الور گاجہ: ملائیشیا کی ریاست ملاکا کے ضلع الور گاجہ میں پولیس نے ایک پاکستانی شہری کو 735 بوتلوں اور ٹِنز پر مشتمل مبینہ غیر قانونی الکوحلک ...
الور گاجہ: ملائیشیا کی ریاست ملاکا کے ضلع الور گاجہ میں پولیس نے ایک پاکستانی شہری کو 735 بوتلوں اور ٹِنز پر مشتمل مبینہ غیر قانونی الکوحلک مشروبات کے ساتھ گرفتار کر لیا۔
پولیس کے مطابق کارروائی 16 مئی کی علی الصبح الور گاجہ- ملاکہ ہائی وے پر کی گئی، جہاں ٹریفک انفورسمنٹ ٹیم موٹر سائیکل آپریشن کے دوران نگرانی کر رہی تھی۔
ضلع الور گاجہ کے پولیس چیف سپرنٹنڈنٹ احمد ابو بکر نے بتایا کہ مشتبہ گاڑی، جو ٹویوٹا الٹس تھی، کو اس وقت روکا گیا جب وہ مشکوک انداز میں ملاکا شہر کی طرف جا رہی تھی۔
انہوں نے کہا کہ پولیس نے گاڑی کی تلاشی کے دوران پچھلی نشستوں اور گاڑی کے بوٹ میں مختلف برانڈز کی 495 بوتلیں اور 240 ٹِن الکوحلک مشروبات برآمد کیے۔ ابتدائی تحقیقات کے مطابق یہ مشروبات ممکنہ طور پر بغیر ٹیکس ادا کیے اسمگل کیے گئے تھے۔
پولیس نے 31 سالہ پاکستانی شہری کو موقع پر ہی گرفتار کر لیا جبکہ گاڑی کو بھی مزید تحقیقات کے لیے ضبط کر لیا گیا۔
حکام کے مطابق ملزم کو 14 دن کے ریمانڈ پر بھیج دیا گیا ہے جو 16 مئی سے 29 مئی تک جاری رہے گا۔ کیس کی تحقیقات کسٹم ایکٹ 1967 کی دفعہ 135(1)(ڈی) کے تحت کی جا رہی ہیں، جو غیر قانونی یا بغیر ڈیوٹی ادا کیے سامان کی نقل و حمل اور اسمگلنگ سے متعلق ہے۔
ملائیشیا میں حالیہ عرصے کے دوران کسٹمز اور پولیس حکام نے غیر قانونی شراب، سگریٹ اور دیگر ٹیکس فری اشیاء کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیاں تیز کی ہیں۔ حکام کے مطابق ایسی سرگرمیاں نہ صرف حکومتی ریونیو کو متاثر کرتی ہیں بلکہ منظم جرائم کے نیٹ ورکس سے بھی جڑی ہو سکتی ہیں۔
اس کیس میں پولیس یہ بھی جانچ کر رہی ہے کہ آیا گرفتار شخص صرف ٹرانسپورٹر کے طور پر کام کر رہا تھا یا وہ کسی بڑے اسمگلنگ نیٹ ورک کا حصہ ہے۔ تحقیقات کے دوران ضبط شدہ شراب کی اصل قیمت اور سپلائی چین کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
ملائیشیا کے قانون کے تحت بغیر کسٹم ڈیوٹی ادا کیے الکوحلک مشروبات کی نقل و حمل سنگین جرم تصور کیا جاتا ہے، جس پر جرمانے، قید یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
پولیس نے عوام کو بھی خبردار کیا ہے کہ وہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا غیر قانونی سامان کی ترسیل سے متعلق معلومات فوری طور پر قانون نافذ کرنے والے اداروں کو فراہم کریں تاکہ اسمگلنگ کے نیٹ ورکس کے خلاف کارروائی مؤثر بنائی جا سکے۔

COMMENTS