لاہور: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر مبینہ انسانی اسمگلنگ کی ایک کوشش ناکام بناتے ہوئے پا...
لاہور: وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے لاہور کے علامہ اقبال انٹرنیشنل ائیرپورٹ پر مبینہ انسانی اسمگلنگ کی ایک کوشش ناکام بناتے ہوئے پانچ مسافروں کو آف لوڈ کر دیا۔ حکام کے مطابق یہ کارروائی امیگریشن چیکنگ کے دوران مشکوک سفری سرگرمیوں کی نشاندہی کے بعد عمل میں لائی گئی۔
ایف آئی اے کے ترجمان کے مطابق امیگریشن حکام نے ابتدائی جانچ کے دوران ایک مسافر کو مزید تفتیش کے لیے روکا۔ ثانوی پوچھ گچھ کے دوران ایسے شواہد سامنے آئے جن سے ایک منظم نیٹ ورک کا انکشاف ہوا جو مبینہ طور پر افراد کو ملائیشیا کے ذریعے مشرقی تیمور اور نیوزی لینڈ بھجوانے کی منصوبہ بندی کر رہا تھا۔
تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والے ڈیجیٹل شواہد کی مدد سے مزید چار مسافروں کی نشاندہی کی گئی جن کا تعلق اسی نیٹ ورک سے بتایا گیا۔ اس طرح مجموعی طور پر پانچ افراد کو مشتبہ سرگرمیوں کی بنیاد پر سفر سے روک دیا گیا۔
ایف آئی اے حکام کے مطابق اس نیٹ ورک کا ایک سہولت کار ملائیشیا میں موجود تھا جو مبینہ طور پر مسافروں کے سفری انتظامات اور مختلف مراحل کی نگرانی کر رہا تھا۔ تفتیش میں یہ بھی سامنے آیا کہ ہر مسافر نے غیر قانونی سفری انتظامات کے لیے تقریباً 50 لاکھ روپے ادا کیے تھے۔
حکام کا کہنا ہے کہ منصوبے کے تحت مسافروں کو پہلے ملائیشیا پہنچنا تھا، جہاں سے انہیں مزید سفری دستاویزات حاصل کرنی تھیں۔ بعد ازاں انہیں مشرقی تیمور اور نیوزی لینڈ منتقل کرنے کا انتظام کیا جانا تھا۔ ایف آئی اے کے مطابق اس نوعیت کے نیٹ ورک اکثر مختلف ممالک کے ویزا قوانین اور سفری راستوں کا استعمال کرتے ہوئے غیر قانونی نقل و حرکت کی کوشش کرتے ہیں۔
انسانی اسمگلنگ دنیا بھر میں ایک سنگین مسئلہ تصور کی جاتی ہے اور متعدد ممالک اس کے خلاف سخت اقدامات کر رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی حالیہ برسوں کے دوران انسانی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں اضافہ کیا گیا ہے، خصوصاً ائیرپورٹس اور بارڈر پوائنٹس پر نگرانی کو مزید مؤثر بنایا گیا ہے۔ اس کا مقصد غیر قانونی سفری نیٹ ورکس کی روک تھام اور شہریوں کو دھوکہ دہی پر مبنی سرگرمیوں سے محفوظ رکھنا ہے۔
ایف آئی اے کے مطابق آف لوڈ کیے گئے تمام پانچ مسافروں کو مزید قانونی کارروائی اور تحقیقات کے لیے ایف آئی اے اینٹی ہیومن ٹریفکنگ سرکل لاہور کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ ادارہ اس بات کا جائزہ لے رہا ہے کہ آیا اس نیٹ ورک میں مزید افراد یا سہولت کار بھی شامل ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ انسانی اسمگلنگ سے متعلق مقدمات میں صرف مسافروں ہی نہیں بلکہ ان افراد کے خلاف بھی کارروائی کی جاتی ہے جو غیر قانونی سفری راستے فراہم کرنے یا جعلی دستاویزات کے انتظام میں ملوث پائے جائیں۔ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد مزید تفصیلات سامنے آنے کا امکان ہے۔

COMMENTS