ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے پوچونگ کے مختلف کاروباری مراکز میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 74 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ حک...
ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن نے پوچونگ کے مختلف کاروباری مراکز میں بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے 74 غیر ملکی شہریوں کو حراست میں لے لیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کے خلاف جاری نگرانی اور عوامی شکایات کی بنیاد پر کی گئی۔
محکمہ امیگریشن کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا کہ یہ آپریشن گزشتہ روز صبح 11 بجے سے رات 8 بجے تک جاری رہا۔ کارروائی کے دوران امیگریشن انفورسمنٹ ڈویژن پوتراجایا کے 59 افسران نے پوچونگ کے مختلف مقامات پر چھاپے مارے، جہاں متعدد کاروباری اداروں کی جانچ پڑتال کی گئی۔
کارروائی میں ریسٹورنٹس، کھانے پینے کی دکانیں، گروسری اسٹورز، نائی کی دکانیں، لانڈری شاپس، کیوسک اور سپر مارکیٹس شامل تھیں۔ حکام کے مطابق مجموعی طور پر 30 کاروباری مقامات کا معائنہ کیا گیا، جبکہ 186 غیر ملکی اور 175 مقامی افراد کی دستاویزات چیک کی گئیں۔
امیگریشن ملائیشیا کے ڈپٹی ڈائریکٹر جنرل برائے آپریشنز، داتوک لقمان ایفندی راملی نے کہا کہ گرفتار کیے گئے افراد کا تعلق انڈونیشیا، میانمار، نیپال، بنگلہ دیش، بھارت، پاکستان اور چین سے ہے۔ ان کی عمریں 23 سے 45 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ تمام گرفتار افراد پر امیگریشن ایکٹ 1959/63 اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت مختلف خلاف ورزیوں کا شبہ ہے۔ ان میں بغیر قانونی دستاویزات کام کرنا، ویزا شرائط کی خلاف ورزی اور قیام کی مدت سے زیادہ رہنا شامل ہے۔
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران ایک اہم پہلو یہ بھی سامنے آیا کہ بعض مالکان مبینہ طور پر قانونی کاروباری لائسنس کو “ڈھال” کے طور پر استعمال کر رہے تھے تاکہ غیر قانونی غیر ملکی کارکنوں کو ملازمت دے سکیں اور حکام کی نظروں سے بچ سکیں۔ محکمہ امیگریشن نے کہا کہ کچھ آجر صرف مالی فائدے کے لیے غیر قانونی ملازمتوں کو تحفظ فراہم کر رہے تھے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ بعض غیر قانونی تارکین وطن نے کارروائی کے دوران مزاحمت بھی کی۔ کچھ افراد نے تعاون سے انکار کیا، فرار ہونے کی کوشش کی یا مختلف حیلے استعمال کیے تاکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائی میں رکاوٹ ڈالی جا سکے۔
داتوک لقمان ایفندی راملی نے کہا کہ اس قسم کے اقدامات نہ صرف ملکی قوانین کی خلاف ورزی ہیں بلکہ مقامی امن و امان اور عوامی سلامتی پر بھی اثر انداز ہو سکتے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ محکمہ امیگریشن غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں، زائد المیعاد قیام کرنے والوں اور ویزا کے غلط استعمال میں ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی جاری رکھے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پانچ ملائیشین شہریوں کو “بورانگ 29” کے تحت سمن جاری کیے گئے ہیں تاکہ وہ تحقیقات میں بطور گواہ تعاون کریں۔ یہ سمن عام طور پر ایسے افراد کو جاری کیے جاتے ہیں جن سے تفتیش میں معلومات حاصل کرنا ضروری ہو۔
تمام گرفتار غیر ملکیوں کو مزید تحقیقات اور قانونی کارروائی کے لیے امیگریشن حراستی ڈپو منتقل کر دیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق اگر آجر یا دیگر افراد غیر قانونی غیر ملکیوں کو پناہ دینے یا ملازمت فراہم کرنے میں ملوث پائے گئے تو ان کے خلاف بھی قانونی کارروائی کی جائے گی۔
ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن اور غیر دستاویزی کارکنوں کا مسئلہ کئی برسوں سے زیر بحث ہے۔ حکومت وقتاً فوقتاً مختلف شہروں میں آپریشنز کرتی رہتی ہے تاکہ امیگریشن قوانین پر عمل درآمد یقینی بنایا جا سکے۔ خاص طور پر تعمیرات، ریسٹورنٹس، ریٹیل اور سروس سیکٹر میں غیر ملکی کارکنوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جس کی وجہ سے نگرانی اور دستاویزی تصدیق کے عمل کو سخت کیا جا رہا ہے۔
حالیہ کارروائی بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھی جا رہی ہے، جس کا مقصد غیر قانونی ملازمتوں اور امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیوں کو روکنا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے آپریشنز مستقبل میں بھی جاری رہیں گے تاکہ کاروباری ادارے ملکی قوانین کی پابندی کریں اور صرف قانونی دستاویزات رکھنے والے کارکنوں کو ملازمت دی جائے

COMMENTS