بھارت کے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص، جو تقریباً دو ہفتوں تک ملائیشیا کے کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پھنسے رہنے کے بعد خبروں ...
بھارت کے صوبہ پنجاب سے تعلق رکھنے والا ایک شخص، جو تقریباً دو ہفتوں تک ملائیشیا کے کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر پھنسے رہنے کے بعد خبروں میں آیا تھا، اب عارضی سفری دستاویز جاری ہونے کے بعد بھارت واپس پہنچ گیا ہے۔ بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق متعلقہ شخص کی شناخت آکاش پشکرنا کے نام سے ہوئی ہے، جس کا تعلق جالندھر، پنجاب سے بتایا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق آکاش پشکرنا اس وقت مشکل صورتحال میں پھنس گیا تھا جب اسے بھارت میں داخلے کی اجازت نہیں دی گئی۔ بھارتی حکام کا مؤقف تھا کہ اس کے پاس درست بھارتی پاسپورٹ موجود نہیں تھا، جبکہ اس نے سفر کے لیے نیوزی لینڈ کی جانب سے جاری کردہ “سرٹیفکیٹ آف آئیڈینٹی” استعمال کیا تھا، جسے بھارتی امیگریشن حکام نے قابل قبول سفری دستاویز تسلیم نہیں کیا۔
اطلاعات کے مطابق آکاش اس سے قبل بھارت چھوڑ کر نیوزی لینڈ گیا تھا جہاں اس نے مبینہ طور پر پناہ کی درخواست دی تھی۔ تاہم یہ واضح نہیں ہو سکا کہ آیا اسے باضابطہ طور پر مہاجر یا پناہ گزین کا درجہ ملا تھا یا نہیں۔ ذرائع کے مطابق جب وہ بھارت واپس پہنچا تو اس نے یہ بھی واضح نہیں کیا کہ اس نے نیوزی لینڈ میں پناہ حاصل کی تھی یا نہیں۔
بھارتی حکام کے مطابق اسے دہلی ایئرپورٹ پر داخلے سے روکنے کے بعد واپس آکلینڈ بھیجنے کا فیصلہ کیا گیا تھا، تاہم کوالالمپور میں ٹرانزٹ کے دوران وہ پھنس گیا کیونکہ نہ بھارت فوری طور پر اسے قبول کر رہا تھا اور نہ ہی نیوزی لینڈ واپس لینے پر آمادہ تھا۔ اسی وجہ سے وہ کئی دن تک کوالالمپور ایئرپورٹ پر موجود رہا۔
بھارت کے ہائی کمیشن نے بعد میں تصدیق کی کہ ملائیشیا اور نیوزی لینڈ میں ضروری کارروائیاں مکمل ہونے کے بعد آکاش کو ایک عارضی پاسپورٹ جاری کیا گیا تاکہ اس کی بھارت واپسی ممکن بنائی جا سکے۔ بھارتی وزارت خارجہ کی منظوری کے بعد اسے سفری دستاویز فراہم کی گئی اور وہ گزشتہ جمعہ کی رات بھارت واپس پہنچ گیا۔
بھارتی سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کسی بھی شخص کو درست سفری دستاویزات کے بغیر ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ حکام کا کہنا تھا کہ اگر کسی کے پاس اصل پاسپورٹ موجود نہ ہو تو اس کی شہریت اور شناخت کی تصدیق کرنا مشکل ہو جاتا ہے، اسی لیے امیگریشن قوانین کے مطابق درست پاسپورٹ کا ہونا ضروری ہے۔
نیوزی لینڈ کا “سرٹیفکیٹ آف آئیڈینٹی” ایک خصوصی سفری دستاویز ہے جو ایسے غیر ملکی افراد کو جاری کی جاتی ہے جو اپنے آبائی ملک سے پاسپورٹ حاصل نہیں کر سکتے۔ یہ دستاویز عام طور پر پناہ گزینوں، بے وطن افراد یا مخصوص قانونی صورتحال رکھنے والوں کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ نیوزی لینڈ کے امیگریشن قوانین کے مطابق یہ دستاویز دو سال تک مؤثر رہتی ہے اور اس کے حامل شخص کی اصل شہریت تبدیل نہیں ہوتی۔
یہ معاملہ اس وقت زیادہ توجہ کا مرکز بنا جب سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں آکاش نے کوالالمپور ایئرپورٹ سے مدد کی اپیل کی تھی۔ ویڈیو میں اس نے دعویٰ کیا تھا کہ اس کے پاس نہ مناسب خوراک موجود ہے، نہ اضافی کپڑے اور نہ ہی مالی وسائل۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ اس کا نیوزی لینڈ کا ویزا بھی مؤثر نہیں رہا، جس کی وجہ سے وہ واپس وہاں بھی نہیں جا سکتا تھا۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آکاش نے بھارت واپس آنے کی ایک وجہ اپنے والد کی خراب صحت کو بھی قرار دیا۔ اس نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں اس کی صورتحال مزید مشکل ہوتی جا رہی تھی، اس لیے اس نے وطن واپس آنے کا فیصلہ کیا۔
یہ واقعہ بین الاقوامی سفری قوانین، پناہ کے معاملات اور درست سفری دستاویزات کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ ماہرین کے مطابق ایسے معاملات میں مختلف ممالک کے امیگریشن قوانین اور سفارتی تعاون اہم کردار ادا کرتے ہیں تاکہ کسی فرد کو قانونی طور پر محفوظ انداز میں واپس بھیجا جا سکے۔

COMMENTS