کوتا کنابالو: ملائیشیا کی ریاست صباح میں پولیس نے جعلی مائی کارڈ اور شناختی دستاویزات تیار کرنے والے ایک گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے 9 افراد ک...
کوتا کنابالو: ملائیشیا کی ریاست صباح میں پولیس نے جعلی مائی کارڈ اور شناختی دستاویزات تیار کرنے والے ایک گروہ کو بے نقاب کرتے ہوئے 9 افراد کو گرفتار کر لیا ہے، جن میں پانچ غیر ملکی بھی شامل ہیں۔ حکام کے مطابق کارروائی “اوپ پوگو” نامی خصوصی آپریشن کے تحت کی گئی، جو 7 مئی سے چھ روز تک جاری رہا۔
صباح کے پولیس کمشنر داتوک جاوتے ڈیکن نے بتایا کہ گرفتار افراد میں چار خواتین بھی شامل ہیں جبکہ ان کی عمریں 36 سے 61 سال کے درمیان ہیں۔ گرفتار شدگان میں فلپائن اور انڈونیشیا کے شہری شامل ہیں، جن پر جعلی مائی کارڈ کے حصول اور دستاویزات میں جعلسازی کے الزامات ہیں۔
انہوں نے میڈیا بریفنگ کے دوران کہا کہ اس کارروائی کا آغاز ایک 30 سالہ خاتون کی شکایت کے بعد ہوا، جس نے 13 مارچ کو پولیس رپورٹ درج کروائی تھی۔ خاتون نے دعویٰ کیا کہ اس نے مائی کارڈ کے حصول کے لیے تقریباً 20 ہزار رنگٹ ادا کیے، لیکن بعد میں جانچ سے معلوم ہوا کہ نیشنل رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ میں اس کے نام سے کسی درخواست کا کوئی ریکارڈ موجود ہی نہیں تھا۔
پولیس کے مطابق ابتدائی تحقیقات کے دوران متعدد جعلی دستاویزات اور وہ آلات برآمد کیے گئے جو مبینہ طور پر مائی کارڈ کی جعلی درخواستیں تیار کرنے اور شناختی ریکارڈ میں ردوبدل کے لیے استعمال کیے جا رہے تھے۔
حکام نے بتایا کہ چھاپوں کے دوران 85 مختلف مائی کارڈ درخواستوں سے متعلق دستاویزات، 54 شناختی کارڈ کی نقول، 45 درخواست دہندگان کے ذاتی کاغذات، 24 تصاویر اور “خصوصی آبادکاری پروگرام” سے متعلق 10 فائلیں قبضے میں لی گئیں۔
اس کے علاوہ 9 پیدائشی سرٹیفکیٹس کی نقول، 6 اصل برتھ سرٹیفکیٹس، مختلف ناموں پر 7 پاسپورٹس کی نقول، 7 موبائل فون، 5 جعلی مائی کارڈز اور جے پی این کے 3 جعلی اسٹیمپ بھی برآمد کیے گئے۔
پولیس نے تین گاڑیوں کو بھی ضبط کیا ہے جبکہ ایک کمپیوٹر سیٹ، ایک پرنٹر اور دو اسٹیمپ پیڈ بھی قبضے میں لیے گئے، جنہیں مبینہ طور پر جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا تھا۔
داتوک جاوتے ڈیکن کے مطابق کیس کی تحقیقات ملائیشین پینل کوڈ کی دفعہ 420، دفعہ 170 اور نیشنل رجسٹریشن ریگولیشن 1990 کی دفعہ 25(1)(ای) کے تحت کی جا رہی ہیں۔ ان قوانین کے تحت دھوکہ دہی، سرکاری اہلکار کی جعلسازی اور جعلی شناختی دستاویزات تیار کرنے جیسے جرائم شامل ہیں۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ اگر کسی کے پاس اس گروہ یا اسی نوعیت کی سرگرمیوں سے متعلق معلومات موجود ہوں تو وہ پولیس سے رابطہ کرے تاکہ مزید تحقیقات میں مدد مل سکے۔
ملائیشیا میں حالیہ عرصے کے دوران جعلی شناختی دستاویزات، غیر قانونی تارکین وطن اور امیگریشن فراڈ سے متعلق کئی کیسز سامنے آئے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ایسے گروہ قومی سلامتی، سرکاری ریکارڈ کے تحفظ اور سرحدی کنٹرول کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں، اسی لیے ان کے خلاف کارروائیاں مزید تیز کی جا رہی ہیں۔
ماہرین کے مطابق جعلی شناختی کارڈز کا استعمال اکثر غیر قانونی ملازمت، انسانی اسمگلنگ، مالیاتی فراڈ اور غیر قانونی قیام جیسے معاملات میں کیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملائیشین حکام قومی شناختی نظام کو محفوظ بنانے کے لیے جدید سیکیورٹی فیچرز اور سخت نگرانی کے اقدامات متعارف کرا رہے ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں ملائیشیا نے پاسپورٹس اور شناختی دستاویزات کے نظام میں بھی نئی حفاظتی ٹیکنالوجی شامل کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ جعلسازی کے بڑھتے ہوئے نیٹ ورکس کا مؤثر مقابلہ کیا جا سکے۔

COMMENTS