ملائیشیا کے صوبے صباح میں محکمہ امیگریشن نے حالیہ کارروائیوں کے دوران 38 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاریاں کودات اور تاواو کے م...
ملائیشیا کے صوبے صباح میں محکمہ امیگریشن نے حالیہ کارروائیوں کے دوران 38 غیر ملکی شہریوں کو گرفتار کر لیا۔ یہ گرفتاریاں کودات اور تاواو کے مختلف علاقوں میں کی گئی مشترکہ امیگریشن کارروائیوں کے دوران عمل میں آئیں، جن کا مقصد غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائی اور امیگریشن قوانین پر عمل درآمد یقینی بنانا تھا۔
محکمہ امیگریشن ملائیشیا صباح کے مطابق کارروائیاں “اوپس ساپو”، “اوپس ماہر”، “اوپس سلیرا” اور “اوپس گیگار” کے تحت کی گئیں۔ ان آپریشنز کے دوران درجنوں افراد کی دستاویزات اور رہائشی حیثیت کی جانچ پڑتال کی گئی۔
حکام کے مطابق کودات میں “اوپس ماہر” کے دوران مجموعی طور پر 20 افراد کی جانچ کی گئی، جن میں سے 15 فلپائنی شہریوں کو حراست میں لیا گیا۔ گرفتار افراد میں تین مرد، پانچ خواتین، چار لڑکے اور تین لڑکیاں شامل تھیں۔
ابتدائی تحقیقات کے مطابق ان افراد پر مختلف امیگریشن خلاف ورزیوں کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔ ان میں درست سفری دستاویزات نہ رکھنا اور ویزا شرائط کی خلاف ورزی جیسے الزامات شامل ہیں۔ یہ کارروائی امیگریشن ایکٹ 1959/63 کے تحت کی گئی۔
دوسری جانب تاواو میں “اوپس ماہر”، “اوپس سلیرا” اور “اوپس گیگار” کے تحت مجموعی طور پر 56 افراد کی جانچ کی گئی۔ ان کارروائیوں کے نتیجے میں 23 غیر ملکیوں کو گرفتار کیا گیا، جن میں 18 فلپائنی، چار انڈونیشین جبکہ ایک بھارتی شہری شامل تھا۔
محکمہ امیگریشن نے اپنے بیان میں کہا کہ گرفتار تمام افراد کو امیگریشن قوانین کی ممکنہ خلاف ورزیوں کے شبے میں حراست میں لیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق تمام زیر حراست افراد سے مزید تفتیش جاری ہے اور ان کے قانونی اسٹیٹس کی جانچ کی جا رہی ہے۔
صباح میں غیر قانونی تارکین وطن کا مسئلہ کئی برسوں سے انتظامیہ کے لیے ایک اہم چیلنج سمجھا جاتا ہے۔ ریاست کی جغرافیائی حیثیت اور سمندری سرحدوں کی وجہ سے مختلف ممالک سے غیر قانونی داخلے کے واقعات سامنے آتے رہے ہیں۔ اسی وجہ سے امیگریشن حکام وقتاً فوقتاً خصوصی آپریشنز کرتے رہتے ہیں تاکہ غیر قانونی رہائش، جعلی دستاویزات اور ویزا خلاف ورزیوں پر قابو پایا جا سکے۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان کارروائیوں کا مقصد صرف گرفتاری نہیں بلکہ ریاست میں امیگریشن نظام کو منظم رکھنا اور مقامی قوانین کی پاسداری کو یقینی بنانا بھی ہے۔ امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے واضح کیا کہ مستقبل میں بھی ایسے آپریشنز جاری رہیں گے اور مختلف اضلاع میں نگرانی مزید سخت کی جائے گی۔
ماہرین کے مطابق ایسے آپریشنز سے حکومت کو غیر قانونی رہائش کے رجحان پر قابو پانے میں مدد ملتی ہے، جبکہ مقامی سطح پر مزدوروں کی رجسٹریشن اور قانونی ملازمت کے نظام کو بہتر بنانے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ تاہم، حکام اس بات پر بھی زور دیتے ہیں کہ قانونی دستاویزات رکھنے والے غیر ملکی کارکنان کو کسی قسم کی دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔
محکمہ امیگریشن صباح نے عوام سے بھی اپیل کی ہے کہ اگر کسی علاقے میں غیر قانونی تارکین وطن یا مشکوک سرگرمیوں کی معلومات ہوں تو متعلقہ حکام کو آگاہ کیا جائے تاکہ بروقت کارروائی کی جا سکے۔

COMMENTS