کانگار: ملائیشیا کی ریاست پرلس میں عدالت نے دو تھائی ٹیکسی ڈرائیوروں کو غیر قانونی تارکین وطن کو ملک میں داخل کرانے کے الزام میں چھ ہزار رنگ...
کانگار: ملائیشیا کی ریاست پرلس میں عدالت نے دو تھائی ٹیکسی ڈرائیوروں کو غیر قانونی تارکین وطن کو ملک میں داخل کرانے کے الزام میں چھ ہزار رنگٹ فی کس جرمانہ عائد کر دیا۔ دونوں ملزمان نے عدالت میں جرم قبول کر لیا جس کے بعد انہیں سزا سنائی گئی۔
رپورٹس کے مطابق کانتاپونگ فیتکلیانگ، 37 سال، اور محمد ترمسی صلاح، 31 سال، کو کانگار سیشن کورٹ میں پیش کیا گیا جہاں جج شریفہ نورازلتا سید سلیم ادید نے فیصلہ سنایا۔ دونوں افراد پر الزام تھا کہ انہوں نے گزشتہ ماہ ایک غیر قانونی غیر ملکی تارک وطن کو ملائیشیا میں داخل ہونے میں سہولت فراہم کی۔
عدالتی دستاویزات کے مطابق یہ واقعہ 17 اپریل کو دوپہر تقریباً 3 بج کر 10 منٹ پر پادانگ بیسار امیگریشن پوسٹ کے گاڑیوں کی جانچ والے کاؤنٹر پر پیش آیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ ملزمان نے ایک غیر قانونی تارک وطن کو سرحدی چیک پوائنٹ سے گزرنے کی اجازت دی تھی۔
استغاثہ کے مطابق دونوں افراد کے خلاف امیگریشن ایکٹ 1959/63 کی دفعہ 55(1) کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جبکہ تعزیرات کے ضابطے کی دفعہ 34 بھی مقدمے میں شامل کی گئی۔ اس قانون کے تحت جرم ثابت ہونے کی صورت میں کم از کم پانچ ہزار رنگٹ جرمانہ، ایک سال تک قید، یا دونوں سزائیں دی جا سکتی ہیں۔
سماعت کے دوران ملزمان کے پاس کوئی وکیل موجود نہیں تھا جبکہ مقدمہ ملائیشین امیگریشن ڈیپارٹمنٹ ریاست پرلس کی پراسیکیوشن افسر شازوانی ابراہیم نے پیش کیا۔
عدالت نے اس کیس میں استعمال ہونے والی گاڑی کو بھی حکومت کے حق میں ضبط کرنے کا حکم دیا۔ دیگر ضبط شدہ اشیاء متعلقہ حکام کے حوالے کر دی گئیں تاکہ قانون کے مطابق مزید کارروائی کی جا سکے۔
عدالتی فیصلے کے بعد دونوں افراد نے جرمانہ ادا کر دیا، جس کے بعد انہیں امیگریشن حکام کے حوالے کر دیا گیا۔ حکام کے مطابق اب ان کے خلاف بلیک لسٹنگ اور ملک بدری کی کارروائی مکمل کی جائے گی۔
ملائیشیا حالیہ مہینوں میں غیر قانونی تارکین وطن، سرحد پار اسمگلنگ اور بغیر دستاویزات ملازمت کے خلاف اپنی کارروائیاں مزید سخت کر رہا ہے۔ خاص طور پر سرحدی علاقوں میں امیگریشن حکام نگرانی بڑھا رہے ہیں تاکہ انسانی اسمگلنگ اور غیر قانونی داخلے کے واقعات کو روکا جا سکے۔
پادانگ بیسار ملائیشیا اور تھائی لینڈ کے درمیان ایک اہم سرحدی گزرگاہ سمجھی جاتی ہے جہاں روزانہ بڑی تعداد میں تجارتی اور مسافر گاڑیاں آتی جاتی ہیں۔ اسی وجہ سے یہ علاقہ امیگریشن نگرانی کے حوالے سے حساس تصور کیا جاتا ہے۔
ماہرین کے مطابق سرحدی قوانین کی خلاف ورزی صرف امیگریشن نظام پر دباؤ نہیں ڈالتی بلکہ اس سے سکیورٹی، غیر قانونی ملازمت اور انسانی اسمگلنگ جیسے مسائل بھی جنم لیتے ہیں۔ اسی لیے ملائیشین حکام حالیہ عرصے میں ایسے مقدمات میں سخت قانونی کارروائی پر زور دے رہے ہیں۔
ملائیشین حکومت اس بات پر بھی زور دے رہی ہے کہ ٹرانسپورٹ آپریٹرز اور سرحدی علاقوں میں کام کرنے والے افراد امیگریشن قوانین کی مکمل پابندی کریں۔ حکام کا کہنا ہے کہ کسی بھی فرد کو غیر قانونی داخلے یا دستاویزات کے بغیر سفر میں سہولت فراہم کرنے پر سخت قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

COMMENTS