کوالالمپور: ملائیشیا میں ہنر مند افراد کی بیرونِ ملک منتقلی، جسے عام طور پر “برین ڈرین” کہا جاتا ہے، اب بھی ملک کی انسانی وسائل کی ترقی کے ل...
کوالالمپور: ملائیشیا میں ہنر مند افراد کی بیرونِ ملک منتقلی، جسے عام طور پر “برین ڈرین” کہا جاتا ہے، اب بھی ملک کی انسانی وسائل کی ترقی کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔ عالمی بینک کی تازہ رپورٹ کے مطابق بڑی تعداد میں تعلیم یافتہ اور مہارت رکھنے والے ملائیشین بہتر مواقع کی تلاش میں بیرونِ ملک جا رہے ہیں، جس سے مقامی معیشت اور صنعتی ترقی متاثر ہو رہی ہے۔
عالمی بینک نے اپنی اپریل 2026 کی رپورٹ میں بتایا کہ بیرونِ ملک مقیم 18 لاکھ 60 ہزار سے زائد ملائیشین شہریوں میں سے نصف سے زیادہ افراد ہنر مند یا نیم ہنر مند شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق سنگاپور، آسٹریلیا، برطانیہ اور امریکا وہ اہم ممالک ہیں جہاں ملائیشیا کے تعلیم یافتہ افراد ملازمتوں کے لیے منتقل ہو رہے ہیں۔ خاص طور پر ٹیکنالوجی، انجینئرنگ، مینجمنٹ اور جدید صنعتی شعبوں سے وابستہ گریجویٹس ترقی یافتہ معیشتوں کی جانب سے زیادہ طلب میں ہیں۔
عالمی بینک کا کہنا ہے کہ اس صورتحال سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملائیشیا کی مقامی معیشت اب تک اتنی مضبوط نہیں ہو سکی کہ وہ اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد کو مناسب روزگار، بہتر تنخواہیں اور ترقی کے مواقع فراہم کر سکے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ دوسری جانب ملائیشیا کی کئی صنعتیں اب بھی کم مہارت والے غیر ملکی مزدوروں پر انحصار کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے ملک ایک طرح سے “مہارت برآمد کرنے والی معیشت” بن چکا ہے۔ یعنی ملک خود ہنر مند افراد تیار کرتا ہے لیکن بہتر مواقع نہ ہونے کے باعث وہ بیرونِ ملک منتقل ہو جاتے ہیں۔
عالمی بینک کے مطابق بہت سے مقامی ماہرین اور گریجویٹس کو ملک کے اندر ایسی ملازمتیں نہیں ملتیں جو ان کی قابلیت کے مطابق ہوں، اس لیے وہ ان ممالک کا رخ کرتے ہیں جہاں ان کی مہارت کو بہتر انداز میں استعمال کیا جاتا ہے اور زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے۔
رپورٹ میں ملائیشیا کے موجدوں اور اختراع کرنے والے افراد کے بیرونِ ملک منتقل ہونے کے رجحان پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ اس میں بتایا گیا کہ دنیا بھر میں ایسے پیٹنٹس کی تعداد بڑھ رہی ہے جو ملائیشین موجدوں نے تیار کیے لیکن ان کی ملکیت غیر ملکی کمپنیوں کے پاس ہے۔
اس کے برعکس مقامی ملائیشین اداروں کے زیرِ ملکیت پیٹنٹس کی تعداد میں نمایاں اضافہ نہیں ہو سکا، جبکہ مشترکہ ملکیت والے پیٹنٹس میں کمی دیکھی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق 1990 کی دہائی کے اوائل میں تقریباً 62 سے 63 فیصد پیٹنٹس ایسے تھے جن میں ملائیشین موجدوں کی تخلیقات مقامی اداروں کی ملکیت ہوتی تھیں، لیکن 2020 تک یہ شرح کم ہو کر 20 فیصد سے بھی نیچے آ گئی۔
عالمی بینک نے نشاندہی کی کہ غیر ملکی کمپنیوں کے زیرِ ملکیت پیٹنٹس معیار اور عالمی اثر و رسوخ کے لحاظ سے مقامی پیٹنٹس سے بہتر کارکردگی دکھا رہے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ملائیشیا میں صلاحیت اور ٹیلنٹ کی کمی نہیں، بلکہ مسئلہ یہ ہے کہ غیر ملکی کمپنیاں زیادہ بہتر مواقع، تحقیقاتی ماحول اور مالی فوائد فراہم کر کے ان باصلاحیت افراد کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مقامی کمپنیاں اب تک ایسی مسابقتی پوزیشن حاصل نہیں کر سکیں جو ملک کے بہترین موجدوں اور ماہرین کو اپنے ساتھ برقرار رکھ سکے۔
ماہرین کے مطابق “برین ڈرین” کا مسئلہ صرف ملازمتوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات طویل مدت میں تحقیق، صنعتی جدت، ٹیکنالوجی کی ترقی اور ملکی معیشت پر بھی پڑتے ہیں۔ اگر ہنر مند افراد مسلسل بیرونِ ملک منتقل ہوتے رہے تو مقامی صنعتوں کی پیداواری صلاحیت اور عالمی مسابقت متاثر ہو سکتی ہے۔
عالمی بینک نے اپنی رپورٹ میں اس بات پر زور دیا کہ ملائیشیا کو صرف ٹیلنٹ پیدا کرنے پر نہیں بلکہ ایسا کاروباری اور صنعتی ماحول بنانے پر توجہ دینا ہوگی جہاں مقامی کمپنیاں ترقی کر سکیں، جدید تحقیق کو فروغ ملے اور ہنر مند افراد کو بہتر مواقع دستیاب ہوں۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ ایک دہائی میں ٹیکنالوجی کی تخلیق اور تجارتی استعمال کے میدان میں ملائیشیا کی نسبتاً کمزور کارکردگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اصل مسئلہ ٹیلنٹ کی کمی نہیں بلکہ مقامی کاروباری ماحول اور صنعتی ڈھانچے کی محدود صلاحیت ہے۔

COMMENTS