اسلام آباد: پاکستان سے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے افراد کی تعداد میں رواں سال بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرکاری اعداد و ...
اسلام آباد: پاکستان سے بیرونِ ملک روزگار کے لیے جانے والے افراد کی تعداد میں رواں سال بھی نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2026 کے پہلے پانچ ماہ کے دوران 2 لاکھ 78 ہزار پاکستانی کارکنوں نے بیرونِ ملک ملازمت کے لیے رجسٹریشن کروائی، جو ملک میں روزگار کے مواقع، ترسیلاتِ زر اور بیرونی منڈیوں پر انحصار کے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔
بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق بیرونِ ملک ملازمت کے لیے رجسٹر ہونے والوں میں کم ہنر مند اور نیم ہنر مند کارکنوں کی تعداد سب سے زیادہ رہی۔ رجسٹریشن کروانے والوں میں مزدوروں کا حصہ نمایاں رہا جن کی تعداد ایک لاکھ 71 ہزار 206 ریکارڈ کی گئی۔
اسی طرح ڈرائیوروں کی بڑی تعداد نے بھی بیرونِ ملک ملازمت کے لیے رجوع کیا۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 52 ہزار 652 ڈرائیوروں نے مختلف ممالک میں روزگار کے مواقع حاصل کرنے کے لیے رجسٹریشن کروائی۔ ماہرین کے مطابق مشرقِ وسطیٰ اور دیگر ممالک میں ٹرانسپورٹ، لاجسٹکس اور تعمیراتی شعبوں میں افرادی قوت کی مسلسل طلب اس رجحان کی ایک اہم وجہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق تعمیرات، نقل و حمل اور لاجسٹکس کے شعبے بیرونِ ملک پاکستانی کارکنوں کے لیے سب سے بڑے روزگار فراہم کرنے والے شعبے بنے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ان شعبوں سے متعلق پیشوں میں رجسٹریشن کی شرح دیگر شعبوں کے مقابلے میں زیادہ رہی۔
اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ ہنر مند کارکنوں نے بھی بیرونِ ملک ملازمت کے حصول میں دلچسپی برقرار رکھی۔ باورچیوں، ٹیکنیشنز اور انجینئرز سمیت مختلف فنی شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کی قابلِ ذکر تعداد نے بیرونِ ملک روزگار کے لیے رجسٹریشن کروائی۔ تاہم پیشہ ورانہ اور اعلیٰ مہارت رکھنے والے افراد کا مجموعی تناسب نسبتاً کم رہا۔
ماہرینِ معاشیات کے مطابق بیرونِ ملک ملازمتیں پاکستان کی معیشت میں اہم کردار ادا کرتی ہیں کیونکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہر سال اربوں ڈالر کی ترسیلاتِ زر وطن بھیجتے ہیں۔ یہ رقوم نہ صرف لاکھوں خاندانوں کی آمدنی کا ذریعہ بنتی ہیں بلکہ ملک کے زرمبادلہ کے ذخائر کو مستحکم رکھنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔
تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 میں بیرونِ ملک ملازمتوں کی شرح نمو گزشتہ برسوں کے مقابلے میں نسبتاً سست دکھائی دے رہی ہے۔ اس کی ایک بڑی وجہ متحدہ عرب امارات کی جانب سے امیگریشن قوانین میں سختی اور ویزا درخواستوں کی مسترد ہونے والی شرح میں اضافہ بتایا جا رہا ہے۔
متحدہ عرب امارات طویل عرصے سے پاکستانی کارکنوں کے لیے سب سے بڑی روزگار منڈیوں میں شمار ہوتا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں ویزا پالیسیوں اور امیگریشن قواعد میں ہونے والی تبدیلیوں کے باعث بعض شعبوں میں پاکستانی کارکنوں کے لیے مواقع محدود ہوئے ہیں، جس کے اثرات مجموعی رجسٹریشن اور روانگی کے اعداد و شمار پر بھی پڑ رہے ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر روزگار کے بدلتے ہوئے رجحانات کے پیشِ نظر پاکستان کو فنی تربیت اور ہنرمندی کے پروگراموں پر مزید توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق اگر زیادہ تعداد میں کارکن جدید اور مطلوبہ مہارتیں حاصل کریں تو وہ بین الاقوامی منڈی میں بہتر مواقع اور زیادہ آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔
حکومتی سطح پر بھی مختلف ادارے افرادی قوت کی تربیت اور بیرونِ ملک روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ ماہرین کے مطابق مستقبل میں ہنر مند افرادی قوت کی تیاری نہ صرف پاکستانی کارکنوں کی عالمی مسابقت میں اضافہ کرے گی بلکہ ملک میں آنے والی ترسیلاتِ زر کو مزید مستحکم بنانے میں بھی مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
سال 2026 کے ابتدائی پانچ ماہ کے اعداد و شمار یہ ظاہر کرتے ہیں کہ بیرونِ ملک روزگار اب بھی لاکھوں پاکستانیوں کے لیے معاشی بہتری کا ایک اہم ذریعہ ہے، جبکہ ترسیلاتِ زر قومی معیشت کے لیے کلیدی اہمیت برقرار رکھتی ہیں۔

COMMENTS