ملائیشیا کا محکمہ امیگریشن یکم جون 2026 سے نئے ڈیزائن اور جدید سیکیورٹی خصوصیات سے لیس ملائیشین پاسپورٹ جاری کرنا شروع کرے گا۔ حکام کے مطابق...
ملائیشیا کا محکمہ امیگریشن یکم جون 2026 سے نئے ڈیزائن اور جدید سیکیورٹی خصوصیات سے لیس ملائیشین پاسپورٹ جاری کرنا شروع کرے گا۔ حکام کے مطابق نئے پاسپورٹ میں مجموعی طور پر 94 سیکیورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں، جن کا مقصد قومی شناختی دستاویزات کو مزید محفوظ بنانا اور جعلسازی کے امکانات کم کرنا ہے۔
امیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل داتوک ذکریا شعبان نے بتایا کہ ابتدائی مرحلے میں نئے پاسپورٹ کا اجراء چار دفاتر سے کیا جائے گا، جن میں پُتراجایا میں امیگریشن ہیڈکوارٹر، جالان دتا کوالالمپور پاسپورٹ آفس، وانگسا ماجو یو ٹی سی اور شاہ عالم امیگریشن آفس شامل ہیں۔ ان کے مطابق اس منصوبے کو مرحلہ وار نافذ کیا جائے گا جبکہ جولائی تک ملک بھر میں اس کا مکمل اجراء متوقع ہے۔
ذکریا شعبان نے میڈیا کانفرنس کے دوران کہا کہ اس سے قبل ملائیشین پاسپورٹ میں 49 سیکیورٹی فیچرز موجود تھے، تاہم نئے ورژن میں یہ تعداد تقریباً دگنی کر کے 94 کر دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس اقدام کا مقصد پاسپورٹ کو زیادہ محفوظ بنانا اور جعلی دستاویزات تیار کرنے والے نیٹ ورکس کے لیے مشکلات پیدا کرنا ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ نئے پاسپورٹ میں جدید ہولوگرام، الٹرا وائلٹ پرنٹنگ، خفیہ بصری نشانات اور خصوصی فرانزک سیکیورٹی فیچرز شامل کیے گئے ہیں جنہیں نقل کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔ حکام کے مطابق پاسپورٹ کی جلد کو باندھنے کے لیے استعمال ہونے والے دھاگے میں بھی الگ سیکیورٹی خصوصیات رکھی گئی ہیں جبکہ ہر صفحے کا ڈیزائن مختلف بنایا گیا ہے تاکہ جعلسازی کو مزید مشکل بنایا جا سکے۔
ذکریا شعبان نے عوام کو مشورہ دیا کہ وہ صرف نئے فیچرز کی وجہ سے فوری طور پر اپنے موجودہ پاسپورٹ تبدیل نہ کریں۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ تمام پاسپورٹس جو اپنی معیاد کے اندر ہیں اور جن کی مدت کم از کم چھ ماہ باقی ہے، بدستور قابل استعمال رہیں گے۔
ان کے مطابق شہری موجودہ پاسپورٹ کی معیاد ختم ہونے کے بعد ہی تجدید کروائیں تو بہتر ہوگا تاکہ دفاتر پر غیر ضروری دباؤ نہ بڑھے۔ انہوں نے کہا کہ نئے پاسپورٹ کے لیے آن لائن درخواست دینے کی سہولت بھی دستیاب ہوگی، تاہم یہ متعلقہ پاسپورٹ دفاتر کی گنجائش اور انتظامی صلاحیت پر منحصر ہوگا۔
امیگریشن حکام نے آن لائن درخواست دینے والے شہریوں کو مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے تبدیل شدہ تصاویر استعمال نہ کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ ذکریا شعبان نے کہا کہ بعض درخواست گزار اپنی تصاویر کو زیادہ بہتر دکھانے کے لیے اے آئی ٹولز استعمال کرتے ہیں، جیسے چہرے کی رنگت روشن کرنا یا ظاہری شکل میں تبدیلی کرنا، لیکن ایسے طریقے قواعد کے خلاف ہیں۔
انہوں نے کہا کہ محکمہ امیگریشن کے افسران اے آئی سے تیار یا تبدیل شدہ تصاویر کی شناخت کرنے کی مہارت رکھتے ہیں، اس لیے درخواست دہندگان کو اصل اور غیر ترمیم شدہ تصاویر ہی جمع کروانی چاہئیں۔
اس سال کے آغاز میں وزیر داخلہ داتوک سری سیف الدین ناسوشن اسماعیل نے اعلان کیا تھا کہ ملائیشیا نئے ڈیزائن کے پاسپورٹ اور مائی کارڈ متعارف کروائے گا تاکہ قومی شناختی دستاویزات کی سیکیورٹی کو مزید مضبوط بنایا جا سکے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ بدلتے ہوئے عالمی سیکیورٹی چیلنجز اور جعلی دستاویزات کے بڑھتے خطرات کے پیش نظر جدید حفاظتی نظام ضروری ہو چکا ہے۔
ملائیشین پاسپورٹ اس وقت دنیا کے طاقتور ترین پاسپورٹس میں شمار ہوتا ہے۔ 2025 کی عالمی درجہ بندی کے مطابق ملائیشیا کا پاسپورٹ دنیا میں تیسرے نمبر پر رہا، جس سے شہریوں کو متعدد ممالک میں آسان سفری رسائی حاصل ہوتی ہے۔ حکام کے مطابق نئے سیکیورٹی فیچرز سے نہ صرف بین الاقوامی اعتماد مزید بڑھے گا بلکہ سرحدی کنٹرول اور شناختی تصدیق کا نظام بھی مضبوط ہوگا۔
حالیہ مہینوں میں ملائیشیا میں جعلی امیگریشن مہروں، جعلی پاسپورٹ درخواستوں اور دستاویزات میں ردوبدل سے متعلق کئی کیسز سامنے آئے ہیں۔ اسی تناظر میں حکومت نے پاسپورٹ سسٹم کو جدید بنانے اور سیکیورٹی معیارات بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ قومی شناختی نظام کو عالمی معیار کے مطابق مزید محفوظ بنایا جا سکے۔

COMMENTS