ملائیشیا میں محکمہ امیگریشن نے غیر قانونی تارکین وطن اور بغیر دستاویزات کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کے خلاف مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پ...
ملائیشیا میں محکمہ امیگریشن نے غیر قانونی تارکین وطن اور بغیر دستاویزات کام کرنے والے غیر ملکی کارکنوں کے خلاف مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر کارروائیاں تیز کر دی ہیں۔ تازہ آپریشنز کے دوران پُچونگ، سیری کمبنگن، صباح کے کُدات اور تاواو سمیت مختلف مقامات سے درجنوں غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔
حکام کے مطابق ان کارروائیوں کا مقصد امیگریشن قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانا، غیر قانونی ملازمتوں کا خاتمہ کرنا اور ایسے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی کرنا ہے جو غیر قانونی کارکنوں کو ملازمت فراہم کرتے ہیں۔
پُچونگ میں ملائیشین امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے ایک بڑے آپریشن کے دوران 74 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا۔ کارروائی صبح 11 بجے سے رات 8 بجے تک جاری رہی اور یہ عوامی شکایات اور ایک ہفتے کی انٹیلی جنس نگرانی کے بعد کی گئی۔ حکام نے ریسٹورنٹس، گروسری اسٹورز، سیلونز، لانڈری شاپس، کیوسکس اور سپر مارکیٹس سمیت 30 کاروباری مقامات کی تلاشی لی۔
امیگریشن کے ڈپٹی ڈائریکر جنرل (آپریشنز) داتک لوکمان ایفندی راملی کے مطابق 59 افسران پر مشتمل ٹیم نے مجموعی طور پر 186 غیر ملکی اور 175 مقامی افراد کی جانچ پڑتال کی۔ گرفتار کیے گئے افراد میں انڈونیشیا، میانمار، نیپال، بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان اور چین کے شہری شامل تھے جن کی عمریں 23 سے 45 سال کے درمیان بتائی گئیں۔
حکام کے مطابق بعض کاروباری مالکان قانونی کاروباری لائسنس کو “ڈھال” کے طور پر استعمال کرتے ہوئے بغیر دستاویزات غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دے رہے تھے تاکہ کارروائی سے بچا جا سکے۔ امیگریشن حکام نے کہا کہ کچھ غیر قانونی تارکین وطن نے کارروائی کے دوران تعاون سے انکار کیا، فرار ہونے کی کوشش کی اور مختلف حربے استعمال کیے۔
لوکمان ایفندی نے کہا کہ محکمہ ان افراد یا کمپنیوں کے خلاف بھی سخت کارروائی کرے گا جو غیر قانونی تارکین وطن کو ملازمت دیتے یا انہیں تحفظ فراہم کرتے ہیں۔ گرفتار شدگان کو مزید تحقیقات کے لیے امیگریشن ڈپو منتقل کر دیا گیا ہے۔
دوسری جانب سیری کمبنگن میں “اوپس ماہر” کے نام سے ایک الگ کارروائی کے دوران امیگریشن حکام نے ایک ایسے مبینہ نیٹ ورک کا سراغ لگایا جو غیر قانونی کارکنوں کو ملازمت فراہم کر رہا تھا۔ یہ کارروائی ایک گاڑیوں کے سامان کی فیکٹری میں کی گئی۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ کاروبار ایک چینی شہری چلا رہا تھا جو مبینہ طور پر اپنے ہی ملک کے شہریوں سمیت دیگر غیر ملکی کارکنوں کو بغیر قانونی ورک پرمٹ ملازمت دے رہا تھا۔
کارروائی میں 24 افراد کی جانچ پڑتال کی گئی جن میں 21 غیر ملکی اور تین مقامی شہری شامل تھے۔ بعد ازاں 16 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کیا گیا جن میں چینی اور میانمار کے شہری شامل تھے۔ ان کی عمریں 26 سے 35 سال کے درمیان تھیں۔ تین مقامی افراد کو تحقیقات میں معاونت کے لیے گواہ سمن فارم جاری کیے گئے۔
اسی دوران ریاست صباح کے علاقوں کُدات اور تاواو میں بھی امیگریشن آپریشنز کیے گئے جہاں مجموعی طور پر 38 غیر ملکی شہری گرفتار کیے گئے۔ ان کارروائیوں میں “اوپس ساپو”، “اوپس ماہر”، “اوپس سلیرا” اور “اوپس گیگر” شامل تھے۔
کُدات میں 20 افراد کی جانچ پڑتال کے بعد فلپائن سے تعلق رکھنے والے 15 افراد کو حراست میں لیا گیا جن میں مرد، خواتین اور بچے شامل تھے۔ حکام کے مطابق ان پر درست سفری دستاویزات نہ رکھنے اور ویزا شرائط کی خلاف ورزی کے الزامات ہیں۔
تاواو میں 56 افراد کی جانچ پڑتال کے بعد 23 غیر ملکی گرفتار کیے گئے جن میں 18 فلپائنی، چار انڈونیشین اور ایک بھارتی شہری شامل تھا۔ تمام افراد پر امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی خلاف ورزی کا شبہ ظاہر کیا گیا۔
ملائیشین حکام کا کہنا ہے کہ غیر قانونی تارکین وطن کی آمد کو روکنے اور مقامی لیبر قوانین پر عملدرآمد یقینی بنانے کے لیے اس نوعیت کی کارروائیاں وقتاً فوقتاً جاری رہیں گی۔ حکومت حالیہ مہینوں میں ایسے آجروں کے خلاف بھی سخت مؤقف اختیار کر رہی ہے جو کم لاگت کے لیے غیر قانونی کارکنوں کو ملازمت دیتے ہیں۔
ان کارروائیوں کے ساتھ ساتھ ملائیشیا میں غیر ملکی کارکنوں کے نظام پر بحث بھی جاری ہے۔ حال ہی میں انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن نے زور دیا تھا کہ غیر ملکی کارکنوں پر بھرتی فیس اور غیر ضروری اخراجات کا بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے اور بھرتی کا نظام شفاف اور منصفانہ ہونا چاہیے۔
ملائیشیا میں تعمیرات، خدمات، خوراک، گھریلو کام اور مینوفیکچرنگ سمیت کئی شعبے غیر ملکی افرادی قوت پر انحصار کرتے ہیں۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ قانونی دستاویزات اور ورک پرمٹس کے بغیر کام کرنے والوں کے خلاف کارروائی جاری رہے گی تاکہ امیگریشن نظام کو بہتر بنایا جا سکے۔

COMMENTS