ملائیشیا کی حکومت نے دارالحکومت کے اہم سیاحتی مقامات پر غیر رسمی فوٹوگرافی خدمات فراہم کرنے والے افراد، جنہیں مقامی طور پر "اُلت فوٹو...
ملائیشیا کی حکومت نے دارالحکومت کے اہم سیاحتی مقامات پر غیر رسمی فوٹوگرافی خدمات فراہم کرنے والے افراد، جنہیں مقامی طور پر "اُلت فوٹو" یا فوٹو بروکرز کہا جاتا ہے، کو خصوصی اجازت نامے یا لائسنس جاری نہ کرنے کا فیصلہ برقرار رکھا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اس فیصلے کی بنیادی وجہ عوامی اور سیاحتی مقامات پر موجود سیکیورٹی خدشات ہیں۔
وزیراعظم کے دفتر برائے وفاقی علاقوں کی وزیر ہنّا یؤہ نے واضح کیا کہ متعلقہ مقامات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد حکام اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ بعض مقامات فوٹوگرافی کی سرگرمیوں کے لیے محفوظ نہیں ہیں۔ ان کے مطابق سیکیورٹی کو نظر انداز کرکے کسی قسم کی خصوصی اجازت دینا مناسب نہیں ہوگا۔
سیکیورٹی حکومت کی اولین ترجیح
ہنّا یؤہ نے پوتراجایا میں ایک تقریب کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حکومت صرف روزگار یا سیاحت کے پہلو کو نہیں دیکھ رہی بلکہ عوامی تحفظ کو اولین ترجیح دے رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ متعلقہ مقامات پر حفاظتی خطرات موجود ہیں اور یہی بنیادی وجہ ہے کہ حکومت اس وقت فوٹو بروکرز کے لیے کسی خصوصی لائسنسنگ نظام پر غور نہیں کر رہی۔
وزیر کے مطابق یہ فیصلہ صرف انتظامی نہیں بلکہ سیکیورٹی اداروں کی سفارشات اور زمینی حقائق کی بنیاد پر کیا گیا ہے۔
کے ایل سی سی اور دیگر مقامات کا جائزہ
ہنّا یؤہ نے بتایا کہ انہوں نے کوالالمپور کے میئر، کوالالمپور سٹی ہال (ڈی بی کے ایل) اور سیکیورٹی حکام کے ساتھ مل کر متعدد مقامات کا معائنہ کیا۔ ان جائزوں کے دوران یہ مشاہدہ کیا گیا کہ حالیہ اقدامات کے بعد بعض علاقوں میں غیر قانونی فوٹوگرافی سرگرمیوں میں کمی آئی ہے۔
حکام کے مطابق کوالالمپور سٹی ہال نے حساس مقامات پر اضافی کلوز سرکٹ کیمرے (سی سی ٹی وی) نصب کیے ہیں تاکہ نگرانی مزید مؤثر بنائی جا سکے۔ اس کے علاوہ پولیس اور مقامی حکام مشترکہ کارروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔
سیاحوں کے لیے خصوصی اعلانات
حکومت نے سیاحوں کو آگاہ کرنے کے لیے کئی اضافی اقدامات بھی کیے ہیں۔ متعلقہ مقامات پر مختلف زبانوں میں خودکار اعلانات کا نظام نصب کیا گیا ہے جو ہر دس منٹ بعد سیاحوں کو غیر مجاز فوٹوگرافی خدمات استعمال نہ کرنے کی ہدایت دیتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام کا مقصد سیاحوں کو ممکنہ دھوکہ دہی اور دیگر مسائل سے محفوظ رکھنا ہے۔
جعلی شناختی دستاویزات کا انکشاف
سیکیورٹی خدشات کے علاوہ حکام نے ایک اور اہم مسئلے کی نشاندہی کی ہے۔ ہنّا یؤہ کے مطابق گرفتار کیے گئے بعض افراد کی جانچ پڑتال کے دوران معلوم ہوا کہ کچھ لوگ جعلی شناختی دستاویزات استعمال کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ بعض افراد درحقیقت ملائیشین شہری نہیں تھے لیکن جعلی شناخت کے ذریعے سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے تھے۔ اس صورتحال نے حکام کی تشویش میں مزید اضافہ کیا ہے۔
وزیر کے مطابق جب ایسے مسائل موجود ہوں تو خصوصی لائسنس جاری کرنے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
پس منظر
گزشتہ چند ماہ کے دوران کوالالمپور کے مشہور سیاحتی مقامات، خصوصاً کے ایل سی سی اور دیگر عوامی علاقوں میں غیر رسمی فوٹوگرافروں کی سرگرمیوں پر بحث جاری رہی ہے۔ بعض حلقوں نے ان افراد کو باقاعدہ لائسنس دینے کی تجویز پیش کی تھی تاکہ ان کی سرگرمیوں کو منظم کیا جا سکے۔
تاہم حکومتی اداروں کا مؤقف ہے کہ موجودہ حالات میں سیکیورٹی اور شناختی مسائل پہلے حل کیے جانے چاہئیں۔ اسی وجہ سے حکومت نے لائسنسنگ کے بجائے نگرانی اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیوں کو ترجیح دی ہے۔
سیاحت اور عوامی تحفظ کے درمیان توازن
ماہرین کے مطابق دنیا بھر کے بڑے سیاحتی مراکز میں غیر رسمی خدمات فراہم کرنے والوں کو منظم کرنا ایک چیلنج ہوتا ہے۔ ملائیشیا بھی اسی مسئلے کا سامنا کر رہا ہے جہاں ایک طرف سیاحتی سرگرمیوں کو فروغ دینا ضروری ہے جبکہ دوسری طرف عوامی تحفظ اور قانونی ضابطوں پر عملدرآمد بھی یقینی بنانا ہوتا ہے۔
حکومت کا موجودہ مؤقف یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ سیاحت کی ترقی کے ساتھ ساتھ سیکیورٹی اور قانون کی بالادستی کو بھی یکساں اہمیت دینا چاہتی ہے۔

COMMENTS