ملائیشیا میں کارکنوں کے درمیان بڑھتے ہوئے موٹاپے اور زائد وزن کے مسئلے نے آجر تنظیموں اور مزدور یونینز میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ سوشل سکیورٹی...
ملائیشیا میں کارکنوں کے درمیان بڑھتے ہوئے موٹاپے اور زائد وزن کے مسئلے نے آجر تنظیموں اور مزدور یونینز میں تشویش پیدا کر دی ہے۔ سوشل سکیورٹی آرگنائزیشن کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 2023 سے 2025 کے دوران صحت کے ایک پروگرام کے تحت اسکریننگ کیے گئے تقریباً 60 فیصد کارکن زائد وزن یا موٹاپے کا شکار پائے گئے۔
رپورٹ کے بعد مختلف کاروباری اور مزدور حلقوں نے اس مسئلے کو صرف صحت کا معاملہ نہیں بلکہ ملکی پیداواری صلاحیت، ملازمین کی فلاح اور معاشی کارکردگی سے جڑا ایک اہم چیلنج قرار دیا ہے۔
ملائیشین ایمپلائرز فیڈریشن کے صدر سید حسین سید حسن نے کہا کہ اگر ملازمین صحت کے مسائل کی وجہ سے مؤثر انداز میں کام نہ کر سکیں تو اس کا براہ راست اثر اداروں کی کارکردگی اور مجموعی پیداوار پر پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ زائد وزن یا موٹاپے کا شکار ملازمین اکثر تھکن، ذہنی دباؤ اور دیگر طبی مسائل کا سامنا کرتے ہیں، جس کی وجہ سے ان کی کام کرنے کی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ کمپنیوں کے طبی اخراجات بھی بڑھ جاتے ہیں۔
سید حسین کے مطابق اگر یہ رجحان مسلسل بڑھتا رہا تو اس سے نہ صرف کاروباری اداروں کے اخراجات میں اضافہ ہوگا بلکہ ملائیشیا کی عالمی مسابقت اور غیر ملکی سرمایہ کاری کو بھی متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔
انہوں نے اس بات کی نشاندہی کی کہ کئی چھوٹی اور درمیانے درجے کی کمپنیاں ملازمین کی صحت سے متعلق پروگراموں پر سرمایہ کاری کی مالی صلاحیت نہیں رکھتیں۔ اس لیے حکومت کو چاہیے کہ وہ کمپنیوں کو ٹیکس میں رعایت یا دیگر مالی مراعات فراہم کرے تاکہ وہ ورک پلیس ویلفیئر پروگرام شروع کر سکیں۔
انہوں نے تجویز دی کہ حکومتی مراعات صرف جم یا فٹنس سہولیات تک محدود نہ ہوں بلکہ صحت مند غذا، باقاعدہ طبی معائنے اور ذہنی صحت سے متعلق سہولیات کے لیے بھی سبسڈی فراہم کی جائے۔
گزشتہ ہفتے نائب وزیر انسانی وسائل خیرال فردوس اکبر خان نے بتایا تھا کہ سوشل سیکورٹی آرگنائزیشن کے صحت پروگرام کے تحت اسکرین کیے گئے 59.2 فیصد کارکن زائد وزن یا موٹاپے کا شکار پائے گئے۔
اعداد و شمار کے مطابق تقریباً 19 فیصد کارکن ذیابیطس میں مبتلا تھے جبکہ 17.45 فیصد کو ہائی بلڈ پریشر کا مسئلہ تھا۔ اسی طرح 59.24 فیصد افراد میں کولیسٹرول کی سطح زیادہ پائی گئی۔ زیادہ تر متاثرہ کارکنوں کی عمر 40 سے 59 سال کے درمیان تھی۔
ادھر نیشنل یونین آف ٹرانسپورٹ ایکوپمنٹ اینڈ الائیڈ انڈسٹری ورکرز کے نمائندے این گوپال کشنم نے کہا کہ موجودہ صحت بحران کی ایک بڑی وجہ ملازمین کی فلاح و بہبود پر مناسب توجہ نہ دینا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج کے کارکن، خصوصاً نوجوان طبقہ، مناسب ورک لائف بیلنس سے محروم ہے۔ کم اجرت اور بڑھتے ہوئے اخراجات کی وجہ سے بہت سے افراد کو اوور ٹائم یا ایک سے زیادہ نوکریاں کرنا پڑتی ہیں تاکہ وہ اپنی بنیادی ضروریات پوری کر سکیں۔
گوپال کے مطابق غیر ملکی مزدوروں کی بڑی تعداد بھی مقامی اجرتوں پر دباؤ ڈال رہی ہے، جس سے مقامی کارکنوں کے لیے مالی مشکلات مزید بڑھ رہی ہیں۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ بعض کمپنیاں اخراجات سے بچنے کے لیے جدید مشینری اور آٹومیشن متعارف کرانے سے گریز کرتی ہیں، جس کے نتیجے میں کارکنوں پر جسمانی اور ذہنی دباؤ بڑھ جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق موٹاپا اب صرف انفرادی صحت کا مسئلہ نہیں رہا بلکہ یہ قومی معیشت، صحت کے نظام اور لیبر مارکیٹ سے جڑا ایک بڑا سماجی و اقتصادی مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ صحت مند افرادی قوت کسی بھی ملک کی پیداواری صلاحیت اور صنعتی ترقی میں اہم کردار ادا کرتی ہے، اس لیے حکومت، آجر اور مزدور تنظیموں کے درمیان تعاون ضروری سمجھا جا رہا ہے۔
ملائیشیا میں گزشتہ چند برسوں کے دوران غیر متوازن طرزِ زندگی، فاسٹ فوڈ کے بڑھتے استعمال، طویل اوقاتِ کار اور محدود جسمانی سرگرمیوں کو بھی موٹاپے کی اہم وجوہات میں شمار کیا جا رہا ہے۔

COMMENTS