزا فری سہولت کا غلط استعمال کرتے ہوئے غیر مجاز کاروباری سرگرمیوں میں ملوث ہو سکتے ہیں، لیکن چند کیسز کی بنیاد پر ایسی پالیسیوں کو ختم نہیں کیا جانا چاہیے جو معاشی ترقی میں مددگار ہوں۔
پریس کانفرنس کے دوران خالد اسماعیل نے بتایا کہ اس کیس میں پولیس نے 24 تحقیقاتی فائلیں کھولی ہیں۔ اس کے علاوہ 3 لگژری جائیدادیں بھی ضبط کی گئی ہیں جن کی مجموعی مالیت 3 کروڑ 80 لاکھ رنگٹ بتائی گئی ہے۔
پولیس نے 20 قیمتی گاڑیاں بھی قبضے میں لیں، جن میں رولز رائس جیسی مہنگی گاڑیاں شامل ہیں۔ ان گاڑیوں کی مجموعی مالیت تقریباً 65 لاکھ 80 ہزار رنگٹ ہے۔
اسی طرح برانڈڈ گھڑیاں، ہینڈ بیگز، زیورات، بٹوے اور سونے کی اینٹیں بھی ضبط کی گئیں جن کی مالیت تقریباً ایک کروڑ 20 لاکھ رنگٹ بتائی گئی۔ پولیس نے 556 ڈیجیٹل ڈیوائسز بھی قبضے میں لیں، جن میں موبائل فون، کمپیوٹرز اور لیپ ٹاپ شامل ہیں۔ ان ڈیوائسز کی مجموعی قیمت تقریباً 5 لاکھ 52 ہزار رنگٹ ہے۔
تحقیقات کے مطابق یہ بین الاقوامی گروہ ہانگ کانگ، چین، کوریا اور جاپان سمیت مختلف ممالک کے شہریوں کو آن لائن نشانہ بنا رہے تھے۔
ایک الگ معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے خالد اسماعیل نے کہا کہ پولیس نے سنگاپور میں سرگرم قرض خور گروہوں سے تعلق رکھنے والے تقریباً 35 افراد کو گرفتار کیا ہے۔
انہوں نے میڈیا کی اس رپورٹ پر تبصرہ کیا جس میں کہا گیا تھا کہ ملائیشین ڈیلیوری رائیڈرز کو سنگاپور میں قرض خور گروہ استعمال کر رہے تھے تاکہ قرض نہ ادا کرنے والوں کو ڈرایا جا سکے، جبکہ ان رائیڈرز کو وہاں کے نسلی اور مذہبی قوانین کی خلاف ورزی کے نتائج کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔
آئی جی پی نے مزید بتایا کہ پولیس ایپوہ کے ایک لاک اپ میں منشیات، موبائل فونز اور تیز دھار ہتھیار ملنے کے واقعے کی بھی تحقیقات کر رہی ہے۔ اس معاملے میں ملوث افسران اور اہلکاروں کو معطل کرنے کے احکامات جاری کر دیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ تمام ضلعی پولیس سربراہان کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ وقتاً فوقتاً لاک اپس کا معائنہ کریں تاکہ سکیورٹی اور نگرانی کے نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔

COMMENTS