راناؤ: ملائیشیا کے ضلع راناؤ میں ایک 37 سالہ غیر ملکی کارکن کو اپنی اہلیہ پر مبینہ تشدد کے الزام میں چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر...
راناؤ: ملائیشیا کے ضلع راناؤ میں ایک 37 سالہ غیر ملکی کارکن کو اپنی اہلیہ پر مبینہ تشدد کے الزام میں چار روزہ ریمانڈ پر پولیس کے حوالے کر دیا گیا ہے۔ پولیس کے مطابق ملزم سے مزید تفتیش کے لیے فوجداری ضابطہ کار کی دفعہ 117 کے تحت ریمانڈ حاصل کیا گیا۔
حکام کے مطابق ملزم کو 5 جون کو راناؤ ڈسٹرکٹ پولیس ہیڈکوارٹر (آئی پی ڈی راناؤ) کے کرمنل انویسٹی گیشن ڈیپارٹمنٹ کے اہلکاروں نے گرفتار کیا تھا۔ گرفتاری ایک گھریلو تشدد کے مقدمے کی تحقیقات کے سلسلے میں عمل میں آئی۔
پولیس کا کہنا ہے کہ مقدمے کی تحقیقات تعزیراتِ ملائیشیا کی دفعات 323 اور 326 اے کے تحت کی جا رہی ہیں۔ ان دفعات کا تعلق جان بوجھ کر جسمانی نقصان پہنچانے اور شریکِ حیات کے خلاف تشدد سے ہے۔ اگر الزامات ثابت ہو جائیں تو قانون کے مطابق مناسب کارروائی کی جا سکتی ہے۔
تحقیقات کا آغاز اس وقت ہوا جب 44 سالہ خاتون، جو گھریلو خاتون ہیں، نے پولیس میں شکایت درج کرائی۔ خاتون کے مطابق 4 جون کی شام ان کے اور شوہر کے درمیان گھر میں ایک تنازع پیدا ہوا جس کے بعد مبینہ طور پر تشدد کا واقعہ پیش آیا۔
شکایت میں خاتون نے الزام لگایا کہ ان کے شوہر نے جھگڑے کے دوران ان کی ٹھوڑی پر ضرب لگائی، گلا دبانے کی کوشش کی اور انہیں دھکا دیا۔ یہ واقعہ ایک لکڑی کی مل (سا مل) کے کارکنوں کی رہائشی بستی میں پیش آیا جہاں دونوں مقیم تھے۔
خاتون نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ یہ پہلا واقعہ نہیں تھا بلکہ اس سے قبل بھی اسی نوعیت کے واقعات پیش آ چکے ہیں۔ ان کے مطابق انہوں نے پولیس سے رجوع اس لیے کیا کیونکہ وہ مزید مبینہ جارحانہ رویہ برداشت کرنے کے قابل نہیں رہیں۔
پولیس نے شکایت موصول ہونے کے بعد فوری کارروائی کرتے ہوئے ایک تفتیشی افسر کی سربراہی میں ٹیم تشکیل دی۔ اس ٹیم نے 5 جون کی شام تقریباً 5 بج کر 34 منٹ پر کارکنوں کی رہائش گاہ پر کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ شخص کو حراست میں لے لیا۔
حکام کے مطابق گرفتار شخص انڈونیشیا کا شہری ہے۔ ابتدائی کارروائی کے بعد اسے مزید تفتیش کے لیے راناؤ پولیس اسٹیشن منتقل کر دیا گیا جہاں اسے لاک اپ میں رکھا گیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق تفتیش ابھی جاری ہے اور مختلف پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ملزم اور ممکنہ گواہوں کے بیانات ریکارڈ کیے جا رہے ہیں جبکہ واقعے سے متعلق تصاویر، فنگر پرنٹس اور دیگر شواہد بھی اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ کیس کی مکمل تصویر سامنے لائی جا سکے۔
تحقیقاتی دستاویزات کے مطابق پولیس واقعے کے تمام حقائق جاننے کی کوشش کر رہی ہے اور شواہد کی بنیاد پر مزید قانونی کارروائی کا فیصلہ کیا جائے گا۔ حکام نے واضح کیا ہے کہ مقدمے کی تحقیقات قانون کے مطابق غیر جانبدارانہ انداز میں جاری رہیں گی۔
متاثرہ خاتون نے تفتیشی حکام کو یہ بھی بتایا کہ انہیں اپنی سلامتی کے حوالے سے خدشات لاحق ہیں اور وہ فی الحال گھر واپس جانے سے خوفزدہ ہیں۔ پولیس اس پہلو کو بھی تحقیقات کا حصہ بنا رہی ہے تاکہ متاثرہ خاتون کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔
گھریلو تشدد ملائیشیا سمیت دنیا کے مختلف ممالک میں ایک اہم سماجی مسئلہ تصور کیا جاتا ہے۔ ماہرین کے مطابق متاثرہ افراد کی جانب سے بروقت شکایت درج کرانا اور قانونی مدد حاصل کرنا ایسے معاملات کی روک تھام میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ اسی مقصد کے تحت قانون نافذ کرنے والے ادارے گھریلو تشدد سے متعلق شکایات کو سنجیدگی سے لیتے ہیں۔
پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کو گھریلو تشدد یا اسی نوعیت کے واقعات کے بارے میں معلومات ہوں تو وہ متعلقہ حکام کو اطلاع دیں تاکہ متاثرہ افراد کو بروقت مدد فراہم کی جا سکے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

COMMENTS