کوالالمپور: ملائیشیا کی حکومت نے صنعتی اور مینوفیکچرنگ شعبوں میں آٹومیشن کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو غیر ملکی مزدور...
کوالالمپور: ملائیشیا کی حکومت نے صنعتی اور مینوفیکچرنگ شعبوں میں آٹومیشن کے عمل کو تیز کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کو غیر ملکی مزدوروں پر اپنی زیادہ انحصاری کم کرنا ہوگی تاکہ عالمی سطح پر مسابقت برقرار رکھی جا سکے۔
نائب وزیر سرمایہ کاری، تجارت و صنعت سم تزے تزین نے کہا کہ کئی صنعتیں اب بھی دستی نظام اور غیر ملکی افرادی قوت پر حد سے زیادہ انحصار کر رہی ہیں، جس کی وجہ سے وہ ویلیو چین میں آگے بڑھنے اور جدید صنعتی معیشت کا حصہ بننے میں پیچھے رہ جاتی ہیں۔
انہوں نے کوالالمپور میں میٹل ٹیک اینڈ آٹو میکس ایگزیبیشن 2026 کی افتتاحی تقریب کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اگر ملائیشیا مسلسل غیر ملکی کارکنوں پر انحصار کرتا رہا اور پیداواری عمل کو مکمل طور پر دستی انداز میں چلایا جاتا رہا تو ملک علاقائی اور عالمی مقابلے میں پیچھے رہ سکتا ہے۔
سم تزے تزین کے مطابق آٹومیشن سے مقامی کارکنوں کی ملازمتیں ختم نہیں ہوں گی بلکہ انہیں زیادہ مہارت والے اور بہتر تنخواہ والے شعبوں میں منتقل ہونے کا موقع ملے گا۔ انہوں نے کہا کہ بعض افراد کو خدشہ ہے کہ مشینوں اور خودکار نظام کے باعث کارکن بے روزگار ہو جائیں گے، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ جب کوئی فیکٹری آٹومیشن کی طرف جاتی ہے تو روایتی آپریٹرز کو ٹیکنیشن، مشین کنٹرول ماہر یا جدید سسٹم چلانے والے تربیت یافتہ کارکنوں میں تبدیل کیا جاتا ہے، جس سے ان کی مہارت اور آمدنی دونوں میں اضافہ ہوتا ہے۔
وزیر کے مطابق اس وقت ملائیشیا کو دو بڑے چیلنجز کا سامنا ہے۔ پہلا چیلنج تیزی سے بدلتی ہوئی ٹیکنالوجی ہے جبکہ دوسرا بڑھتی ہوئی لاگت اور اجرتوں کا دباؤ ہے، جو ملک کی ہائی انکم اکانومی کی جانب منتقلی کے ساتھ مزید نمایاں ہو رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایسے حالات میں آٹومیشن صرف ایک آپشن نہیں بلکہ صنعتی ترقی اور پیداواری صلاحیت برقرار رکھنے کے لیے ناگزیر ضرورت بن چکی ہے۔ حکومت خاص طور پر چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں میں خودکار نظام متعارف کرانے پر توجہ دے رہی ہے تاکہ ان کی کارکردگی، درستگی اور طویل مدتی مسابقت بہتر بنائی جا سکے۔
سم تزے تزین نے بتایا کہ حکومت نے تقریباً 3,000 کمپنیوں کو دستی نظام سے آٹومیشن کی طرف منتقل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ اس مقصد کے لیے مختلف مالی معاونت اور گرانٹس فراہم کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ بڑے صنعتی اداروں کے لیے میچنگ گرانٹس کی مالیت 20 ملین رنگٹ تک جا سکتی ہے، جبکہ ملائیشین انڈسٹریل ڈیولپمنٹ فائنانس برہاد کم شرح سود پر فنانسنگ فراہم کر رہا ہے تاکہ کمپنیاں جدید مشینری اور خودکار نظام اپنا سکیں۔
اسی طرح ایگزم بنک بھی کمپنیوں کو ڈیجیٹلائزیشن اور برآمدات کے تحفظ کے لیے خصوصی مالی سہولیات فراہم کر رہا ہے تاکہ مقامی صنعتیں عالمی مارکیٹ میں بہتر انداز سے مقابلہ کر سکیں۔
ملائیشیا میں غیر ملکی مزدوروں کا مسئلہ کئی برسوں سے زیر بحث ہے، خاص طور پر مینوفیکچرنگ، تعمیرات، زرعی اور خدمات کے شعبوں میں۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ اگر معیشت کو طویل مدت میں مضبوط اور پائیدار بنانا ہے تو جدید ٹیکنالوجی، روبوٹکس اور اسمارٹ مینوفیکچرنگ کو فروغ دینا ہوگا۔
ماہرین کے مطابق آٹومیشن سے نہ صرف پیداوار میں اضافہ ممکن ہے بلکہ صنعتی حادثات میں کمی، معیار میں بہتری اور وقت کی بچت بھی حاصل کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے کارکنوں کی تربیت، تکنیکی تعلیم اور نئی مہارتوں کی فراہمی بھی ضروری ہوگی تاکہ مقامی افرادی قوت بدلتے ہوئے صنعتی ماحول کے مطابق خود کو ڈھال سکے۔
حکومت کی حالیہ پالیسیوں کو ملائیشیا کی صنعتی تبدیلی کے ایک اہم مرحلے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جہاں روایتی مینوفیکچرنگ سے نکل کر جدید اور ٹیکنالوجی پر مبنی معیشت کی جانب پیش رفت کی جا رہی ہے۔

COMMENTS