ملاکا: ملائیشیا کی ریاست ملاکا میں ایک الیکٹرانکس فیکٹری کی جانب سے سینکڑوں ملازمتوں کے اعلان کے بعد ایک کھلے انٹرویو سیشن میں ایک ہزار س...
ملاکا: ملائیشیا کی ریاست ملاکا میں ایک الیکٹرانکس فیکٹری کی جانب سے سینکڑوں ملازمتوں کے اعلان کے بعد ایک کھلے انٹرویو سیشن میں ایک ہزار سے زائد افراد شریک ہوئے، جس کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر تیزی سے وائرل ہو گئیں۔
یہ انٹرویو سیشن بندر ہلیر کے علاقے باتو برینڈم میں ایک ہوٹل میں منعقد کیا گیا تھا، جہاں صبح سے ہی ملازمت کے امیدواروں کی بڑی تعداد جمع ہونا شروع ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ امیدواروں کی قطاریں ہوٹل کے احاطے سے نکل کر مرکزی سڑک تک پہنچ گئی تھیں جبکہ شدید گرمی کے باوجود لوگ اپنی باری کا انتظار کرتے رہے۔
رپورٹس کے مطابق اس غیر معمولی رش کی سب سے بڑی وجہ فیکٹری کی جانب سے پیش کی جانے والی ابتدائی تنخواہ تھی۔ کامیاب امیدواروں کے لیے 3,500 رنگٹ ماہانہ ابتدائی تنخواہ کا اعلان کیا گیا تھا، جو بہت سے ملازمت کے متلاشی افراد کے لیے ایک پرکشش پیشکش سمجھی گئی۔
اس کے علاوہ کمپنی نے یہ بھی بتایا تھا کہ اسے 300 سے 500 تک پروڈکشن آپریٹرز اور ٹیکنیشنز کی اسامیاں پُر کرنی ہیں۔ یہی وجہ تھی کہ مختلف علاقوں سے بڑی تعداد میں افراد انٹرویو میں شرکت کے لیے پہنچے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک ہزار سے زیادہ افراد نے ان ملازمتوں کے حصول کے لیے درخواست دینے کی کوشش کی۔ امیدواروں میں نوجوان، تجربہ کار کارکنان اور بہتر روزگار کے مواقع تلاش کرنے والے افراد شامل تھے۔
اس واقعے کے بعد بعض حلقوں کی جانب سے یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کیا اتنی بڑی تعداد میں افراد کا ملازمت کے لیے جمع ہونا ملاکا میں بے روزگاری کی بلند شرح کی نشاندہی کرتا ہے۔ تاہم ریاستی حکومت نے اس تاثر کو مسترد کر دیا۔
ملاکا کے ایگزیکٹو کونسلر نگوے ہی سیم نے کہا کہ طویل قطاروں کا مطلب یہ نہیں کہ ریاست میں بے روزگاری کا مسئلہ سنگین ہے۔ ان کے مطابق ملاکا کی موجودہ بے روزگاری کی شرح تقریباً 2 فیصد ہے، جو ملائیشیا کی کم ترین شرحوں میں شمار ہوتی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ ریاستی حکومت مختلف اداروں خصوصاً سوشل سیکیورٹی آرگنائزیشن کے ساتھ مل کر کیریئر میلوں اور روزگار پروگراموں کا انعقاد کرتی رہتی ہے تاکہ شہریوں کو بہتر ملازمتوں تک رسائی حاصل ہو سکے۔
ان کا کہنا تھا کہ جب بھی کوئی کمپنی مسابقتی تنخواہ اور بہتر مراعات کے ساتھ ملازمتوں کا اعلان کرتی ہے تو امیدواروں کی بڑی تعداد کا آنا ایک فطری بات ہے۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ لوگ بہتر مواقع اور زیادہ آمدنی والی ملازمتوں میں دلچسپی رکھتے ہیں۔
دریں اثنا ملاکا کے وزیر اعلیٰ اب راوف یوسوہ بھی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے موقع پر پہنچے۔ انہوں نے اپنی ٹیم کو ہدایت دی کہ انتظار کرنے والے امیدواروں میں کھانا اور مشروبات تقسیم کیے جائیں تاکہ شدید گرمی میں انہیں کچھ سہولت فراہم کی جا سکے۔
ادھر ملاکا کے میئر شادان عثمان نے بتایا کہ انہیں ٹریفک کی روانی اور عوامی تحفظ سے متعلق شکایات موصول ہوئی تھیں، جس کے بعد وہ خود موقع پر پہنچے۔ انہوں نے فیکٹری انتظامیہ سے وضاحت طلب کی اور اس بات پر زور دیا کہ مستقبل میں ایسے بھرتی پروگراموں کے دوران امیدواروں کے آرام، حفاظت اور ٹریفک انتظامات کا بہتر خیال رکھا جائے۔
ماہرین کے مطابق اس واقعے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اگر کمپنیاں مناسب تنخواہوں اور واضح کیریئر مواقع کے ساتھ ملازمتیں پیش کریں تو روزگار کے خواہشمند افراد بڑی تعداد میں ان مواقع سے فائدہ اٹھانے کے لیے سامنے آتے ہیں۔ یہ صورتحال ملائیشیا کی لیبر مارکیٹ میں مسابقتی اجرتوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کرتی ہے۔
حالیہ برسوں میں ملائیشیا کے مختلف صنعتی شعبوں، خصوصاً الیکٹرانکس اور مینوفیکچرنگ سیکٹر میں ہنر مند اور نیم ہنر مند کارکنوں کی طلب میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ اسی وجہ سے کمپنیاں بہتر تنخواہوں اور مراعات کے ذریعے افرادی قوت کو اپنی جانب متوجہ کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
اس واقعے نے سوشل میڈیا پر بھی وسیع بحث کو جنم دیا، جہاں بعض صارفین نے اچھی تنخواہ والی ملازمتوں کی بڑھتی ہوئی طلب کی نشاندہی کی جبکہ دیگر نے امیدواروں کے نظم و ضبط اور صبر کی تعریف کی جو شدید گرمی کے باوجود اپنی باری کے انتظار میں کھڑے رہے۔

COMMENTS