سِک: ملائیشیا کے صوبہ کداح میں واقع بیلانتک امیگریشن ڈپو میں زیر حراست 94 غیر قانونی تارکین وطن کو آج ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دیا گیا۔ ...
سِک: ملائیشیا کے صوبہ کداح میں واقع بیلانتک امیگریشن ڈپو میں زیر حراست 94 غیر قانونی تارکین وطن کو آج ان کے آبائی ممالک واپس بھیج دیا گیا۔ یہ کارروائی ملائیشیا کے محکمہ امیگریشن کی جانب سے جاری پروگرام "پروگرام پینگہنتاران پولانگ پینڈاتانگ آسنگ تانپا ایزن" (غیر قانونی غیر ملکیوں کی وطن واپسی پروگرام) کے تحت انجام دی گئی۔
محکمہ امیگریشن کداح کے مطابق تمام افراد کو کوالالمپور انٹرنیشنل ایئرپورٹ (کے ایل آئی اے) کے ذریعے ان کے ممالک روانہ کیا گیا۔ واپس بھیجے جانے والے افراد سات مختلف ممالک سے تعلق رکھتے تھے جن میں بنگلہ دیش، چین، مصر، کینیا، بھارت، پاکستان اور میانمار شامل ہیں۔
حکام کے مطابق مجموعی طور پر 94 افراد میں 82 مرد اور 12 خواتین شامل تھیں۔ یہ تمام افراد پہلے بیلانتک امیگریشن ڈپو میں رکھے گئے تھے اور ان کے خلاف مختلف امیگریشن قوانین کی خلاف ورزیاں ثابت ہوئی تھیں۔
محکمہ امیگریشن نے بتایا کہ ان افراد نے ملائیشیا میں داخلے اور قیام کے دوران مختلف خلاف ورزیاں کی تھیں۔ ان میں بغیر قانونی پاس یا اجازت نامے کے ملک میں داخل ہونا، مقررہ مدت سے زیادہ قیام کرنا، اور امیگریشن ضوابط کی دیگر خلاف ورزیاں شامل تھیں۔ یہ تمام جرائم ملائیشیا کے امیگریشن ایکٹ 1959/63 (ایکٹ 155) اور امیگریشن ریگولیشنز 1963 کے تحت آتے ہیں۔
بیان کے مطابق تمام زیر حراست افراد نے قانون کے مطابق مقررہ سزائیں مکمل کر لی تھیں، جس کے بعد انہیں وطن واپس بھیجنے کا عمل مکمل کیا گیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ وطن واپسی سے قبل تمام قانونی اور انتظامی تقاضے پورے کیے گئے تاکہ کارروائی ملکی قوانین اور بین الاقوامی ضوابط کے مطابق انجام دی جا سکے۔
محکمہ امیگریشن نے مزید وضاحت کی کہ وطن واپس بھیجے گئے تمام افراد کے نام محکمہ کے بلیک لسٹ نظام میں شامل کر دیے گئے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ یہ افراد مستقبل میں دوبارہ غیر قانونی طور پر ملائیشیا میں داخل نہ ہو سکیں۔
ملائیشیا میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف کارروائیاں گزشتہ کئی برسوں سے جاری ہیں۔ حکام کا مؤقف ہے کہ امیگریشن قوانین پر مؤثر عملدرآمد قومی سلامتی، سرحدی نظم و نسق اور قانونی تارکین وطن کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے۔ اسی مقصد کے تحت مختلف امیگریشن ڈپوز، کاروباری مراکز اور رہائشی علاقوں میں وقتاً فوقتاً آپریشنز کیے جاتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ وطن واپسی کا یہ پروگرام محکمہ امیگریشن کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے جس کا مقصد امیگریشن قوانین کو مضبوط بنانا اور اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ملائیشیا میں موجود تمام غیر ملکی شہری ملکی قوانین اور شرائط کی مکمل پابندی کریں۔
ماہرین کے مطابق ایسے پروگرام نہ صرف غیر قانونی قیام کے معاملات کو منظم کرنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ امیگریشن نظام میں شفافیت اور قانون کی عملداری کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ اقدامات حکام کو ملک میں موجود غیر ملکی آبادی کے بہتر انتظام اور نگرانی میں بھی مدد فراہم کرتے ہیں۔
حالیہ برسوں میں ملائیشیا نے غیر قانونی امیگریشن سے نمٹنے کے لیے مختلف اقدامات کیے ہیں جن میں گرفتاریوں، قانونی کارروائیوں اور وطن واپسی کے پروگراموں کا تسلسل شامل ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ قانونی طریقہ کار کے ذریعے ملک میں آنے والے غیر ملکیوں کے حقوق کا احترام کیا جاتا ہے، جبکہ غیر قانونی قیام یا داخلے کے خلاف قوانین کے مطابق کارروائی کی جاتی ہے۔

COMMENTS