کوالالمپور: ملائیشیا کے ملازمین کے مستقبل فنڈ (ای پی ایف) نے اعلان کیا ہے کہ یکم جولائی 2026 سے ملک بھر میں اس کے تمام کنٹری بیوشن (شراکت) ...
کوالالمپور: ملائیشیا کے ملازمین کے مستقبل فنڈ (ای پی ایف) نے اعلان کیا ہے کہ یکم جولائی 2026 سے ملک بھر میں اس کے تمام کنٹری بیوشن (شراکت) ادائیگی کاؤنٹرز مستقل طور پر بند کر دیے جائیں گے۔ اس فیصلے کے بعد اراکین اور آجر حضرات کو اپنی ادائیگیاں ڈیجیٹل یا متبادل ذرائع کے ذریعے کرنا ہوں گی۔
ای پی ایف کے مطابق یہ اقدام ادارے کی سروسز کو مزید جدید، محفوظ اور مؤثر بنانے کی پالیسی کا حصہ ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ ادائیگی کاؤنٹرز کی بندش سے اراکین یا کمپنیوں کی جانب سے شراکت جمع کروانے کے عمل پر کوئی منفی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ متعدد متبادل سہولیات پہلے ہی دستیاب ہیں۔
ای پی ایف نے واضح کیا کہ صرف ادائیگی اور ریمیٹنس کاؤنٹرز بند کیے جا رہے ہیں جبکہ دیگر سروس کاؤنٹرز معمول کے مطابق کام کرتے رہیں گے۔ اس کا مطلب ہے کہ اراکین اب بھی مختلف خدمات، رہنمائی اور دیگر امور کے لیے ای پی ایف کی برانچز کا دورہ کر سکیں گے، تاہم شراکت کی ادائیگی براہ راست کاؤنٹر پر ممکن نہیں ہوگی۔
ادارے کے مطابق اراکین اور آجر اپنی ادائیگیاں درج ذیل ذرائع سے جاری رکھ سکتے ہیں:
- کے ڈبلیو ایس پی آئی اکاؤن موبائل ایپ
- انٹرنیٹ بینکنگ پلیٹ فارمز
- بینک ایجنٹ کاؤنٹرز
- ای پی ایف سیلف سروس ٹرمینلز (ایس ایس ٹی)
- موبائل کے ڈبلیو ایس پی ٹیم اور ریلیشن شپ ایڈوائزری سروسز
ای پی ایف نے خاص طور پر کمپنیوں اور آجروں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ آئی اکاؤن (آجر) پورٹل استعمال کریں تاکہ شراکت کی ادائیگی زیادہ آسان، تیز اور منظم انداز میں مکمل ہو سکے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں ڈیجیٹل خدمات کے استعمال میں مسلسل اضافہ ہوا ہے اور زیادہ تر مالیاتی لین دین آن لائن پلیٹ فارمز کے ذریعے انجام دیے جا رہے ہیں۔ اسی رجحان کو مدنظر رکھتے ہوئے ای پی ایف اپنی خدمات کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھال رہا ہے تاکہ اراکین کو زیادہ سہولت فراہم کی جا سکے۔
ملائیشیا میں ای پی ایف لاکھوں ملازمین اور ہزاروں کمپنیوں کے لیے ریٹائرمنٹ بچت کا اہم نظام ہے۔ ہر ماہ ملازمین اور آجر دونوں کی جانب سے فنڈ میں شراکت جمع کروائی جاتی ہے جو مستقبل میں ریٹائرمنٹ کے بعد مالی تحفظ فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اسی وجہ سے ادائیگی کے نظام میں کسی بھی تبدیلی کا اثر بڑی تعداد میں افراد اور کاروباری اداروں پر پڑتا ہے۔
ای پی ایف نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ادائیگی کاؤنٹرز کی بندش کے باوجود تمام شراکتیں پہلے کی طرح جمع ہوتی رہیں گی اور اراکین کو خدمات تک رسائی میں کوئی رکاوٹ پیش نہیں آئے گی۔ ادارے کے مطابق مختلف ڈیجیٹل چینلز کے ذریعے ادائیگیوں کو مزید محفوظ، قابل رسائی اور مؤثر بنایا جا رہا ہے۔
یہ اقدام ملائیشیا میں سرکاری اور مالیاتی اداروں کی جانب سے جاری ڈیجیٹلائزیشن مہم کا حصہ بھی سمجھا جا رہا ہے، جس کے تحت عوامی خدمات کو زیادہ تر آن لائن پلیٹ فارمز پر منتقل کیا جا رہا ہے تاکہ وقت اور وسائل کی بچت ممکن ہو سکے۔

COMMENTS