ملائیشیا کی ریاست صباح میں امیگریشن حکام نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 37 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائ...
ملائیشیا کی ریاست صباح میں امیگریشن حکام نے غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے 37 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ یہ کارروائی ریاست کے مختلف علاقوں خصوصاً کوٹا کنابالو اور تاواؤ میں مشترکہ امیگریشن آپریشن کے دوران کی گئی۔
جاباتن امیگریشن ملائیشیا صباح کی جانب سے جاری بیان کے مطابق یہ کارروائی “اوپس ساپو”، “اوپس کوتیپ”، “اوپس بیلانجا” اور “اوپس سلیرا” کے تحت کی گئی۔ ان آپریشنز میں صباح امیگریشن انفورسمنٹ ڈویژن کے ساتھ تاواؤ امیگریشن حکام نے بھی حصہ لیا۔
حکام کے مطابق مجموعی طور پر 17 مختلف مقامات اور کاروباری مراکز کی جانچ پڑتال کی گئی، جہاں 190 افراد کی دستاویزات اور قانونی حیثیت کی جانچ کی گئی۔ ان میں سے 37 غیر ملکی شہریوں کو امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی کے شبہ میں حراست میں لیا گیا۔
گرفتار افراد میں 10 فلپائنی مرد، 12 فلپائنی خواتین، سات پاکستانی مرد، تین بھارتی مرد اور پانچ انڈونیشی خواتین شامل ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان افراد پر ملائیشین امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی مختلف دفعات کے تحت کارروائی کی جا رہی ہے۔
بیان کے مطابق کچھ افراد پر بغیر قانونی سفری دستاویزات کے ملک میں داخل ہونے کا الزام ہے، جبکہ بعض افراد پر مقررہ مدت سے زیادہ عرصہ صباح میں قیام کرنے کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ان خلاف ورزیوں کو امیگریشن ایکٹ کی دفعہ 6(1)(سی) اور دفعہ 15(1)(سی) کے تحت دیکھا جا رہا ہے۔
امیگریشن حکام نے کہا کہ یہ کارروائیاں غیر قانونی تارکین وطن کی موجودگی روکنے اور ریاست میں امیگریشن قوانین پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی مسلسل مہم کا حصہ ہیں۔ حکام کے مطابق ریاستی سکیورٹی اور عوامی نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اس طرح کی کارروائیاں باقاعدگی سے جاری رکھی جائیں گی۔
حکام نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف غیر قانونی طور پر مقیم افراد ہی نہیں بلکہ ایسے افراد یا ادارے بھی کارروائی کی زد میں آئیں گے جو غیر قانونی تارکین وطن کو پناہ دیتے یا ملازمت فراہم کرتے ہیں۔ جے آئی ایم صباح نے خبردار کیا کہ امیگریشن قوانین کی خلاف ورزی پر کسی قسم کی رعایت نہیں دی جائے گی۔
بیان میں عوام سے بھی تعاون کی اپیل کی گئی ہے۔ شہریوں سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے علاقوں میں غیر قانونی غیر ملکیوں کی موجودگی سے متعلق معلومات حکام تک پہنچائیں تاکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے فوری کارروائی کر سکیں۔
ملائیشیا خصوصاً صباح ریاست طویل عرصے سے غیر قانونی تارکین وطن کے مسئلے کا سامنا کر رہی ہے، کیونکہ یہ علاقہ سمندری سرحدوں کے ذریعے دیگر ممالک کے قریب واقع ہے۔ حکام کے مطابق بعض غیر ملکی روزگار یا دیگر مقاصد کے لیے غیر قانونی طریقے سے داخل ہوتے ہیں، جس سے سکیورٹی، روزگار اور سماجی خدمات پر دباؤ بڑھتا ہے۔
گزشتہ چند ماہ کے دوران صباح اور دیگر علاقوں میں متعدد امیگریشن کارروائیاں کی جا چکی ہیں۔ حالیہ مہینوں میں جعلی شناختی دستاویزات، غیر قانونی ملازمتوں اور انسانی اسمگلنگ سے متعلق کئی کیسز بھی سامنے آئے ہیں، جس کے بعد حکومت نے نگرانی اور انفورسمنٹ مزید سخت کر دی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ امیگریشن قوانین پر سختی سے عملدرآمد نہ صرف ملکی سلامتی بلکہ قانونی تارکین وطن اور کاروباری نظام کے تحفظ کے لیے بھی ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف اداروں کے تعاون سے مربوط آپریشن جاری رکھے جا رہے ہیں۔

COMMENTS