ملائیشیا میں امیگریشن ڈپو میں زیر حراست غیر ملکیوں کی بڑھتی تعداد کے باعث حکومت کو روزانہ تقریباً 18 لاکھ 70 ہزار رنگٹ خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔ ...
ملائیشیا میں امیگریشن ڈپو میں زیر حراست غیر ملکیوں کی بڑھتی تعداد کے باعث حکومت کو روزانہ تقریباً 18 لاکھ 70 ہزار رنگٹ خرچ کرنا پڑ رہے ہیں۔ محکمہ امیگریشن کے مطابق اس وقت ملک بھر کے مختلف امیگریشن ڈپو میں 20 ہزار 775 غیر ملکی موجود ہیں جن کی خوراک، رہائش اور انتظامی اخراجات پر اوسطاً 90 رنگٹ فی فرد روزانہ خرچ ہو رہے ہیں۔
محکمہ امیگریشن کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چند برسوں کے دوران زیر حراست غیر ملکیوں کی تعداد مسلسل بڑھی ہے۔ سال 2023 میں یہ تعداد 12 ہزار 92 تھی، جو 2024 میں بڑھ کر 15 ہزار 917 ہو گئی۔ بعد ازاں 2025 میں یہ تعداد 18 ہزار 961 تک پہنچی جبکہ رواں سال 31 مارچ تک مجموعی تعداد 20 ہزار 775 ریکارڈ کی گئی۔
محکمہ امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتوک ذکریا شعبان کے مطابق موجودہ زیر حراست افراد میں 16 ہزار 642 مرد اور 4 ہزار 133 خواتین شامل ہیں۔ ان تمام افراد کو امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت مختلف خلاف ورزیوں پر حراست میں لیا گیا، جن میں بغیر درست پاس کے ملک میں داخل ہونا، ویزا مدت سے زیادہ قیام، پاس کی شرائط کی خلاف ورزی اور جعلی دستاویزات کا استعمال شامل ہے۔
ذکریا شعبان نے بتایا کہ امیگریشن ڈپو میں سب سے زیادہ تعداد میانمار، فلپائن، انڈونیشیا، بنگلہ دیش اور تھائی لینڈ کے شہریوں کی ہے۔ ان کے مطابق تقریباً 64 فیصد افراد پانچ ماہ سے کم مدت کے لیے ڈپو میں موجود رہے، جبکہ 15 فیصد چھ سے گیارہ ماہ کے درمیان اور 21 فیصد ایک سال سے زائد عرصے سے زیر حراست ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ بعض اوقات وطن واپسی کے عمل میں تاخیر اس لیے ہوتی ہے کیونکہ کئی افراد کے پاس درست سفری دستاویزات موجود نہیں ہوتیں۔ ایسے معاملات میں پہلے ان کی شہریت کی تصدیق کی جاتی ہے، جس کے بعد متعلقہ سفارت خانے نئے سفری کاغذات جاری کرتے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ جن افراد کے پاس درست سفری دستاویزات موجود ہوں، ان کے اہل خانہ یا آجر براہ راست ان کی واپسی کے ٹکٹ کا بندوبست کر سکتے ہیں۔ بعض کیسز میں زیر حراست افراد دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو بھی مطلوب ہوتے ہیں، جس کے باعث ان کی منتقلی یا ملک واپسی میں مزید وقت لگتا ہے۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق حکومت اخراجات کم کرنے اور ڈپو کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مختلف اقدامات کر رہی ہے۔ انہی اقدامات میں اوور اسٹے منیجمنٹ پروگرام بھی شامل ہے، جس کا آغاز 21 اکتوبر 2025 کو کیا گیا تھا۔
اس پروگرام کے تحت وہ غیر ملکی جنہوں نے 90 دن سے کم مدت تک زائد قیام کیا ہو، عدالت میں پیشی کے بغیر جرمانہ ادا کر کے اپنا معاملہ نمٹا سکتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد کیسز کو جلد حل کرنا اور امیگریشن ڈپو پر دباؤ کم کرنا ہے۔
حکام کے مطابق یہ پروگرام ان افراد کے لیے کھلا ہے جن کے پاس سوشل وزٹ پاس، اسٹوڈنٹ پاس، اسٹڈی پاس یا عارضی ورک ویزٹ پاس موجود تھا لیکن انہوں نے مقررہ مدت سے کم اوور اسٹے کیا۔ تاہم 90 دن سے زائد قیام کرنے والے افراد کو بلیک لسٹ کیا جاتا ہے جبکہ مجرمانہ ریکارڈ رکھنے والے یا بار بار خلاف ورزی کرنے والے افراد اس پروگرام کے اہل نہیں ہوتے۔
ذکریا شعبان نے بتایا کہ جرمانے کی شرح اوور اسٹے کے دورانیے کے مطابق مقرر کی گئی ہے۔ ایک سے 30 دن تک زائد قیام پر 30 رنگٹ یومیہ جرمانہ، 31 سے 60 دن کے لیے ایک ہزار رنگٹ جبکہ 61 سے 90 دن تک زائد قیام پر دو ہزار رنگٹ جرمانہ عائد کیا جاتا ہے۔
انہوں نے مائگرنٹ ری پیٹری ایشن پروگرام 2.0 کا بھی ذکر کیا، جو 19 مئی 2025 سے 30 اپریل 2026 تک نافذ رہا اور پھر ایک سال کی مزید توسیع کر دی گئی۔ اس پروگرام کے تحت غیر قانونی غیر ملکیوں کو رضاکارانہ طور پر وطن واپسی کی اجازت دی گئی جبکہ مختلف خلاف ورزیوں کے مطابق جرمانے بھی عائد کیے گئے۔
محکمہ امیگریشن کے مطابق 12 اپریل تک 2 لاکھ 28 ہزار 961 غیر قانونی غیر ملکی اس پروگرام کے تحت رجسٹر ہوئے جبکہ حکومت کو 11 کروڑ 45 لاکھ 80 ہزار رنگٹ سے زائد رقم حاصل ہوئی۔
حکام نے کہا کہ محکمہ امیگریشن روزانہ کی بنیاد پر وطن واپسی کا عمل جاری رکھے ہوئے ہے تاکہ زیر حراست افراد کی تعداد اور حکومتی اخراجات دونوں کو کم کیا جا سکے۔ اس مقصد کے لیے مختلف ممالک کے سفارت خانوں کے ساتھ تعاون بھی جاری ہے تاکہ سفری دستاویزات جلد جاری ہو سکیں۔

COMMENTS